کنویں کا پانی تب تک پاک نہیں ہوتا جب تک کنویں سے کتا نا نکال لیا جائے۔
جب تک 26ویں آئینی ترمیم کو ختم نہیں کیا جاتا تب تک سپریم کورٹ میں قاضی فائز لٹکا رہے گا۔
اسد طور 🔥
https://t.co/Buyosf5H75
جسٹس اعجاز اسحاق خان کے دبنگ ریمارکس 🔥
ان سیکیورٹی تھریٹس کی حقیقت کیا ہے تہہ تک جاؤں گا۔ جنہوں نے یہ رپورٹس لکھی ہیں سب کو طلب کر کہ قرآن پاک پر حلف لوں گا
السلام علیکم میں آغا شیخ سرور آپ سب کی محبتوں کا مشکور ہے جس طرح میری بازیابی کے لئے آپ لوگوں نے میرے لئے آواز اٹھائی جس میں پاکستانی اور اورسیز پاکستانیوں کا میں تہ دل سے شکر گزار ہوں ، اب آپکی محبتوں کی وجہ سے اب میری مزید زمہ داری بھڑ جاتی ہے
ذاتی طور پرمیری رائے پہلے دن سے یہی رہی ہے کہ فیصلہ سڑکوں پر ہی ہونا ہے۔ خان صاحب میری رائے سےاس حد تک اتفاق کرتے تھے کہ انہوں نے اسے آخری آپشن رکھا ہوا تھا اور اس لیے گذشتہ ایک سال میں جتنی مرت��ہ ان سے اجازت ��اہی جواب یہی آیا کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔
خان صاحب کی جانب سے پارٹی کو دی جانے والی انسٹرکشنز کی ایک کاپی مجھے موصول ہوتی ہے جن میں جو نکات (for action) یعنی میرے سے متعلقہ ہوتے ہیں ان پر میں عملدرآمد کو یقینی بناتا ہوں اور جو (for information) ہوتے ہیں ان کا ریکارڈ رکھتا ہوں۔ ان کی آخری انسٹرکشنز (for information) کے مطابق ۴ اکتوبر کا احتجاج جاری رکھنا تھا (جس کے لیے مجھ سے درکار ڈیٹا اور اپنے تجربے کی بنیاد پر ضروری ہدایات میں نے پارٹی کو فراہم کردیں تھیں)۔ احتجاج کے حوالے سے آگے کی حکمتِ عملی کا فیصلہ کرنے کا اختیار خان صاحب نے سیاسی کمیٹی کو دیا تھا۔ سیاسی کمیٹی نے کن عوامل کو مدنظ�� رکھتے ہوئے احتجاج ختم کیا یہ وہ بہتر جانتے ہوں گے، میں اگرچہ اس فیصلے سے قطعی متفق نہیں لیکن میں گراؤنڈ پر موجود نہیں اور آخری فیصلے کااختیار ان کا تھا۔
آگے کیا کرنا چاہیے؟ آپ کی طرح میری رائےبھی یہی ہے کہ اب واپسی کا آپشن ذہن سے نکال کر سڑکوں پر نکلنا چاہیے اور یہی رائے، تفصیلی لائحہ عمل کے ساتھ، میں قیادت کو بھی پہنچا چکا ہوں ابھی بھی اور تب بھی جب عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک خبریں موصول ہورہی تھیں۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات مناسب وقت پر بیان کروں گا۔
مجھے یقین ہے کہ قیادت کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ وقت تیزی سے نکلا جارہا ہے اور وہ تمام تر زمینی حقائق کا جائزہ لے کر جلد ہمیں اپنے فیصلے سے آگاہ کرے گی۔ میں جہاں آپ کے جذبات کی قدر کرتا ہوں اور آپ کے غصے کو جائز سمجھتا ہوں، اور یہ رائے بھی رکھتا ہوں کہ جیسے کہ خان صاحب کرتے آئے ہیں، بہت سے فیصلوں پر آپ کو اعتماد میں لیا جانا چاہئے تھا۔ وہاں اس بات پر بھی متفق ہوں کہ اس ملک میں جس ننگی فسطائیت کا راج ہے، آئین اور قانون نام کی کوئی شے باقی نہیں، وہاں یہ ��یصلہ جو نا صرف اس ۲۷ سالہ جدوجہد کا تعین کریگا بلکہ اس کا ڈائریکٹ اثر عمران خان کے زندگی پر پڑیگا بہت ذمہ داری اور مکمل تیاری کے بعد اناؤنس کیا جانا چاہیے۔
آخری فیصلہ بہرحال سڑکوں پر ہی ہونا ہے اور لازم ہے کہ جلد ہو۔
دنیا کے پانچویں سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں، پاکستان کی سب سے بڑی اور دنیا کی چھٹی بڑی سیاسی جماعت، جسکی سب سے بڑی سٹریٹ پاور ہے، اگر وہ ��پنے پارٹی لیڈر کو رہا نہیں کروا سکتی اور اس سے باقاعدہ ملاقات بھی نہیں کر سکتی تو تف ہے ایسے نااہل پارٹی قائدین اور سیاستدانوں پر!