کپتان شوکت خانم ہسپتال کے
ڈاکٹرز کو حکم دیتے ہوئے🚨🔥
" اپ نے کبھی یہ نہیں دیکھنا کہ یہ شخص امیر ہے یا غری�� ، انکی کپڑے پرانے ہے یا نئے اس چیز کی فکر نہیں کرنی ۔
بس آپ نے دیکھنا ہے کہ ہسپتال میں ایک انسان آیا ہے 💔����
اوریا مقبول جان کے جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ!!
جوڈیشل مجسٹریٹ نے تقریباً دو گھنٹے دلائل سنے اور ایف آئی اے کوئی بھی ثبوت پیش نہ کر سکا! امید ہے آج مقدمے سے ڈسچارگی ہو جائے گئی وگرنہ ضمانت کی طرف جانا پڑے گا!!
An eyeopener video
On the one hand, the poor people of Pak are struggling to survive, while on the other hand, the ruling politicians & army generals are living a luxurious life abroad.
Who is responsible for this poor Awaam?
#FailedStatePakistan
بنوں میں امن مارچ کے شرکاء پر فائرنگ کا مجھے اس کے علاوہ کوئی مقصد سمجھ نہیں آتا کہ اپنی مٹھیوں سے سرکتی ہوئی طاقت بچانے کے لیے پاکستان کی فوجی قیادت خیبر پختونخواہ کو آگ میں دھکیل کر اب یہاں نفرت کی سیاست کو فروغ دینا چاہتی ہے ورنہ جو گھر سے نکلے ہی امن کے نام پر ہیں ان پر گولیاں برسا کر انہیں کس سے محبت کا درس دینا مقصود ہے؟
کونسی پالیسی ہے یہ کہ پہلے سیف پیسج فراہم کرو، پھر واپس لاکر بساؤ، پھر ان کو مارنے کے بہانے بے گناہوں کا خون بہاؤ، وہ اپنے خون کا حساب مانگنے نکلیں تو اور گولیاں چلاؤ۔ اور خون بہاؤ۔۔ چالیس سال سے یہی ہی کھیل رچایا جارہا ہے، لیبل بدل بدل کے ایک ہی سودا ہے جو ہمارے خون کی قیمت پر بیچا جاتا ہے۔ دو سال سے ہم کہہ کہہ تھک گئے ہیں کہ مزید جنازے اٹھانے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ کسی کے دل میں خلوص کی رمق بھی ہو تو دو سال کم عرصہ نہیں ہوتا اس بات کی طرف توجہ کرنے کے لئے کہ جس کا عندیہ آپ ��و ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں امن کا نعرہ لگاتی عوام دے رہی ہو۔
نیت کا کھو�� ہی آپ کو بےخبر رکھ سکتا تھا یا پھر شریکِ جُرم ہونا۔ اور اگر کوئی آخری گمان رہ بھی گیا تھا اس بات میں تو آج وہ بھی زائل ہوا؛ تم ہو شریکِ جرم!
تم شریکِ جُرم نا ہوتے تو حالات کو سانحات کی نہج پر ہی نہ آنے دیتے۔ تم شریکِ جُرم نہ ہوتے تو ہماری پکار کو دیوانے کے بڑ کہہ کر نہ جھٹلاتے۔ تم شریکِ جُرم نہ ہوتے تو ہمارے ہاتھوں میں بغاوت اور غداری کے پرچے نہ ہوتے۔ تم شریکِ جُرم نہ ہوتے تو تمہاری آستینوں کے سانپ ہماری گلیوں میں اژدھوں کیطرح نہ پھنک رہے ہوتے۔ تم لائے ہو یہ آگ ہماری دہلیز پر اور اب تم مصر ہو کہ ہم مان لیں کہ تم اسے بجھاؤ گے؟
اپنے آنگن کے پھول تو اپنے خون سے سینچے تھے ہ�� نے، کونسی قیمت تھی جو اپنی خوشحالی کی ادا نہیں کی تھی۔۔ جو مانگا تم نے، دان دیا۔ دھن دولت، طاقت عزت۔۔ کیا نہیں دیا اس قوم نے تمہیں؟
بدلے میں فقط ایک در و دیوار کی حفاظت کا تقاضہ تھا تم سے، تم نقب زنوں کے سہولتکار بن گئے۔۔ ہمارے قاتلوں کے آلہ کار بن گئے؟ تم۔ میرے قاتل میرے دلدار، تم ہی میری مٹی کے غدار بن گئے۔۔ میں نہیں کہتا آفیشل میٹنگز کا احوال لے آؤ باہر، کیا تمہارے سامنے پولیس افسر منت نہیں کررہے آج کہ ہمارے راستے کی ایک ہی رکاؤٹ ہے؛ ہمارے محافظ۔ یہ کہ ہم اپنے شہر بسانا بھی جانتے ہیں، بچانا بھی۔ بس ایک تم اپنے پنجے نکال لو۔
بس ایک تم ہماری گردن میں گڑے اپنے دانت نکال لو۔
مگر تم تو شریکِ جُرم ہو۔ تم ہی تو میرے مجرم ہو!
یہ تصویر پاکستان کی 77 سالہ تاریخ کی چند بہترین تصاویر میں سے ایک ہے۔ اس تصویر میں سابق صدر پاکستان عارف علوی اپنے عہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد دوبارہ اپنے پروفیشن میں چلے گئے ہیں اور انہیں اس بات کی کوئی عار نہیں کہ وہ سابق صدر کا پروٹوکول ہونے کے باوجود مریضوں کو ٹریٹ کررہے ہیں۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پانچ سال صدر رہنے کے باوجود نہ تو علوی ص��حب نے پانامہ، لندن، دبئی میں جائیدادیں بنائیں، نہ ہی سوئیٹزرلینڈ میں آفشور اکاؤنٹ میں پیسہ رکھوایا۔
ذرا سوچیں، زرداری، نوازشریف، شہبازشریف، مریم نواز، بلاول جب اپنے عہدے چھوڑتے ہیں تو وہ اپنے کس پروفیشن میں واپس جائیں گے؟ جی ہاں، درست سمجھے۔ وہ جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر چار کے ذریعے واپس جرنیلوں کے بیڈرومز میں جائیں گے جہاں ان کے بوٹ چاٹ کر دوبارہ اقتدار میں واپس آنے کی کوشش کریں گے۔
تحریک انصاف ہی وہ واحد جماعت ہے جس کی قیادت پاکستان کو دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی طرح مثبت اور بہتر سیاسی روایات دے سکتی ہے۔