نیپال~ ایک فون کال 1643 بچوں کی جان بچا گئی
ایک معجزہ پچھلے سال علی پور میں سیلاب کے دوران ہوا تھا اور ایک اب نیپال میں ہوا ہے جہاں ایک گمنام فون کالر نے فلیش فلڈ کے دوران 1643 سکول بچوں کی جان بچا لی۔
علی پور میں معجزہ کچھ اس طرح ہوا کہ میرے فیس بک پیج کے محنتی اور قابل رپورٹر دانیال ہاشمی کو ان علاقوں میں سیلاب کی کوریج کے لیے بھیجا تھا۔اس نوجوان نے بہت مشکل حالات میں بھی وہاں سے شاندار رپورٹنگ کی اور انسانی دکھوں کی کہانیاں ویڈیوز کلپس کی شکل میں بھیجیں جو ہم نے https://t.co/aYeBMcS1Mu
فیس پیج پر استمعال کیں۔
تاہم اس نوجوان کی ایک ویڈیو رپورٹ نے مجھ سمیت بہت سارے لوگوں کو چوبیس گھنٹے تک تکلیف سے سونے نہیں دیا تھا۔ چھ چھوٹے چھوٹے بچوں کی ماں سیلاب میں بہہ گئی تھی اور وہ چھوٹے بچے اپنی نانی کے ساتھ کنارے پر بیٹھے رو رہے تھے۔
سب نے دعائیں کیں اور چوبیس گھنٹے بعد وہی ماں ایک کیمپ سے مل گئی کہ اسے ڈوبتے وقت ایک کشتی نے ریسکو کر لیا تھا۔ ایک معجزہ ہوچکا تھا۔ چھ بچوں کی ماں زندہ مل گئی تھی۔
اس طرح کا معجزہ اب نیپال میں ہوا ہے جہاں فلیش فلڈز نے ایک لاکھ لوگوں کو متاثر کیا ہے، سینکڑوں کی اموات ہوئی ہے تو ہزاروں ابھی لاپتہ ہیں۔
تاہم اس انسانی بربادی میں بھی ایک ایسی کہانی سامنے آئی ہے جس نے دلوں کو گرمایا ہے۔ بتایا گیا ہے کسی نے فلیش فلڈ کو تیزی سے پہاڑوں میں موجود انسانی بستیوں کی طرف خونخوار انداز میں بڑھتے دیکھا تو اسے خیال آیا اس کے راستے میں تو بچوں کا تین منزلہ سکول بھی ہے جہاں 1643 بچے زیرتعلیم ہیں۔
اس نے فورا سکول کے ہیڈ ماسٹر کو فون کر کے الرٹ کیا کہ بچوں کو سکول سے نکالیں۔ پانی آرہا ہے۔ راستے کے پل ٹوٹ چکے ہیں۔ آپ کے پاس صرف چند منٹس ہیں۔
تیس میٹر اونچی لہریں اور ستر کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پانی اس طرف آرہا تھا۔
سکول ہیڈ ماسٹر نے اپنے حواس قائم رکھے۔ سکول کی چھٹی کا اعلان کرنے والی گھنٹی کی طرف بھاگا اور زور سے بجانے لگا۔ سب اسٹوڈنٹس اور استادوں کو فورا قریبی پہاڑی کی طرف اونچائی پر لے گیا۔ اسے یاد آیا ابھی تو کچھ بسیں بچوں کو گھروں سے لے کر سکول میں لانے گئی ہوئی تھیں۔ اس نے ان ڈرائیورز کو فون کیا کہ بچوں کو سکول مت لائو۔ فورا مڑا جائو۔
اتنی دیر میں ایک بس سکول کی طرف آنے والے پل پر چڑھتی نظر آئی۔ اس بس کے ڈرائیور کو فون کیا کہ فورا مڑ جائو۔
کچھ دیر کے بعد پانی پوری خونخواری اور طاقت سے اس تین منزلہ عمارت سے ٹکرایا۔ وہ پل بھی اڑ گیا جہاں کچھ دیر پہلے بس آرہی تھی اور سکول کی تین منزلہ عمارت بھی صحفہ ہستی سے مٹ گئی۔
قریبی پہاڑی سے خوفزدہ بچے اور استاد اس خوفناک منظر کو دیکھ رہے تھے۔
ایک کالر کا فون سولہ سو بچوں کی زندگیاں بچا گیا تھا۔ ایک گمنام ہیرو۔۔
تحریر/رئوف کلاسرا
My brother Zulfikar tied our grandmother’s imam zamin on me and the ceremony was conducted in my grandfather’s libraries, one of my most beloved places on earth. Behind us were my aunts, uncle and father’s childhood photos and an original People’s Party flag placed by my grandfather himself.
Last night's screening of Joyland in Delhi was magical. People waiting in lines for a Pakistani film that so lyrically talks about patriarchy and the loneliness it breeds. People sitting on floors in awe, clapping and crying in unison. Through grief and borders, art finds a way.
ہندوستان میں مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں جو ایک ساتھ نہیں رہ سکتے،
کینڈا، امریکہ، آسٹریلیا ، جرمن برطانیہ اور پوری دنیا میں یہی مسلمان اور ہندو ایک ساتھ رہ بھی رہے ہیں کام بھی کررہے بھائی چارہ بھی بنائے ہوئے ہیں،
وزیراعظم عمران خان کے بڑے بڑے دعووں کی اصل حقیقت کیا ہے؟ ہیلتھ کارڈ جاری تو کر دئیے لیکن کیا پرائیویٹ ہاسپیٹلز ہیلتھ کارڈ ہولڈروں کا علاج کرتے ہیں یا نہیں؟ اس باہمت صحافی نے اہم حقائق کا کھوج تو لگا لیا لیکن اب اللّٰہ اسکی اور اسکے چینل کی خیر کرے