جو لوگ (کے پی کے ) کی حکومت کو خان کا آخری قلعہ سمجھ کر لڑ پڑے ہیں ان کو اندازہ نہیں کہ خان کا آخری قلعہ سوشل میڈیا ہے جہاں سول وار شروع ہوچکی ہے.
اظہار رائے پہ قدغن اور تنقید پہ ضربیں پڑ رہی ہیں.
تحریک انصاف کے لوگ ، اور فوجی لونڈے لپاڑے ایک صف میں کھڑے نظر ارہے ہیں.
چلیں یہ بے شرم باہر تو نکلا اتنے دنوں سے چھپ کر بیٹھا تھا۔ ۔ میں اسے اسی لئے تو چھڑ رہا تھا کہ آپکو بتا سکوں کہ یہ گرفتار نہیں ہے۔ یہ کرا جی میں خاموش بیٹھا جنرلز کی سہولت کاری کر رہا ہے۔ ایک ٹوئیٹ نہ کر سکا یہ دلال کہ گورنر راج اور ایمرجنسی غلط ہے۔ ۔ ایک ٹوئیٹ نہ کر سکا pti KPK حکومت پر کرپشن کے الزامات غلط ہے ۔ لیکن دیکھیں جیسے ہی اس بے شرم کی دم پر پاؤں رکھا فورا بل سے باہر آ گیا۔ مزے یہ لوٹتا رہا اور پارٹی کا دفاع اب تیمور جھگڑا کر رہا ہے۔
وقتی ابال اپنی جگہ ، لہروں کی طرح آتی جاتی مایوسی اپنی جگہ ، دل اور دماغ پر عمران خان اور ہزاروں لوگوں کی صعوبتوں کا بوجھ اپنی جگہ ، فوج جس رستے پر چل رہی ہے یہی پاکستان کی فلاح کا رستہ ہے۔ جس تیزی سے نفرت بڑھی رہی ہے جس تیزی سے فوج کی مشکلات اور ناکامیاں بڑھ رہی ہیں ، جو ایک آخری کام رہ گیا ہے وہ بھی ہوجائے گا۔
@enkidureborn بس یہی ہم بھی سوچ سوچ کر “سوچنے کی صلاحیت” سے دور ہوتے جارہے ہیں. جن کو سو ارب نے بے قابو کیا ہوا تھا اب تو ان کے ہاتھ سات کرب لگ چکے ہیں.
وہ چیونٹیوں کیلئے بریک ماریں گے ؟ خام خیالی
مینڈیٹ چھیننے والی فوج مردہ باد
گندے جھوٹے کیسز بنانے والی فوج مردہ باد
آئین توڑنے والی فوج مردہ باد
بچے اغواء کرنے والی فوج مردہ باد
آنکھیں نوچنے والی فوج مردہ باد
خان صاحب !!!
باجوا کو ایکسٹنشن دے کر آپ نے جو غلطی کی تھی اس سے بڑی غلطی آپ نے مجھے چیرمین بناکر کی ہے.
میں پی ٹی آئی کے سپورٹرز کو دن دگنی رات چوگنی چنے چبوا رہا ہوں.
کوئی میرا بال بھی بیگا نہیں کرسکتا.
“آپ کو قید تنہائی میں رکھنے کا مشورہ بھی میرا تھا”
نہ رہے گا بانس نہ بجے گی عاصم منیر کی.
عمران خان کا ایک خواب تھا۔
ترکی، ایران اور پاکستان کا ایک economic corridor بنایا جائے۔ سڑکوں اور ریلوے لائنوں کا جال بچھایا جائے۔ انکی باہمی تجارت ہو۔ تین ملک نیچرل تجارتی پارٹنرز ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ترقی ریجنز کرتے ہیں ممالک نہيں۔ اور تین ممالک کا یورپین یونین کی طرح کا اقتصادی بلاک بن سکتا ہے۔
لیکن امریکی غلاموں کو یہ قبول نہيں تھا۔ خواب دیکھنے پر وزارت عظمی سے اتار کر زندان میں قید کر دیا۔
اگر تم پر دہشت گردی کے خلاف بولنے پر پابندی ہے
اگر کوئی بل یا قانون روکنے کی تم میں سکت نہیں
تو اسمبلی میں بیٹھ کر تم فوجی جتھے کی سہولت کاری اور اس کے بدلے مراعات لے رہے ہو
اور سینہ چوڑا کرکے جو تم لمبی لمبی چھوڑتے ہو
یہ بھی اجازت کے بغیر ناممکن ہے
اسی لئے تم ہمارے لئے مر چکے ہو.
پی ٹی آئی سے استعفے دے کر پھر بیٹھے رہو بلکہ لیٹ بھی جاؤ ہمیں فرق نہیں پڑتا لیکن بطور پی ٹی آئی تمہیں اب اسمبلی سے استفعیٰ دینا ہوگا.
تحریک انصاف کو اسمبلیاں چھوڑ دینی چاہییں !!
سب سے پہلے تو یہ کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کسی قسم کی قانون سازی نہیں روک سکتی کسی بل کسی ترمیم کو نہیں بلاک کرسکتی۔ پھر دوسری بات یہ کہ جنید اکبر انکشاف کرچکے کہ ان اسمبلیوں میں محسن نقوی ، فارم سینتالیس اور دہشتگردی جیسے مسائل پر بولنے کی اجازت نہیں۔ یعنی یہاں آواز اٹھانا بھی ناممکن ہے۔ پھر یہ نشستیں مولانا نسیم علی شاہ اور جنید اکبر کا اغواء نہیں روک پائیں۔
پھر تحریک انصاف کی ان اسمبلیوں میں موجودگی کی وجہ سے فوج اس جعلی جمہوری سیٹ اپ کو دنیا کے سامنے حقیقی جمہوریت بنا کر پیش کررہی ہے۔پھر عمران خان کئی مرتبہ ماضی میں اسمبلیوں سے استعفے دے چکے قبل از وقت اسمبلیاں تحلیل کرچکے۔ یعنی یہ کوئی نئی روایت بھی نہیں۔ اب بھی جب عمران خان سے ملاقاتیں بحال ہوں گی عمران خان پہلا حکم ان اسمبلیوں سے علیحدگی کا دیں گے یہ بات تحریک انصاف کے ایک ایک رکن اسمبلی کو اچھی طرح معلوم ہے۔
تحریک انصاف اسمبلیاں چھوڑے گی تو یہ پورا نظام ننگا ہوگا اس جعلی جمہوریت کے کپڑے اتر جائیں گے۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی فوج کو مجبوری ختم ہوگی یہ مکمل یئیں یئیں پارٹیاں رہ جائیں گی۔ پھر یہ آئینی ترامیم روکیں یا نہ روکیں ان کا مسئلہ۔ یہ تحریک ایک عوامی تحریک بننے کی راہ پر چل سکے گی۔ ان اسمبلیوں میں موجودگی کے باوجود اگر عمران خان گیارہ ماہ سے قید تنہائی میں ہے تو پھر یہاں بیٹھے رہنا عمران خان سے بھی غداری ہے۔
بجائے اس نظام کو ٹیک دیتے رہنے کی اسکی بیساکھیاں کھینچنی ہیں۔
ایکس پر رپلائیز بند ہیں۔ فیس بک پر پوسٹس بند ہیں۔ سیاست سے لاتعلقی کا جھوٹ بار بار بولنا پڑتا ہے۔ مرنے والے سپاہیوں کی خبر چھپانی پڑتی ہے۔ نا گھر میں عزت ہے نا باہر عزت ہے۔
بے غیرت جرنیلا !!!! یہ ہوتی ہے ریڈ لائن ، اسے کہتے ہیں ریڈ لائن۔
اللہ کی فوج کا ایک اور عظیم کارنامہ، مراد سعید کے گھر کی چادر و چار دیواری پامال کر کے گھر کا تمام سامان باہر نکال کر پھینکا گیا اور گھر میں موجود مراد سعید کی معذور والدہ محترمہ و بھائی کے معصوم بچوں کو گھر سے نکال کر گھر چھوڑنے کا کہا گیا، مراد سعید کی بزرگ والدہ محترمہ گزشتہ 17 سال سے معذوری کی حالت میں گھر پر ہیں، مراد سعید کا بھائی گزشتہ تین سالوں سے کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور آج بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہے، مراد سعید خود پچھلے تین سالوں سے روپوشی کی بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ہے کیونکہ فوج اس کی جان کی دشمن ہے، آج جو کچھ مراد سعید کی فیملی کے ساتھ کیا گیا وہ صرف اسرائیل معصوم و نہتے فلسطینیوں کے ساتھ کرتا ہے، نہ عاصم منیر اور اس کی فوج میں کوئی انسانیت باقی رہی ہے اور نہ ہی کوئی شرم و حیاء، ملٹری اسٹیبلشمنٹ اپنی ہی عوام پر ظلم کی تمام حدیں پار کر چکی ہے، ملک پر قبضہ، عوام کے مینڈیٹ پر قبضہ، عوام کے ووٹوں سے بنی واحد حکومت کے صوبے پر قبضہ اور اب مراد سعید کے گھر پر قبضہ، عاصم منیر اینڈ کمپنی تم اور کتنا گرو گے؟ کیا پاکستان اسرائیل کو ٹھیکے پر دے دیا گیا ہے؟ کیا تمہارا کوئی دین، مذھب اور ایمان ہے؟
تحریکِ انصاف اور پاکستانی قوم گزشتہ چار سالوں سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے بدترین مظالم برداشت کر رہی ہے اور ہر روز ظلم و جبر کی ایک نئی داستان رقم ہوتی ہے، پچھلے چار سالوں میں چوک اور چوراہوں میں نہتے معصوم لوگوں کو فوج کے سنائپرز نے سروں اور سینوں میں گولیاں ماریں، لوگوں کے گھروں، دفتروں، فیکٹریوں کو بلڈوزر کیا گیا ان کے قیمتی اثاثوں کو توڑا گیا، نوکریوں سے نکالا گیا، جھوٹے مقدمات میں ہزاروں لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، غیر آئینی و غیر قانونی فوجی عدالتوں سے سزائیں دلوائی گئیں، عورتوں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا گیا، جیلوں میں بیگناہ لوگوں پر اتنا ظلم کیا گیا کہ کئی جیلوں سے رہا ہو کر بیماری کی حالت میں شہید ہو گئے، معصوم لوگوں کو تیل کی ابلتی ہوئی کڑاہی میں پھینکا گیا، 90 فیصد عوام کے لیڈر عمران خان پر 300 سے زائد جھوٹے مقدمات درج کر کے تین سال سے بیگناہ قید اور گیارہ ماہ سے بدترین قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، ان کی اہلیہ پچھلے اڑھائی سال سے بغیر کسی جرم کے جیل میں بیگناہ قید ہے، عمران خان کی تینوں بہنیں جیل میں ہیں، بھانجہ بیرسٹر حسان خان نیازی تین سال سے بیگناہ جیل میں قید ہے، کزن قاسم زمان خان جیل میں قید ہے، ان چار سالوں میں کوئی ظلم و جبر ایسا نہیں رہ گیا کہ جو فوج نےاپنی ہی عوام پر نہ کیا ہو۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
عمران خان کے ساتھ تحریک انصاف وہ کر رہی ہے جو افریکن نیشنل کانگریس ANC نے نیلسن مینڈیلا کے ساتھ کیا تھا۔ انہيں 27 سال تک قید میں رکھوایا تھا۔
مینڈیلا تو قدرے جوان تھا جب قید ہوا۔ پھر ایک جزیرے پر قید تھا۔ جس کال کوٹھڑی میں عمران خان کو رکھا ہوا ہے وہاں کوئی کتنے سال زندہ رہ سکتا ہے؟
دوسری طرف عمران خان کی عمر 74 سال ہے۔ مینڈیلا کی 44 سال عمر تھی جب قید ہوئے۔ 71 سال جب رہا ہوئے۔
تحریک انصاف کا عمران خان کو رہا کروانے کا کوئی پروگرام نہيں ہے۔ جو کہتا ہے یا کہتی ہے کہ وہ عمران خان کو رہا کروانا چاہتے ہیں وہ بکواس کر رہے ہیں۔ جھوٹ بک ریے ہیں۔
تحریک انصاف عمران خان کو بیچ چکی ہے۔ اپنے اقتدار اور عہدوں کے لئے۔
جس کرنل نے تحریک انصاف کے عہدے انہیں دیے تھا اس سے انہوں نے وعدہ لیا تھا کہ عمران خان کبھی رہا نہیں ہوں گے۔ یہ حقیقت ہر کوئی جانتا ہے۔
عمران خان کو رہا کروانے کی دو سنجیدہ کوشش ہوئیں دونوں گنڈاپور اور اس کے ساتھیوں نے ناکام بنائیں۔ تحریک انصاف نیلسن مینڈیلا کی ANC ہے جسے خان کی رہائی میں کوئی دلچسپی نہيں ہے۔
مینڈیلا جب 27 سال بعد apartheid regime کے ساتھ مذاکرات کرکے رہا ہوا تو ANC خوش نہیں تھی۔ انسان جب بےغیرت ہوجائیں تو وہ پہچانے مشکل ہوجاتے ہیں۔ 27 سالوں بعد بھی رہائی سے خوش نہیں تھے!
خان صاحب اب صرف عوامی تحریک یا رجیم پر گرنے والی قدرتی آفت کے نتیجے میں رہا ہوسکتے ہیں۔ عوامی تحریک تب پیدا ہوگی جب قابض حکمرانوں نے عوام کا سانس لینا دشوار کردیا۔ جب ان کے لئے جینا محال کردیا۔ جب عوام کے لئے زندگی مہنگی اور موت سستی کردی۔
یا تحریک اس وقت چلے گی جب امریکی ترجیحات تبدیل ہوگئیں۔ اسے پاکستانی رجیم کی ضرورت نہ رہی۔ پھر امریکہ بدنامی کو گلے لگانے سے انکار کردے گا۔
اتنا ذلیل ہوا کیوں ؟
ابھی بتاتا ہے بھئی !!!!
ایران والوں کو یہ شخص بلکل ویسا ہی دیکھائی دیتا ہے جسطرح آپ سب کو نظر ارہا ہے.
اب اسطرح کے بندے کو ایکس توپوں کی سلامی یا پھر ذلیل کیا جاتا ہے؟