جے یو آئی پنجاب کے زیر اہتمام پھولنگر، قصور میں ہونے والے جلسے کو آج تیسرا روز ہے، محلات سے اٹھتا دھواں بتا رہا ہے کہ آگ کہاں کہاں لگی ہے۔
جے یو آئی پنجاب کے جلسے نے بوٹوں کے خوف اور نوٹوں کے زور پر چلنے والے مذہبی جوکروں اور سیاسی لوٹوں کو ایسا لتاڑا ہے کہ ہر طرف ہا ہا کار مچی پڑی ہے۔
قصور جلسے میں مقتدرہ سے متعلق جو سنجیدہ و تلخ سوالات مولانا فضل الرحمٰن نے اٹھائے ہیں، اس پر بحث جاری ہے۔ ناقدین کو چاہیے ہمت ہے تو ان سوالات پر گھنگرو توڑنے کی بجائے جواب دے کر اپنی پوزیشن واضح کریں۔
ہم دو ٹوک کہہ دینا چاہتے ہیں، گالم گلوچ کر کے تم مولانا فضل الرحمٰن کے کردار پر کیچڑ تو اچھال سکتے ہو لیکن یاد رکھو مولانا فضل الرحمٰن کے ابابیلوں کا راستہ نہیں روک سکتے۔ پنجاب میں جے یو آئی نے جس سفر کا آغاز کیا ہے ان شاء اللہ اب یہ رکنے والا نہیں ہے۔
یہ تو سب کو پتہ لگ چکا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کا نعرہ مستانہ پنجاب کی فضاؤں میں گونج رہا ہے، تمام روکاٹوں اور پابندیوں کے باوجود جے یو آئی پنجاب کے جلسے نے پنجاب کی سیاست کے درو دیوار ہلا دئیے ہیں۔
جے یو آئی پنجاب کے شاہینو! آپ کا ہر فرد اس شاندار کامیابی پر مبارک باد کا مستحق ہے
حافظ نصیر احمد احرار
جنرل سیکرٹری جے یو آئی پنجاب
#مزاحمت_توڑے_گی_ہر_زنجیر
#مولانا_کی_للکار
#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
#مولانا_قدم_بڑھاؤ
تاریخ کی سب سے بڑی گواہ خود تاریخ ہوتی ہے۔ جو جماعت ہر مشکل میں اپنے محسنوں کو بھول جائے، اسے اقتدار کی نہیں بلکہ یادداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ سیاست وقتی مفادات نہیں، کردار کی آزمائش کا نام ہے۔
#لشکر_نہیں_خود_لڑو#مولانا_کی_للکار#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے کون سی بات کی جس پر معافی مانگیں؟ معافی تو وہ مانگیں جنہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اپنا لشکر تشکیل دے کر اُن لوگوں کا مقابلہ کریں
اپنی ناکامی کا اعتراف کرے اور دھاندلی سے توبہ کرے
#لشکر_نہیں_خود_لڑو
ابھی تک قائد جمعیت کے بیانیے پر کسی سنجیدہ سیاستدان کا کوئی تبصرہ نہیں آیا۔ کیونکہ وہ بھی قائد جمعیت کو حق بجانب سمجھتے ہیں۔ بیچارے فارم 45، 47 کی پیدوار ہی نمک حلالی میں مصروف ہیں۔ ان کو پالا ہی اسی دن کےلیے ہے۔
#مولانا_کی_للکار#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو#مولانا_قدم_بڑھاؤ