کیپٹن کرنل شیر خان شہید، نشانِ حیدر کی لازوال قربانی پاکستان کی عسکری تاریخ کا روشن باب اور آنے والی نسلوں کے لیے جرات، ایثار اور حب الوطنی کی عظیم مثال ہے۔ ہم اپنے تمام شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں جن کی قربانیوں کی بدولت آج پاکستان امن، آزادی اور خودمختاری کے ساتھ قائم ہے۔ قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہے۔
بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے دانہ سر میں پیش آنے والے المناک مسافر بس حادثے پر دلی رنج و غم ہے۔ جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں متعلقہ اداروں کو فوری امدادی کارروائیاں تیز کرنے، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن معاونت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اس مشکل گھڑی میں حکومت بلوچستان متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
آج میں ابراہیم سے مل کر بہت خوش ہوا ہوں، اس کی معصومیت، ذہانت، حوصلہ اور زندگی سے بھرپور جذبے نے دل کو بے حد متاثر کیا۔ اللہ تعالیٰ اس کی عمر دراز کرے اور اس کو اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون بنا کر رکھے۔ آمین
علی بھائی! آپ ایک صالح باپ کی صالح اولاد ہیں، اولاد کا تحفہ خالص اللہ تعالیٰ کی دین ہوتا ہے اور خاص طور پر جب وہ اللہ تعالی کی طرف سے اسپیشل بچہ ہو۔ ناشکرے لوگ ہی اللہ تعالیٰ کی نعمت پر غصہ کرتے ہیں اور پریشان ہوتے ہیں۔ اللہ پاک آپ کو اور آپ کے بچوں کو ڈھیر ساری خوشیاں نصیب کرے۔ آمین
پانی کسی قوم پر دباؤ ڈالنے کا ہتھیار نہیں بلکہ پوری انسانیت کا بنیادی حق ہے۔ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی، قانونی اور پابند معاہدہ ہے جسے کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر معطل یا غیر مؤثر نہیں بنا سکتا۔ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ علاقائی امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ پاکستان اپنے آبی حقوق، دریائے سندھ اور اپنے 24 کروڑ عوام کے حقِ آب کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، سفارتی اور قومی فورم پر بھرپور آواز بلند کرتا رہے گا۔
لاہور میں اندوہناک حادثہ میں 15 بچوں کی تکلیف دہ ناگہانی موت پر دل بہت رنجیدہ ہے۔ غم کی اس گھڑی میں بلوچستان کی حکومت اور عوام سوگوار والدین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کلیوں کے والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
عالمی یومِ پارلیمان ہمیں اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ مضبوط پارلیمان ہی جمہوریت، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بنیاد ہوتی ہے بلوچستان حکومت شفاف، جوابدہ اور عوام دوست طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے پارلیمانی اداروں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم پر قائم ہے۔ میری دعا ہے کہ ہماری پارلیمانی روایات مزید مستحکم ہوں اور پاکستان جمہوری استحکام، قومی یکجہتی اور عوامی خوشحالی کی منزلیں طے کرتا ہے۔
بلوچستان کی تحصیل کنگری، ضلع موسیٰ خیل کے زلزلہ متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا جامع جائزہ لیا جا رہا ہے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے حکومت بلوچستان ہر متاثرہ شہری کی بحالی تک ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔ ریلیف، بحالی اور تعمیرِ نو کے تمام اقدامات شفافیت، تیز رفتاری اور مؤثر انداز میں جاری رکھے جائیں گے، انشاء اللہ۔
کراچی میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے کیمپ پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ وطن کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کرنے والے بہادر جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند فرمائے، اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے اور زخمیوں کو جلد صحتِ کاملہ نصیب فرمائے دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ پوری قوم اپنی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان شاء اللہ، پاکستان دشمن عناصر اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے خلاف خاران اور مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کی دو کامیاب کارروائیاں ہمارے بہادر جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، جرات اور عزم کا مظہر ہیں۔ گزشتہ دو روز کے دوران 8 دہشت گرد، جن میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا، اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ میں اپنی دلیر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ پوری قوم ان جانبازوں کے ساتھ کھڑی ہے جو بلوچستان کے امن، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور پاکستان کی سلامتی کے لیے ہر محاذ پر دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنا رہے ہیں۔ پاکستان سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ پوری قوت، ثابت قدمی اور قومی عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔ انشاء اللہ۔
الحمدللہ! بلوچستان بھر میں محرم الحرام کے تمام جلوس اور مجالس پرامن اور خیر و عافیت سے اختتام پذیر ہوئے ، میں ضلعی انتظامیہ، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں، رضاکاروں، علمائے کرام، منتظمینِ مجالس و جلوس اور عوام کا تہہ دل سے مشکور ہوں جن کے تعاون، ذمہ داری اور بروقت کوآرڈینیشن سے گزشتہ برسوں کی نسبت بہتر انتظامات یقینی بنائے گئے اللہ تعالیٰ ہمارے صوبے اور وطنِ عزیز کو ہمیشہ امن، اتحاد اور استحکام کی نعمت سے مالامال رکھے۔ آمین۔
حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی حق، انصاف، صبر اور استقامت کی لازوال علامت ہے۔ یومِ عاشور ہمیں ظلم کے سامنے ڈٹ جانے، سچائی پر قائم رہنے اور اتحاد و اخوت کو فروغ دینے کا درس دیتا ہے آئیے اس مقدس دن پر اپنے معاشرے میں امن، رواداری، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
شہید شبیر بلوچ محض ایک باوردی اہلکار نہیں تھے بلکہ وہ کسی ماں کے لختِ جگر، کسی بہن بھائی کے سہارے اور اپنے دوستوں کے ایک مخلص و وفادار ساتھی تھے۔ انہیں جس بے رحمی اور سفاکیت کے ساتھ پتھر مار مار کر شہید کیا گیا، وہ ایسا دلخراش سانحہ ہے جو انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے ان کی معصوم ماں نے انصاف کے حصول کے لیے دو طویل برس صبر اور استقامت کے ساتھ انتظار کیا بالآخر قانون نے اپنا راستہ اختیار کیا عدالت نے حقائق کی بنیاد پر فیصلہ سنایا اور قاتلوں کو سزا ہوئی یہ وہ لمحہ تھا جب ایک غمزدہ اور دکھی ماں کے دل کو برسوں بعد کسی حد تک سکون اور قرار نصیب ہوا اور اسے یہ احساس ملا کہ انصاف میں تاخیر ضرور ہوئی، مگر انصاف ملا ضرور۔
دو سالہ قانونی جدوجہد کے بعد بالآخر بلوچستان کے فرزند، شہید شبیر بلوچ، کو عدالت سے انصاف مل گیا۔ گوادر شہر میں دورانِ ڈیوٹی بی وائے سی کے مشتعل مظاہرین نے ماہ رنگ لانگو کی قیادت میں انہیں پتھر مار مار کر شہید کیا تھا۔ آج عدالت کی جانب سے ماہ رنگ لانگو اور ان کے ساتھیوں کو سزا سنائے جانے کے بعد حکومت بلوچستان کا یہ مؤقف درست ثابت ہوا کہ پرامن احتجاج کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے، تشدد کو فروغ دینے اور ریاستی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے عناصر دراصل دہشت گردی کے سہولت کار ہیں۔ حکومت بلوچستان شہید شبیر بلوچ کے قاتلوں کو سزا ملنے پر ان کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کرتی ہے اور انہیں یقین دلاتی ہے کہ شہید کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ بلوچستان میں دہشت گردوں، ان کے ہمدردوں، سہولت کاروں اور حمایتی عناصر کے خلاف ریاستی جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔
کوئٹہ، 21 جون 2026:- وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اتوار کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری کے بعد اپنے خطاب کا آغاز امید، عزم اور ترقی کے پیغام سے کرتے ہوئے ایک پُراثر شعر سے کیا جسے ایوان میں موجود اراکین اسمبلی نے بھرپور انداز میں سراہا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا:
"جب آنکھوں میں ارمان لیا
منزل کو اپنا مان لیا
پھر مشکل اور آسان ہے کیا؟
جب ٹھان لیا بس ٹھان لیا"
ان اشعار کے ذریعے وزیر اعلیٰ نے اپنی حکومت کے عزم، عوامی خدمت کے جذبے اور بلوچستان کی ترقی کے لیے اختیار کیے گئے راستے کا اظہار کیا۔ ان کے ابتدائی کلمات پر حکومتی و اپوزیشن اراکین سمیت پورے ایوان نے ڈیسک بجا کر بھرپور تحسین پیش کی وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں صوبے کی ترقی، تعلیم، صحت، گڈ گورننس، میرٹ اور امن و امان کے حوالے سے حکومتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کو ترقی، خوشحالی اور پائیدار امن کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے میر سرفراز بگٹی نے اپنی تقریر کا اختتام "بلوچستان کا عہد" کے عنوان سے ایک ولولہ انگیز اس آزاد نظم کے ذریعے کیا،
سنو اے خاکِ بلوچستان! گواہ رہنا آج کی رات
ہم اپنے خون سے لکھتے ہیں امن کی ایک نئی بات
جنہوں نے ماؤں سے بیٹے چھینے، جنہوں نے گھر ویران کیے
جنہوں نے نفرت کے موسم بوئے، جنہوں نے خواب پریشان کیے
ہم ان کو یہ پیغام دیتے ہیں، سن لیں وہ پہاڑوں کے پار
نہ یہ دھرتی جھکنے والی ہے، نہ یہ پرچم ہوگا شرمسار
تم خوف کے سوداگر ٹھہرے، ہم امید کے رکھوالے ہیں
تم نفرت کے اندھیرے ہو، ہم امن کے اجالے ہیں
تم جتنی آگ لگاؤ گے، ہم اتنے گلزار اگائیں گے
تم جتنے اسکول جلاؤ گے، ہم اتنے تعلیم گھر بنائیں گے
تم گولی سے جو جیتو گے، وہ جیت ہمیشہ ہارے گی
کیونکہ قوموں کی تقدیر آخر قلم کی نوک سنوارے گی
یہ دھرتی نوابوں کی بھی ہے، مزدوروں اور کسانوں کی بھی
یہ بلوچوں کی، پشتونوں کی، پنجابی کی ہر ماں کے ارمانوں کی بھی
ہم عہد کرتے ہیں اس ایوان میں،
ہم شہیدوں کے مقدس خون کی قسم کھاتے ہیں
ہم بیواؤں کی آہوں اور سسکیوں کی قسم کھاتے ہیں
ہم ماؤں کے مقدس آنسوؤں کی قسم کھاتے ہیں
ہم بوڑھے باپ کی بے بسی اور خاموش دکھوں کی قسم کھاتے ہیں
دہشت گردوں کے شکست تک سکون نہ کرنے کی قسم کھاتے ہیں
اور جب تاریخ لکھی جائے گی آنے والی نسلوں کے لیے
تو لکھا جائے گا:
کہ ایک قوم ڈٹی رہی تھی اندھیروں کے مقابلے میں
کہ ایک قوم کھڑی رہی تھی دہشت کے زلزلوں کے مقابلے میں
اور آخرکار جیت امن کی ہوئی تھی
اور آخر کار جیت پاکستان کی ہوئی تھی۔
@PakSarfrazbugti
فادرز ڈے کے موقع پر میں اپنے والد محترم غلام قادر بگٹی کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں باپ محبت، قربانی، رہنمائی اور استقامت کا وہ عظیم استعارہ ہے جو اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی آسائشوں اور خواہشات تک کو قربان کر دیتا ہے۔ ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد مضبوط خاندان اور ایک باکردار باپ کی تربیت پر استوار ہوتی ہے آج ہم ان تمام والدین، بالخصوص والد صاحب کی بے لوث محبت، انتھک محنت اور ان گنت قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں جن کی دعائیں اور رہنمائی ہماری زندگیوں کا قیمتی سرمایہ ہیں اللہ تعالیٰ تمام والدین کو صحت، خوشی اور درازیٔ عمر عطا فرمائے اور جو والدین اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ان کی مغفرت فرمائے۔آمین
A new chapter of resilience begins in Hanna Urak.
This week, the housing handover ceremony marked a meaningful step forward for families still recovering from the devastating impact of the 2022 floods. With more than half of the 700 planned climate-resilient homes now completed, more families are beginning to rebuild their lives with greater safety, dignity, and hope.
Supported by the 🇩🇪 Government of Germany, through @KfW_Islamabad, and in partnership with @dpr_gob, #UNDPinPakistan remains committed to supporting community-led recovery and long-term climate resilience and sustainable development.
🔗 Learn more: https://t.co/WCJveio6Zj
#FloodRecoveryProgramme #BuildforwardBetter #ClimateResilience
پاکستان کو جنگ کے خطرات سے باحفاظت نکالنے کے بعد چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے اللہ کے فضل و کرم سے دنیا کو ایک بہت بڑی تباہی سے بچاتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان سیز فائر میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی عالمی اور سفارتی تنہائی کے پراپیگنڈہ کا جس تیزی کے ساتھ خاتمہ ہوا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہے اور ہم مستقبل کے ہر چیلنج سے نمٹنے کے لئے اپنی عسکری قیادت پر بھرپور یقین رکھتے ہیں۔
ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ خون کا ایک عطیہ کسی انسان کے لیے زندگی اور امید کا پیغام بن سکتا ہے رضاکارانہ خون عطیہ کرنے والے افراد انسانیت کے حقیقی محسن ہیں جو اپنی بے لوث خدمت سے قیمتی جانیں بچاتے ہیں حکومت بلوچستان عوام کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی، محفوظ خون کی دستیابی اور پیپلز ایئر ایمبولینس سروس کے ذریعے زندگیوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ آئیے خون عطیہ کرنے کی روایت کو فروغ دے کر انسانیت کی خدمت میں اپنا کردار ادا کریں۔