گرین ٹریکٹر سکیم کے تحت میرا سیکم میں 385 ٹریکٹر نکلا حکومت پنجاب کی جانب سے یہ کسانوں کے لیے بہترین اقدام ہے شکریہ حکومت پنجاب محترم مریم نواز صاحبہ ❤️
آج کی شب میں پریشاں ہوں تو یوں لگتا ہے
آج مہتاب کا چہرہ بھی ہے اُترا اُترا
― پروین شاکر
aaj ki shab main pareshan houn to youn lagta hay ~ aaj mehtaab ka chehra bhi hay utra utra
― Parveen Shakir
مجھ سے اونچا ترا قد ہے، حد ہے
پھر بھی سینے میں حسد ہے؟ حد ہے
میرے تو لفظ بھی کوڑی کے نہیں
تیرا نقطہ بھی سند ہے، حد ہے
تیری ہر بات ہے سر آنکھوں پر
میری ہر بات ہی رد ہے، حد ہے
عشق میری ہی تمنا تو نہیں
تیری نیت بھی تو بد ہے، حد ہے
زندگی کو ہے ضرورت میری
اور ضرورت بھی اشد ہے، حد ہے
بے تحاشہ ہیں ستارے لیکن
چاند بس ایک عدد ہے، حد ہے
اشک آنکھوں سے یہ کہہ کر نکلا
یہ ترے ضبط کی حد ہے؟ حد ہے
روک سکتے ہو تو روکو جاذلؔ
یہ جو سانسوں کی رسد ہے، حد ہے
جیم جاذل
Remembering Qateel Shifai on his death anniversary.
Born into a traditional business family with no history of poetry, he rose to become the lyricist who brought classical verse to mainstream film music. He published 14 books of poetry - including Haryaali, Guftagoo, Mutriba, and Bargad - which set a lasting style for Urdu songwriting.
#QateelShifai #UrduPoetry #Ghazal #UrduLiterature #LegendsOfMusic
@nadra_csd@Jasim470@NadraPak@DGIPofficial Sir my ny aj hi update ki ha yahan facial recognition ka koi option nai a kr bhot dafa try kr chuka hon kindly iska koi solution nikalin ya app phir hamary tu kisi kam ki nai
@nadra_csd@Jasim470@NadraPak@DGIPofficial سر جس کا بائیو میٹرک کا ایشو ہو کسی بیماری کی وجہ سے ہاتھوں کے فنگر پرنٹ ہی ختم ہو چکے ہوں وہ کیسے پاک ائی ڈی کے ذریعے اپنے کام کروا سکتے ہیں
مولانا مودودی کی والدہ کہتی تھیں ’’میرے منے کو جماعت والوں نے خراب کر دیا ہے‘‘
جماعتِ اسلامی 1956 میں شدید انتشار کا شکار ہوئی۔ بعض رہنماؤں کی سخت تنقید سے مولانا مودودی اس قدر بد دل ہوئے کہ امارت سے استعفیٰ دے دیا۔
بالآخر فروری 1957 میں ماچھی گوٹھ میں ہونیوالے اجتماع میں ارکان کی اکثریت نے مولانا پر اعتماد کا اظہار کیا تو پوری جماعت کو زبردست اضطراب اور ذہنی کوفت سے نجات ملی۔ اس موقع پر سیالکوٹ کے ارکان نے مولانا کو پکنک کی دعوت دی تاکہ ان کی ذہنی بے سکونی کچھ کم ہو۔
پکنک ہیڈ مرالہ پر ہوئی۔ شرکأ مولانا سے کھل کر باتیں کرتے رہے۔ ایک صاحب نے سوال کیا:
’’مولانا ! آپ کی والدہ محترمہ زندہ ہیں ؟ ‘‘
مولانا نے جواب دیا :
’’خدا کے فضل سے زندہ ہیں اور فرماتی ہیں کہ میرے منے کو جماعت والوں نے خراب کر دیا ہے۔ گویا کوئی ماں یہ ماننے کو تیار نہیں ہوسکتی کہ اس کا اپنا بچہ بھی خراب ہو سکتا ہے۔ جب کہ حال یہ ہے کہ جماعت والوں کی مائیں مجھے روتی ہیں کہ مودودی نے ہمارے بچوں کا ستیاناس مار دیا ہے‘‘
[ راوی: قاضی رحمت اللہ ، ترجمان القران، ستمبر2016 ]