شہاب الدین خان اور ان کے بچوں کیساتھ ایک یادگار تصویر جس وقت شہاب الدین خان اپنے قوم کیلے لڑ رہا تھا
سابق رکنِ قومی اسمبلی شہاب الدین خان کو ستارۂ امتیاز کیوں دیا گیا؟
شاید وہ یہ بھول گئے ہیں کہ جب باجوڑ میں حالات انتہائی خراب تھے، لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوگئے تھے، اُس وقت شہاب الدین خان فرنٹ لائن پر اپنی قوم کے ساتھ کھڑے تھے۔ انہوں نے اپنے بچوں سمیت ہتھیار اُٹھا کر اپنے علاقے، اپنے لوگوں اور لاکھوں شہریوں کے گھروں اور زندگیوں کے تحفظ کیلئے کردار ادا کیا۔
بعد ازاں جب تحصیل سلارزی پر افغانستان کی جانب سے حملے ہوئے، تب بھی شہاب الدین خان نے اپنے علاقے کے دفاع میں عملی طور پر حصہ لیا اور اپنی سرزمین کی حفاظت کیلئے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔
شہاب الدین خان صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ اپنی قوم کیلئے جدوجہد کرنے والی ایک مضبوط آواز رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی ہی جماعت، پاکستان مسلم لیگ (ن)، کے دورِ حکومت میں بھی قبائلی عوام پر مسلط ایف سی آر جیسے کالے قانون کے خلاف مسلسل پانچ سال جدوجہد کی، اور اُس نظام کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔
آج قبائلی اضلاع کے عوام کو جو سیاسی، آئینی اور جمہوری حقوق حاصل ہیں، اُن میں شہاب الدین خان کی قربانیاں اور جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔انہی قربانیوں کے بدولت آج ضلع خیبر سے صوبے کا وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی نمائندگی کررہا ہے ورنہ اس سے پہلے ہمیں علاقہ غیر کے لوگوں کہہ کر غیر تصویر کیا جاتا تھا
یہی وجہ ہے کہ انہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا جانا صرف ایک شخص نہیں بلکہ پوری قوم کی خدمات کا اعتراف ہے
@salarzai_@PashatKhan@Alikhanyzai
In 2007,@PashatKhan from Bajaur, cried out for peace. Now, 18yrs later,the story remains the same—terrorism has only grown more brutal & deadly.war policy has plagued us,trapping us in a pit so deep tht climbing out now seems impossible.
Yes,am pessimist coz it’s never gonna end.
نفرتیں پھیلانا،دشمنیاں سر پر لینا،غلیظ گالیاں دینا،غیر اخلاقی اور بے جا الزامات لگا کرایک دوسرےکی کردارکشی کرنا،نفرتیں پھیلانا، تشدد پر اتر انا،اورعدم برداشت اور مکالمے کا خاتمہ ایک سیاسی ورکرکاایجنڈا ہو ،میری رائے میں سیاسی ورکر نہیں!
مبارک زیب ہمارے بھائی ہیں۔
مسلم لیگ ن میں آتے ہیں تو تہہ دل سے خوش آمدید کہیں گے، آزاد رہیں گے تو مسلم لیگ ن باجوڑ کے راستے جدا ہوں گے۔
ازاد حیثیت میں حکومتی سپورٹ اور پارٹی شمولیت میں واضح فرق ہے۔
صوبائی صدر پارٹی ورکرز اور ایم این اے صاحب ار زیڈ کے ٹیم کو کنفیوز نہ کریں۔
جب فیصلے مُلک کی بقا اور خدا کی رضا اور یہودیوں جیسے دشمن کی سازشوں سے بچنے کے لیے دیے ہوں تو پھر نا ہی پروٹوکول کی ضرورت ہوتی ہے اور نا ہی بُلٹ پروف کاروں کی اور نا ہی حکومتی خرچے پر فرسٹ کلاس کی کیونکہ خفاظت خدا کی زات کررہی ہوتی ہے❤️✌️✌️✌️✌️
پاکستان کی عدالتی تاریخ ناکامیوں، طاقت اور اختیار کے غیرقانونی حصول کی کوششوں اور غیرقانونی اور بدترین فیصلوں سے بھری پڑی ہے، مگر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حیران کن حد تک نہ صرف ملک میں آئین کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کیا بلکہ عدالت کو اس کا تشخص دینے اور غیرقانونی طور پر انتظامی اختیارات میں مداخلت کی بجائے خود احتسابی کی راہ پر ڈالا۔ گو کہ پاکستان نظام انصاف کے سامنے ایک طویل سفر ہے، مگر قاضی فائز عیسیٰ نے ابتدا کر دی۔
آپ نے کئی مقدمات میں غیرمعمولی جرات اور قانون کی بالادستی یقینی بنا کر ایک نئی راہ پیدا کی ہے۔ امید ہے کہ عدالت اب اپنا یہی سفر جاری رکھے گی اور پاکستان ایک مستحکم راستہ اختیار کرے گا۔
اس سے قبل عطابندیال، کھوسہ، گلزار، ثاقب نثار اور افتخار چوہدری جیسے سیاسی ججوں نے عدالتی نظام کو جمہوریت کے قتل اور سیاسی بحران کا باعث بنایا۔
خدا حافظ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ۔
فیسبوک کھولا تو اس معصوم بچے کی بے دردی سے قتل کی خبر دیکھ کر پیروں سے زمین کھسک گئ۔
سچ یے انسان کو درندہ بننے میں دیر نہیں لگتی۔
کیا ہم انسان کہنے کی لائق ہیں؟
کیا یہی ہمارا اسلام اور پشتونولی ہے؟
اللہ تعالٰی شہید کے درجات بلند اور پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔
آمین۔