امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہے :
وَالصَّبْرُ عَلَى لِسَانِ النِّسَاءِ مِمَّا يُمْتَحَنُ به الأولياء
اور خواتین (یعنی بیویوں) کی زبان پر صبر کرنا ان چیزوں میں سے ہے جس سے اولیاء اللہ بھی آزمائے جاتے ہیں۔
(إتحاف السادة المتقين بشرح إحياء علوم الدين 6/115)
*رسول اللہ ﷺ نے فرمایا* ؛
میرے بعد کچھ ایسے حکمران ہوں گے کہ جو شخص ان کے جھوٹ میں انکی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا تو اسکا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ اس سے میرا کوئی تعلق ہے
اور اسے میرے پاس حوض کوثر پر آنا نصیب نہیں ہوگا
مفہومات ؛
*نسائی شریف
ترمذی
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:-
جو حکمران مسلمانوں کے کسی معاملات کا ذمہ دار بنے اور وہ ان سے مخلص نہ ہو اور اسے اسی حالت میں موت آ جائے تو اللہ نے اس پر جنت کو حرام قرار دے دیا ہے۔
*(مشکوۃ شریف:3686)*
*حکم ؛ صحیح*
جو تمہارے پاس سچ کے ساتھ آئے اُس سے اُسے قبول کرو خواہ وہ دوریوں اور نفرت انگیزی کا باعث ہو
اور جو تمہارے پاس جھوٹ کے ساتھ آئے ۔ اُسے اُسی کی طرف لوٹا دو
خواہ وہ قریبی اور محبوب ہی کیوں نہ ہو
*سیدنا عبداللہ بن مسعود رضى الله عنه*
(شرح السنة : 234/1)
اگر لڑکا ہو تو اسکے سر پر بال مت بڑھاؤ اور اگر لڑکی ہے تو جب تک پردے میں بیٹھنے کے قابل نا ہوجاۓ زیور مت پہناؤ۔ اس سے ایک تو جان کا خطرہ رہتا ہے اور دوسری بات کہ بچپن سے ہی زیور کا شوق دل میں ہونا اچھی بات نہیں۔
او فانی لذتوں کے رسیا
موت کی سختیوں کیلئے بھی کچھ تیار کیا ہے ؟!؟
اپنے سود و زیاں کا کبھی حساب لگایا ہے ؟!؟؟
کیا تمہیں لگتا ہے کہ تم نرم و گداز بستروں پر لیٹ کر اہلِ شرف کے درجات تک پہنچ جاؤ گے ؟!؟
ہر گز نہیں ! ...
(المدهش لابن الجوزي : ٢٠٦)حمزہ
اللّٰہ تعالٰی کی خوشی اور جنت میں یقینی داخلہ
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ؛ جو شخص میرے کسی امتی کی کوئی حاجت اس ارادے سے پوری کرے کہ وہ امتی خوش ہو جائے ، تو اس آدمی نے مجھے خوش کر دیا
اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے اللہ تعالیٰ کو خوش کیا
👇
عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جب بادل گرجنے کی آواز سنتے تو گفتگو ترک کر دیتے اور فرماتے: اور بادلوں کی گرج اسی کی تسبیح اور حمد کرتی ہے، اور اس کے رعب سے فرشتے بھی (تسبیح میں لگے ہوئے ہیں)۔ پھر فرماتے: یہ گرج زمین والوں کے لیے سخت وعید ہے۔
[موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري
نوٹ۔سونا محفوظ جگہ ہو یا استعمال میں ہر ایک پر زکوٰۃ واجب ہے۔
(سنن ابودائود کتاب الزکوٰۃ اوردیکھئے حاکم جز اول صفحہ 390 ۔
فتح الباری جز چار صفحہ 13
⬅چاندی کی زکوٰۃ➡
612 گرام یعنی ساڑھے باون تولے چاندی پر زکوٰۃ واجب ہے اس سے کم وزن پر نہیں۔(ابن ماجہ)
زمین کی پیدا وار پر زکوٰۃ
مصنوعی ذرائع سے سیراب ہونے والی زمین کی پیداوار پر عشر بیسواں حصہ دینا ہوگا ورنہ ہے۔قدرتی ذرائع سے سیراب ہونے والی پیداوار پر شرح زکوٰۃ دسواں حصہ ہے دیکھئے
(صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ)
🔴