برطانیہ جنسی جرائم میں سزایافتہ شخص کی شہریت کینسل کر کے اسے ملک بدر کرنا چاہتا،قانون میں تبدیلی کی تیاری جاری ہے،معاشروں کو محفوظ بنانے کے لئے ایسے آئین، قانون کی عملداری ضروری ہوتی ہے، مبینہ پولیس مقابلوں اور وقتی outrage سے جرائم ختم نہیں ہوتے، واحد راستہ قانون کی مکمل عملداری
آؤ پاکستانیو اس باپ کی ہم آواز بنیں
یہ شخص بہاولپور کا ہے
یہ باپ پچھلے ڈیڑھ سال سے اپنی نوجوان بیٹی کی تلاش میں رو رہا ہ اسے پتہ بھی ہے کس نے اغوا کیا، پھر بھی کوئی ایکشن نہیں ہوا
آؤ ہم اس کی آواز ہر جگہ پہنچائیں ہم فضولیات کو پھیلاتے ہیں اسکی آواز کو پھیلانا ہمارا مقصد ہے انشااللہ حکام نوٹس لیں گے
روڈ پر سٹال لگانے پر کمشنر صاحبہ ۔۔نوجوان کو physically abused کرتے ہوئے
یہ محض تشّدد ہی نہیں، ایک psychologically abused بھی ہے، اسکو یہ حق کس نے دیا ہے؟
انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ یہی نوجوان اِس عورت کے منہ پر بھی اسی طرح تھپڑ مارے
یہ وہ وڈیرہ تو نہیں جس نے پانی بند کیا تھا ؟
وڈیرہ سردار چانڈیو 4 بےگناہ پاکستانیوں کو قتل کر کے عدالت سے باعزت بری ہو کر پولیس اسٹیشن کے سامنے ہوائی فائرنگ کر کے پاکستانی عدالتوں قانون اور آئین پر پیشاب کرتا گزرتا ھے
A Palestinian child was tortured by Israeli settlers and then dragged by a car across sandy slopes, as if they were telling the Muslim world: 'All you did was talk, while we are the strongest.'
Repost this. Please I beg you
اچھا ہوا یہ بچی مر گئی لیکن معاشرہ کے منہ پہ تماچہ مار گئی سبق سیکھا گئی کہ اس دور کے رانجھوں پہ یقین نہ کرنا یہ سارے حرام خور ہوتے ہیں ۔
قصور آلہ آباد میں ایک طالبہ جس کی دوستی اپنے کلاس فیلو سے ہوگئی ۔
بات اس حد تک آگے بڑھ گئی کہ عامر نامی لڑکا اس سے ملنے لگا جب لڑکی کو احساس ہوا کہ اس نے غلط کیا
تو اس نے عامر کو کہا کہ مجھ سے شادی کرلو ۔
عامر نے محبت کا جھانسہ دے کر کئی بار اس کی ویڈیوز بنائیں اور پھر اپنا اصل چہرہ دیکھانے لگا عامر کا والد علاقہ کا ایک بڑا نامی گرامی چہرہ ہے
اس نے اپنے بچے کی پرورش ایسی کی کہ اب وہ منہ دیکھانے کے قابل نہیں ہے ۔
اس سے پہلے عامر اپنی عیاشی کے لیئے لڑکی کو بلیک میل کرتا رہا کہ زیور لے کر آؤ ورنہ تماری ویڈیوز نیٹ پہ ڈال دوں گا بچی روتی رہی کہ خدا کا خوف کرو ۔
اس نے ایک دفعہ اپنی سونے کی بالیاں عامر کو دے دیں اس کے بعد لڑکے نے دوبارہ وہی سلسلہ شروع کردیا ۔
آخر کار بچی نے اپنے والد کو سب کچھ بتادیا کہ ایسے ایسے معاملہ ہوا ہے ۔
اپنی عزت جاتے دیکھ کر بچی کی والدہ عامر کے گھر گئی اس کے والد کو سب کچھ بتایا کہ آپ نکاح کردو تو اس نے کہا کہ ایسی کئی لڑکیاں میرے بیٹے کے پیچھے
اس کے بعد عامر لڑکی کو دھمکانے لگا چودہ فروری کو جب عامر نے زیادہ پیسوں یعنی چار لاکھ کی ڈیمانڈ کی تو لڑکی نے روتے ہوئے کہا کہ میں خودکشی کر لیتی ہوں ۔
تو عامر نے کہا میری طرف سے چاہے مر لیکن پیسے لا کر دے لڑکی نے سکرین ریکارڈنگ آن کی اور اپنے دوپٹہ کے ساتھ پنکھے سے لٹک گئی ۔
اس کے بعد چار دن کے بعد آیف آئی آر ہوئی جس می کمزور دفعات لگائی گئیں ۔
بچی مر گئی ٹھیک ہے غلطی تھی لیکن عامر اور اس کے والد کو دیکھ لیں یہ وہ معزز لوگ ہیں جو بچیوں کو بلیک میل کرکے پیسے بٹورتے ہیں ۔
میری گزارش ہے مریم نواز سے پلیز اس عامر اور اس کے باپ کو سی سی ڈی کے حوالے کریں اور نیفے والا معاملہ کردیں ۔
تاکہ آئندہ کسی کی بچی کی زندگی خراب نہ ہو ۔
اور بچیاں پلیز سبق لیں یہاں پہ اب محبت کرنے والے کم اور لالچی لوگ بہت زیادہ ہیں
یہ ہے سب انسپکٹر عمران اشرف جو چوکی انچارج فیکٹری ایریا لاہور تعینات ہے۔ اس شخص نے ایک شریف شہری نعمان راٹھور کو اغواء کیا اور اس سے اکیس لاکھ روپے رشوت مانگی اور رشوت نا دینے پر نعمان راٹھور پر نائن سی کا پرچہ دے دیا۔ تفتیش میں ثابت ہو جاتا ہے کہ پرچہ جھوٹا ہے اور نعمان کو اس پرچے میں ڈسچارج کر دیا گیا لیکن اس دوران نعمان کو چونتیس دن جیل میں رہنا پڑا اس ظلم کے خلاف نعمان نے آواز اٹھائی اور افسران بالا کو عمران اشرف کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا لیکن اس کی کوئی سنوائی نہیں ہوئی ڈی آئی جی فیصل کامران اور ایس پی شہر بانو نعمان پر صلح کے کیے دباؤ ڈالتے رہے اور حتیٰ کے کچھ آفیسران نے نعمان سے کہا کہ شکر ادا کرو تم باہر آگئے ہو اس لیے معاف کر دو اور صلح کر لو لیکن نعمان نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا اور عمران اشرف اور دو اور پولیس ملازمین کے خلاف عدالت میں بائیس اے بائیس بی کی پٹیشن دائر کر دی جس طر عدالت نے ملزمان کے خلاف ہرچہ درج کرنے کا حکم دیا لیکن اس کے باوجود پولیس نے مقدمہ درج نا کیا تو نعمان نے توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست دی اور ساتھ ہائی کورٹ لاہور میں رٹ دائر کر دی جہاں پولیس نے جواب دیا کہ ملزمان کے خلاف کراس ورژن ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود پولیس نے عمران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جس پر نعمان نے انٹی کرپشن میں درخواست دی اور ڈی جی انٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ نے عمران اشرف کو کئی بار انکوائری کے کیے بلایا پر اس نے جانے کی تکلیف نا کی اور سہیل ظفر چٹھہ نے شہربانو کو کال کے کے عمران کو پیش کرنے کے لیے کہا جس پر عمران اشرف انٹی کرپشن میں پیش ہوا جہاں اسے سہیل ظفر چٹھہ کے حکم پر گرفتار کیا گیا لیکن اس کے باجود عمران اشرف چند دنوں میں واپس اکر اپنے سابقہ عہدے پر براجمان ہو گیا ہے اطلاعات کے مطابق عمران اشرف نے پہلے بھی کافی بے گناہ نوجوانوں پر جھوٹے پرچے دیے ہیں لیکن سمجھ سے بالاتر ہے آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ افسران بالا اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتے ویسے اس نے ڈی جی انٹی کرپشن کے سامنے بیان دیا تھا کہ میں افسران بالا کے کہنے پر پرچے دیتا ہو واللہ اعلم
(باقی یہ کہ سب افسران ایک طرح کے نہیں ہوتے نعمان کو تفتیش میں بے گناہ کرنے والا بھی ایک پولیس آفیسر ہی تھا ورنہ وہ سالوں جیل میں سڑتا رہتا)
#i_love_muhammad
انڈیا میں پابندی عائد لیکن
بریکنگ نیوز محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم دنیا کا سب سے مشہور نام ہونے کا ریکارڈ بنادیا ساڑھے 13 کروڑ ٹویٹس
مجھے اس ٹرینڈ میں آپکی طرف سے ری ٹوئیٹس چاہئں
کرینگے؟؟