@ZulfiRao1 بزدار دور میں بھی ہرطرف فائکس یا پھر میاواکی لگائے گئے اور بھی غیر مقامی درختوں کی بھرمار کررہے ہیں ۔ بابوؤں کی دیہاڑی تو لگ جاتی ہے پر یہ درخت پنجاب کے موسم میں ہم آہنگ نہیں
ویسے شہزاد صاحب جب آپ حکومتی اقدامات کیخلاف غریب عوام کا مقدمہ لڑتے ہیں تو اچھا کرتے ہیں، اچھا لکھتے ہیں لیکن جب کبھی بغض آ جائے معذرت کیساتھ تو وہ عقل کو کھا جاتا ہے، پاکستان کی UAE سے ایران کی وجہ سے نہیں بگڑی، سعودی عرب کی وجہ سے بگڑی ہے یہ بات آپ اچھی طرح جانتے ہیں، رہی بات BLA کی تو ہماری حکومت اور ایجنسیاں خود مان رہی ہیں کہ ایران نے بہت تعاون کیا خاصکر ماضی قریب میں، چین نے اقوام متحدہ میں BLA پر دو بار پابندی لگوانے کی کوشش کی دونوں دفعہ امریکہ نے ٹیکنیکل ہولڈ لگا دیا، لیکن ہمارے وزیراعظم ٹرمپ کو سلیوٹ مار رہے ہیں، آپ نے کبھی اس معاملے پر بات کی؟ جہاں تک IRGC کا تعلق ہے اس نے کونسی MoU کی violation کی؟ کیا MoU میں نہیں لکھا کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول اور انتظام ایران عمان کیساتھ مل کر سنبھالے گا؟ کیا اس میں کسی نئے راستے کا ذکر ہے؟ وال سٹریٹ جرنل جیسا جریدہ لکھ رہا ہے کہ MoU میں امریکہ سے غلطی ہوئی ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز کا اپنے ہاتھوں سے لکھ کے دستخط کر کے کنٹرول دے دیا، آپ ریسرچر بہت اچھے ہیں لیکن مبینہ بغض، حسد اور کینہ آپ کی ریسرچ سے منطق کو کھا جاتا ہے یا پھر معذرت کیساتھ آپ کٹھ پتلی کی طرح اشاروں پر ٹوئیٹ کر رہے ہیں
دو حکومتیں
دو وزرا اعلی
دو قوانین اور
ایک پارٹی کا ورکر
علی امین کے دور میں مائنز اینڈ منرل ایکٹ لایا گیا جس پر شدید تنقید کی گئی علی امین نے قانون کی آگاہی کیلئے سیشن کرائے اسمبلی کے اندر بریفنگ کا اہتمام کیا گیا لیکن پارٹی کارکن اپنی بات پر قائم رہے جس کے بعد وہ قانون پاس نہ ہوسکا
سہیل آفریدی کے دور میں خاموشی سے چھپ کر اسمبلی مراعاتی قانون پاس کرایا گیا امید تھی کہ لوگ غافل رہیں گے اور معاملہ آگے بڑھتا رہے گا لیکن بات سامنے آگئی پارٹی کارکنان نے کسی قسم کا دفاع نہیں کیا وزیر اطلاعات اور پوری حکومتی ٹیم نے اپوزیشن کو ملا کر بھی کوشش کی لیکن کارکن ڈٹ گیا اور اب وہ قانون واپس ہورہا ہے
ان دونوں واقعات میں ایک بات واضح ہے کہ دونوں حکومتیں پارٹی اور عمران خان کے نظریئے سے جب جب غافل ہوئیں کارکن نے انہیں جھنجھوڑا اور راہ راست پر لایا
پی ٹی آئی کا کارکن آج بھی اتنی سمجھ بوجھ رکھتا ہے کہ اس کے سامنے پوری حکومت سرنڈر کرجاتی ہے
اگر پاکستانی درباروں کے اوپر مال نچھاور کرنا بند کردیں تو یہ ہی اولیاء اللہ پاکستانی حکومت پر بوجھ بن جائیں گے
غیر متعلق ہو جائیں گے
یہ نشئی افراد، جرائم کے اڈے، منشیات فروشی
آپ اولیاء اللہ کی تکریم ضرور کریں
مگر اس کی آڑ میں ہونے والے دھندے کے لئے سہولت کاری نہ کریں
سیاسی رہنما توچلو خٹک پیپلزپارٹی سے اتر کر تحریک انصاف میں اور عمران خان کا ڈرگ سپلائر آج کل وزیراعظم کا خصوصی مشیر لگا ہوا ہے۔
اصل بے شرمی، بے غیرتی ان اندھ بھگتوں اور کدّو مرشدوں کی دیکھنے والی ہے جنہوں نے حال ہی میں حبس بے جا، اغوا برائے تاوان، زنا بالجبر تک کا دفاع کیا ہے۔
درباروں کے چندے، چڑھاوے، نذرانے بند کریں۔۔
صاحبِ حیثیت افراد کوئی کارخانہ،مِل ، ریسرچ سنٹر، سکلز سینٹر کھولیں اور عام افراد کے لئے روزگار کا باعث بنیں۔۔۔
درباروں کے سارے مال حرام خور ٹولے کی جیبوں میں جاتے۔۔
جب مراعات اور بلیو پاسپورٹ سے متعلق بل سینیٹ میں پیش ہوا تھا تو اس پر میرا موقف بہت واضح تھا۔ اور ان قائمہ کمیٹیوں کا ہم حصہ نہیں ورنہ وہاں بھی اس کی ایسے ہی مخالفت کرتے۔
اپنے بغض میں اندھے نہ ہوا کریں
کتنی شرم کی بات ہے کہ اپوزیشن کو اسلام آباد پریس کلب میں ایک بار پھر پریس کانفرنس کی اجازت نہیں مل سکی ۔ مارشل لاؤوں میں بھی سیاسی جماعت پریس کلب کا پلیٹ فارم استعمال کرتی رہی ہیں اب کیا مارشل لاء بھی سے بدتر دور سمجھا جائے ؟
مرحوم بزنجو صاحب کو اس بنیاد پر جرگے نے 14 سال سزا سنائی تھی کہ آپ نے ایک دکان سے خریداری کی ہے اور اس نوٹ پر لکھا ہے ون یونٹ مردہ باد جبکہ گل خان نصیر کو اس لیے جرگے نے 14 سال سزا سنائی کہ جب بزنجو صاحب کو سزا سنائی جا رہی تھی تو آپ کے ماتھے پر شکنیں تھیں ! محمود خان اچکزئی ۔۔
بلوچستان کی حکومت مستعفی ہو، سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، حالات سازگار ہونے تک کشمیر میں الیکشن ملتوی کیے جائیں، ایوان کا مشترکہ اجلاس بلا کر سیکیورٹی پر اِن کیمرہ بریفنگ دی جائے۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر @mustafa_nawazk نے اپوزیشن کے مطالبات پیش کر دیے
اشرافیہ کو تو خیر فرق نہیں پڑتا، مڈل کلاس والا دفتر سے گھر جا کر بجلی کی ٹینشن میں ہی رہتا ہے، فلاں بتی بند کرو، وہ چیز بند کرو، موٹر کم چلاؤ، پنکھے کم چلاؤ، ایک کیمرے میں شفٹ ہو، یہ کرو وہ کرو۔ نواز شریف پیپلز پارٹی کے بجلی معاہدوں نے قوم کو ’ذہنی مریض‘ بنا دیا ہے
رضا ڈار کیس میں گرفتار مبینہ باس ’وحید‘ کے اہلخانہ کے مطابق، وحید کو عدالت پیش نہیں کیا گیا، والدہ نے لاہور ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے۔ وکیل رانا انتطار نے بتایا ہے، وحید سادہ شدہ شخص ہے، انگریزی نہیں بول سکتا، غیرملکی خواتین نے بتایا تھا ’باس‘ فر فر انگریزی بولتا تھا