بغیر کسی پروٹوکول اور خاطر خواہ تنخواہوں کے وطن کی حفاظت کرنے والے ان گمنام بہادر سپوتوں کو سلام
ایک سپاہی کو شکست دینا کافروں اور خارجیوں کے بس کی بات نہیں!
سپاہی غلام اکبر، جنہیں بلوچستان FC میں جعفر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اسپن بولدک–چمن سرحد پر اپنی پوسٹ کی ذمہ داری نبھا رہے تھے، جہاں جنگ بندی کی آڑ میں خوارج نے حملہ کیا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود غلام اکبر نے ہمت نہ ہاری۔ انہیں چار گولیاں لگیں، حتیٰ کہ ایک گولی چہرے پر بھی لگی، مگر وہ اپنی پوسٹ پر ڈٹے رہے، نہ پوسٹ چھوڑی اور نہ سرنڈر کیا۔
انہوں نے اپنے شہید ساتھی طلحہ کے جسدِ خاکی کی بھی حفاظت کی۔ ڈرون کے ذریعے رابطے کے دوران ان کا حوصلہ اور اپنے ساتھیوں کے لیے فکر قابلِ فخر تھی۔ انہوں نے قیادت سے اپنے شہید ساتھیوں کے جسدِ خاکی واپس لانے کی اپیل کی۔
سپاہی غلام اکبر تازہ دستوں کی آمد تک پوسٹ نمبر 42/5 کی حفاظت تنِ تنہا کرتے رہے۔ یہ صرف بہادری نہیں، بلکہ فرض، وفاداری اور اپنے ساتھیوں سے بے مثال محبت کی داستان ہے۔
قوم کو اپنے اس بہادر غازی پر فخر ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ سپاہی غلام اکبر کو مکمل صحت و تندرستی عطا فرمائے، ان کے شہید ساتھیوں کے درجات بلند فرمائے اور وطنِ عزیز کی حفاظت کرنے والے ہر جوان کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔
آج میری والدہ کی آٹھویں برسی ہے 11 ستمبر 2018 کو دوپہر ایک بجے ڈاکوؤں نے ڈکیتی کے دوران میری والدہ کو شہید کر دیا تھا۔ 😭😭
دعا ہے اللہ تعالیٰ میری والدہ کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے۔ آمین! 🤲
@MobilyPay facing problems in transaction since 2 days, called 3 times customer service and also emailed yesterday but no response till yet. Irony is that I can’t even use my own money and return it back to my other account. Old customer now regretting using mobilypay.
@XSupport Please review and restore X account @ZadiRana_lhr . He is a political worker and social media activist and has never intentionally violated X rules. His account was suspended without any prior notice or warning We strongly believe this was an error Please conduct
حسد کی انتہاء
کچھ دن پہلے اس بھائی نے اپنا چھوٹا سا کام شروع کیا کپ کیک کا
اور بائک پر چھوٹا سا بکس رکھ کر پیپلز کالونی مارکیٹ بٹ پوری والے کے آگے کھڑے ہو گئے
دیکھتے دیکھتے گوجرانوالہ کی عوام نے بھائی کو بہت سپورٹ کیا
جب چار کسٹمر آنے لگ گئے تو پیچھے موجود دوکان داروں کو مارے حسد کے مرچیں لگنا شروع ہوگئیں اور بھائی کو وہاں سے نکال دیا
اب یہ بھائی بہت پریشان ہیں ویڈیو میں نیو لوکیشن بتائی ہے بھائی کو کھل کے سپورٹ کریں تاکہ بھائی کی پریشانی ختم ہو۔
کل زیارت کی سرزمین نے FC کے 16 جوانوں کو وطن پر قربان ہوتے دیکھا۔
نہ کوئی احتجاج ہوا،
نہ سوشل میڈیا پر شور مچا،
نہ کسی نے موم بتیاں جلائیں،
نہ کسی نے یہ پوچھا کہ "یہ بھی تو کسی کے بچے تھے۔"
شاید وردی پہننے والوں کے بچے، بچے نہیں ہوتے…
شاید ان کے ماں باپ کا دکھ، دکھ نہیں ہوتا۔
شاید شہید ہونے والے جوان Children of a Lesser God ہوتے ہیں۔
لیکن ذرا اُن گھروں کا تصور کیجیے جہاں آج دروازے پر دستک کا انتظار ختم ہو گیا ہے۔
جہاں ایک ماں کا بیٹا واپس نہیں آئے گا،
ایک باپ کا سہارا چھن گیا،
ایک بہن کا بھائی ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا،
اور کسی بچے کا "ابو کب آئیں گے؟" ہمیشہ کے لیے بے جواب رہ گیا۔
یہ جوان بھی خواب رکھتے تھے۔
یہ بھی زندگی سے محبت کرتے تھے۔
کسی کا دوست تھے، کسی کے بھائی، کسی کے شوہر، کسی کے بیٹے۔
مگر انہوں نے وردی پہنی تو اپنی جان وطن کے نام لکھ دی۔
اور عجیب بات ہے…
کل تک جو لوگ کہتے تھے:
"پولیس اور لیویز ہی کیوں مرتی ہیں؟ FC کیوں نہیں مرتی؟"
آج FC کے 16 جنازے اٹھے ہیں۔
اب شاید سوال بدل جانا چاہیے:
کیا شہید کی وردی دیکھ کر اس کی قربانی کی قیمت بدل جاتی ہے؟
دہشت گردی کا شکار ہونے والا چاہے پولیس کا جوان ہو، لیویز کا سپاہی ہو یا FC کا جوان—
خون سب کا سرخ ہے،
ماؤں کا درد سب کا ایک ہے،
اور شہادت سب کی ایک جیسی عظیم ہے۔
مگر ان چراغوں کے پیچھے 16 خاندانوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل چکی ہیں۔
اے وطن کے محافظو!
ہم شاید تمہاری قربانی کا حق ادا نہ کر سکیں،
مگر تمہیں بھولیں گے نہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے،
ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے،
اور ہمارے وطن کو امن عطا فرمائے۔ آمین۔ 🇵🇰🖤
@XSupport Please review and restore X account @Aadiiroy2. He is a political worker and social media activist and has never intentionally violated X rules. His account was suspended without any prior notice or warning We strongly believe this was an error Please conduct a manual review and restore his account immediately. His voice and years of work on this platform matter