Chat GPT
Reply
This looks very likely fake / digitally altered, not an authentic Imran Khan medical report.
The strongest evidence is the MR No. 80-84-40. I searched that exact Shifa medical-record number and found an older Shifa report from 14 February 2023 belonging to Mr. Athar N. Siddiqi, not Imran Khan. That older report also lists Dr. Mazhar A. Mufti - 003 and the age as 72 Yrs 01 Months 17 Days.
In the image you sent, the same MR number and doctor have been retained, but the patient has been changed to “Mr. Imran Ahmed Khan Niazi”, the age changed to 73 Yrs 01 Months 17 Days, and the date changed to 21/08/2026. That strongly suggests somebody used an existing Shifa report/template and edited the patient details.
There is another clear inconsistency: Imran Khan's documented date of birth is 5 October 1952. On 21 August 2026, his age would be approximately 73 years 10 months, not 73 years 1 month 17 days as written here.
Dr. Mazhar A. Mufti himself is a genuine Shifa International consultant, so using a real doctor's name makes the document look more convincing.
Conclusion: I would treat this image as fabricated/edited. The duplicate MR number belonging to another named patient is the biggest red flag.
شفا انٹرنیشنل اسپتال کی میڈیکل رپورٹس سے ثابت ہوگیا ہے کہ عمران خان مکمل صحت مند اور تندرست ہیں ۔
شفاء انٹرنیشنل لیبارٹری کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے کیے گئے بلڈ ٹیسٹ، ای سی جی (ECG) اور ایکو کارڈیوگرافی کی رپورٹس میڈیا پر آ چکی ہیں۔
ایکو کارڈیوگرافی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا دل بالکل نارمل کام کر رہا ہے اور اس میں کوئی نقص نہیں پایا گیا۔ اسی طرح بلڈ ٹیسٹ رپورٹ بھی یہ واضح کرتی ہے کہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں اور ان کے خون میں کسی قسم کے انفیکشن یا بیماری کے کوئی اثرات موجود نہیں ہیں۔
ان رپورٹس کے سامنے آنے کے بعد اب یہ موقف سو فیصد درست ثابت ہو چکا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی پارٹی، اور بالخصوص ان کی بہنیں خود نہیں چاہتیں کہ ان کے بھائی کو کوئی طبی ریلیف ملے یا ان کی ملاقاتیں بحال ہوں۔ یہ پورا معاملہ محض سیاست چمکانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں کھڑے ہو کر، سلمان اکرم راجہ کی موجودگی میں، اپنے خاندان اور پارٹی کی طرف سے باقاعدہ ایک تحریری حلف نامہ جمع کرایا تھا۔ اس حلف نامے میں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت اور علاج معالجے کی سہولت کو کسی بھی صورت سیاست کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی ان سے ہونے والی کسی ملاقات کو سیاسی فائدے یا پروپیگنڈے کا ذریعہ بنایا جائے گا۔ لیکن افسوس کہ گزشتہ رات سے اب تک عدالت میں جمع کرائے گئے اس حلف نامے کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔
سیاست کی شروعات پہلے نورین نیازی نے کی، جنہوں نے بانی پی ٹی آئی سے 18 اگست کو ہونے والی ملاقات کا احوال یوٹیوبرز کے سامنے جا کر اچھالا۔ اس کے بعد، گزشتہ روز جب حکومت بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے شفاء اسپتال منتقل کرنے والی تھی، تو پی ٹی آئی نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت ایک ہیجانی ماحول پیدا کیا۔ سوشل میڈیا پر منظم ٹرینڈز چلوائے گئے، اڈیالہ جیل اور شفاء اسپتال کے باہر باقاعدہ ہجوم اکٹھا کیا گیا، اور ایک ایسی کیفیت پیدا کی گئی جیسے بانی پی ٹی آئی کوئی بہت بڑی سیاسی فتح حاصل کر کے اسپتال منتقل ہو رہے ہوں۔
پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر بانی پی ٹی آئی کو ملنے والی اس طبی سہولت کو ایک شدید سیکیورٹی رسک میں تبدیل کر دیا۔ اسی پیدا کردہ سیکیورٹی رسک کی وجہ سے حکومت کو حکمتِ عملی تبدیل کرنا پڑی اور بانی پی ٹی آئی کو پمز (PIMS) اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کا تفصیلی معائنہ ہوا۔ وہاں ان کی فیملی، ذاتی معالجین اور شفاء اسپتال کے وہ تمام ڈاکٹرز بھی موجود تھے جن کا پی ٹی آئی نے خود مطالبہ کیا تھا۔
ان تمام متبادل انتظامات کے باوجود، ڈاکٹر عظمیٰ نے آج ایک سیاسی پریس کانفرنس کر کے سپریم کورٹ کے ساتھ کھلا دھوکہ کیا ہے اور اپنے ہی حلف کی خلاف ورزی کر کے توہینِ عدالت کی مرتکب ہوئی ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری پریس کانفرنس میں صرف سیاست چمکائی اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد بالکل وہی پرانی باتیں دہرائیں جو وہ پہلے ٹویٹس کی صورت میں کیا کرتی تھیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے ذریعے ریاست کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا اور وہی پرانا زہریلا پروپیگنڈا کیا ، جس کی بنیاد پر اب سوشل میڈیا پر ایک بار پھر ریاستی اداروں کے خلاف مہم شروع کر دی گئی ہے۔
اس پورے واقعے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں اور ان کی پارٹی کسی بھی صورت قابلِ اعتبار نہیں ہیں۔ اب سپریم کورٹ کے ان معزز جج صاحبان کو بھی سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ انہوں نے کیا دیکھ کر پی ٹی آئی کو ایک ایسا غیر آئینی ریلیف دیا تھا جو دنیا کے کسی بھی قیدی کو میسر نہیں ہوتا۔ دنیا بھر میں کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ اسپتال میں علاج کی ایسی شاہانہ سہولت نہیں ملتی، لیکن پی ٹی آئی نے عدالت کے اس رحم دلی پر مبنی فیصلے کا بھی انتہائی غلط فائدہ اٹھایا۔
آج جمعرات ہے
9 بج کر 24 منٹ ہو رہے ہیں
یہ ثبوت ہے کہ میں اس وقت اپنے گھر موجود ہوں
جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر خان صاحب کو نا لے کر آئے تو اس کا ذمہ دار حیدر ہوگا
ایسے لوگوں کو شرم آنی چاہیے
میرے لیے سب سے زیادہ ضروری خان کی صحت ہے
میں کل بھی خان کے ساتھ تھا۔
آج بھی ساتھ ہوں
اور مرتے دم تک خان کے ساتھ رہوں گا
میں صرف ویڈیوز اپلوڈ کر رہا ہوں
سب کر رہے ہیں
مجھے کیوں گالیاں دی جارہی ہیں؟
بہت سن لی تم لوگوں کی بکواسات۔۔۔
شرم کرو
نورین آپا نے باہر آکر کوئی بات نہیں کی۔۔۔
جو لوگ ویوز کے لیے جھوٹ لکھ رہے ہیں
نورین آپا کا نام استعمال کر رہے ہیں
ایسے لوگوں پہ نظر رکھیں۔۔۔
اور ان سے بچ کر رہیں۔۔۔
سب محتاط ہو کر کام کریں۔۔۔۔
While it is a relief that Imran Khan sahib will finally receive the urgent medical attention he has needed all along , care without which he may not have survived, it is deeply painful to see how this fascist regime has broken the health of a man who was once an elite athlete.
This should be a moment of grief for the entire Pakistan: a national hero and a philanthropist, whose all vital organs, according to jail provided medical reports, are no longer functioning as they should.
This is the direct result of solitary confinement and the harsh conditions he has endured. Every institution bears responsibility for this, and so, above all, do his own people (all of us), who failed to build enough pressure in time to secure his release from isolation.
MY HEART BLEEDS THINKING ABOUT HIS SUFFERING!
And a SIMILAR SUFFERING THAT HIS WIFE IS GOING THROUGH!
#ImranKhan
#BushraImranKhan
شفا انٹرنیشنل ہسپتال عمران خان کی منتقلی کا آرڈر کھلی عدالت میں لکھوایا گیا اس کی شرائط لکھوائیں گئیں سلمان اکرم راجہ سے انڈرٹیکنگ لی گئی سیاست کے لیے استعمال نہیں کریں گے شفا ہسپتال کے باہر کوئی جلسہ یا gathering نہیں ہو گی میڈیکل رپورٹس کو خفیہ رکھا جائے گا میڈیا کے ساتھ شئیر نہیں کریں گے میڈیکل معاملے پر کوئی میڈیا ٹاک نہیں کریں گی
میرے زہین میں ایک بات ارہی ھے یہ جو اتنی تیزیاں دیکھاہی جارہی ھے یہ صرف اس لیے ھے کے اگر خدانخواستہ عمران خان کو کچھ بھی ہوا تو عوام طاقتور لوگوں کے گریبانوں تک تو شاہد نہ پہنچ سکے مگر ان تک ضرور پہنچے گے اس لیے نوماہ گزرنے کے بعد یہ سب یاد ایا
چلو معاف کردے گے اللہ تعالیٰ عمران خان کو زندگی صحت وتندرستی دے اور اس کےلیے ہم سب مل کر کچھ کرسکے اللہ تعالیٰ اب ان سب کو ثابت قدم رکھے یہ عوام کو دھوکا نہ دے
وہ جس کیس کی پیشی پرنہ آنے کی وجہ سے سلمان اکرم راجہ صاحب غصے میں تھے اس کا کیا فیصلہ ہوا؟؟
سلمان اکرم راجہ نے اس کا فیصلہ عوام سے شیئر کیا؟؟؟
اور جو اراکین نہیں ائے ان کے خلاف ایکشن لیا؟
جتنے پارٹی کے عہدے دار مختلف ممالک میں ہیں وہ وہاں کے اثر رکھنے والے پاکستانیوں کے ساتھ مل کر وہاں کے ایم پیز اور سینیٹرز کو اپروچ کریں اور خان صاحب کی صحت کے حوالے سے بات کریں زلفی بخاری روزانہ کی بنیاد پر خان صاحب کے بیٹوں کے انٹرویوز ارینج کروائے اور جتنے لوگ ملک میں بیٹھے ہیں وہ بھی اس حوالے سے کھل کر بات کریں اور روز تین چار پریس کانفرنسز کریں اور کوئی موثر حکمت عملی بھی بنائیں تاکہ خان صاحب کو ہسپتال منتقل کر کے ان کا علاج کروایا جا سکے اب ہر بندے کو خاموشی توڑ کر کھل کر بولنا پڑے گا