شاہ دین، 75 سالہ، پی آئی اے میں ڈرائیور ہیں۔
وہ پہلے ایک مقدمے میں کیمپ جیل میں قید رہے، پھر دوسرے مقدمے میں انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
ان پچھتر سالہ بزرگ پر الزام تھا کہ انہوں نے پولیس گاڑی کے ڈرائیور کو فلائنگ کک مار کر نہر میں گرا دیا، اور چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم زدہ کینگرو کورٹس نے اس الزام کو مانتے ہوئے سزا سنا دی۔
یہ ��ہانی صرف شاہ دین کی نہیں بلکہ ایسے نظام کی عکاسی کرتی ہے جہاں عقل، عمر اور حقائق سے زیادہ الزام کی اہمیت ہوتی ہے۔ مقصد انصاف کے بجائے زمینی آقاؤں کی خوشی ہوتا ہے۔ جب ایسے فیصلے ہونے لگیں تو لوگ قانون سے نہیں بلکہ قانون کے نام پر ہونے والی ناانصافی سے ڈرتے ہیں۔