یہ جو آئے روز حکومتی وزراء بکواس کرتے ھیں کے عوام ٹیکس نہیں دیتی
ان کی اس بکواس کا جواب حاضر ھے
بجلی کے بلوں پر 60 فیصد سے زیادہ ٹیکس
گیس کے بلوں پر بھی 60 فیصد ٹیکس
پٹرول اور ڈیزل پر 50 فیصد ٹیکس
موبائل خریدنے پر 40 فیصد ٹیکس
موبائل بیرون ملک سے منگوانے پر 50 فیصد ٹیکس
جاری ھے
”بجٹ میں وزیراعظم ہاؤس کے لان کیلئے 4 کروڑ، صدر ہاؤس کے لان کیلئے 10 کروڑ، آئینی عدالت کے 7 ججز کیلئے 6 ارب روپے مختص ہیں۔ نئے ٹیکسز لگنے سے دودھ، مصالحہ جات، تیل، کراکری سمیت گھریلو استعمال کی تمام اشیاء مہنگی ہو جائیں گی۔ تعلیم پر صرف 46 ارب اور صحت پر صرف 25 ارب خرچ کیے جائیں گے“ شہباز گل
@SHABAZGIL
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
پریس ریلیز
کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ
لاہور، 14 جون 2026ء
10 جون کو مسلح ڈکیتی کی واردات کے خلاف کارروائی کے دوران پیش آنے والے ایک المناک واقعے میں ایک معصوم بچی کی جان چلی گئی۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ شفافیت، محکمانہ احتساب، اور قانون کی بالادستی پر سختی سے کاربند رہنے کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
10 جون کی رات، تقریباً پونے بارہ (11:45) بجے، سی سی ڈی کے اہلکاروں نے مسلح ڈکیتی کی ایک جاری واردات کے دوران مداخلت کی۔ مسلح ڈاکوؤں نے ایک فیملی کی گاڑی کو روک کر کار سواروں کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا رکھا تھا۔ اس دوران ہونے والے آمنے سامنے کے مقابلے میں، مشتبہ افراد کی جانب سے کارروائی کرنے والے پولیس اہلکار پر فائرنگ کے بعد دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس افراتفری میں، متعلقہ پولیس افسر نے غلط اندازہ لگایا کہ ملزمان متاثرین کی گاڑی میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنی بندوق سے فائر کر دیا۔ اس غلط فیصلے کے نتیجے میں 10 سالہ بچی ہانیہ کی المناک موت واقع ہو گئی جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ اس بات پر زور دیتا ہے کہ افسوسناک واقعہ میں ملوث افسر کا یہ طرزِ عمل ہمارے طے شدہ مروجہ طریقہ کار (SOPs) اور طاقت کے استعمال کے قانونی اصولوں سے یکسر انحراف ہے۔ چنانچہ محکمے کی طرف سے فوری طور پر درج ذیل اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
متعلقہ افسر کو اسی دن ملازمت سے معطل کر کے حراست میں لے لیا گیا۔ بعد ازاں اسے باضابطہ طور پر گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
متاثرہ بچی کے والد کی درخواست پر فوری طور پر ایف آئی آر (FIR) درج کر لی گئی۔ فرانزک شواہد، بشمول افسر کا اسلحہ اور استعمال شدہ گولیوں کے خول محفوظ تحویل میں لےکر کارروائی کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔ محکمہ متاثرہ خاندان کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر رابطے میں ہے تاکہ انہیں جاری تحقیقات کی پیش رفت سے آگاہ رکھا جا سکے۔ متاثرہ خاندان نے جاری قانونی عمل کی رفتار اور شفافیت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
سی سی ڈی ایک سخت ضابطہ اخلاق کے تحت کام کرتا ہے جو تحمل اور طاقت کے متناسب استعمال کا پابند بناتا ہے۔ ہمارا اولین فرض انسانی جان کا تحفظ ہے، جبکہ "کم سے کم طاقت" کے اصول پر عمل کرنے میں کسی بھی قسم کی ناکامی کے خلاف اعلیٰ ترین سطح پر قانونی اور محکمانہ احتساب کیا جاتا ہے۔
ہمیں اس المیہ پر گہرا دکھ ہے۔ اگرچہ ہمارے اہلکار انتہائی پُرخطر صورتحال میں کام کرتے ہیں لیکن ہمارے طے شدہ پروٹوکولز سے انحراف کا قطعی کوئی جواز نہیں ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ سی سی ڈی عوام کے تحفظ کے اپنے فرض پر قائم ہے اور اپنے اہلکاروں کو پیشہ ورانہ طرزِ عمل کے اعلیٰ ترین معیار کا پابند بناتا رہے گا۔
سی سی ڈی متاثرہ خاندان کے ساتھ اپنی غیر متزلزل حمایت اور اس کیس کے تیز رفتار قانونی انجام تک پہنچنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
مقبول بٹ نے آزاد کشمیر کی وزارت عظمیٰ ٹھکرا دی تھی انہوں نےعذرامیرکے نام خط میں لکھا تھا ہمارے ساتھ پاکستان میں جو ہوا وہ حکمران ٹولے نے کیا عام پاکستانیوں نے نہیں کیا پاکستان کے اصل مالک تو یہاں کے عوام ہیں اور حکمران ٹولہ تو ان پر بھی گولیاں برساتا ہے۔ https://t.co/YGc7uH6SZZ
حکومت بھوکی ہے اس کی بھوک کو چار سال ہونے کو ہیں مٹتی ہی نہیں ہے!
عوام اپنا سب کچھ دے رہی ہے مفت میں کچھ نہیں لے رہی ہے مگر حکومت آدمی لوٹ رہی ہے, لوگ محفوظ نہیں ہیں سیکیورٹی اداروں سے ڈرتے ہیں
خان پیلیس جو عید گاہ کے ساتھ شادی ہال ہے وہاں آرام کرنے والے افراد پر فائرنگ کی گئی ہے۔
جلسا گاہ عوام کے کنٹرول میں ہے۔
جان بوجھ کر بار بار لوگوں کے بیٹے ،بھائیوں پر حملے کیے جاتے ہیں
تاکہ عوام کو اشتعال دلوا کر ان کو پّرتشدد ردعمل پر مجبور کرنے کی کوشش کی جا ئے تاکہ ریاست اس کو جواز بنا سکے۔
عوام کا اجتماع ایک کھلے گراؤنڈ میں ہے ۔ جب عوام شہر میں داخل نہیں ہو رہے اور تصادم کا جواز نہیں بن پا رہا تو فورسز کو وقفے وقفے سے پّر امن عوام کے پاس بھیج کر مسلسل ق ت #ل و غارتگری کی جا رہی ہے۔
حالات اور واقعات واضح طور پر اشارہ کر رہے ہیں کہ مقتدرہ کو اپنے مقاصد کے لیے بہتے ہوئے خ#و#ن اور لاشوں کی ضرورت ہے
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کو سالانہ تقریباً 21 ارب ڈالر کرپشن کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے، یعنی ملک کی مجموعی دولت کا تقریباً 6 فیصد بدعنوانی کی نذر ہو جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس کرپشن اور بدعنوان نظام کے ذمہ دار کون ہیں؟ آج پاکستان میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی تینوں اقتدار کے ایوانوں میں موجود ہیں۔ ایک جماعت مرکز میں حکومت کر رہی ہے، دوسری ایک صوبے میں اور تیسری دو صوبوں میں برسرِ اقتدار ہے۔ عوام کو درپیش مسائل، کرپشن اور نظام کی خرابیوں کی ذمہ داری سے یہ جماعتیں خود کو الگ نہیں کر سکتیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جب اپنے مفادات کا معاملہ آتا ہے تو یہی جماعتیں ایک صف میں کھڑی نظر آتی ہیں۔ باجوہ کی توسیع ہو، متنازع قوانین کی منظوری ہو یا طاقتور طبقات کے مفادات کا تحفظ، یہ سب ایک دوسرے کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔ لیکن جیسے ہی انتخابات قریب آتے ہیں، عوام کو دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف بیانات، الزامات اور اختلافات کا ڈرامہ شروع ہو جاتا ہے۔
عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی لڑائیاں ایک دوسرے سے نہیں بلکہ عوامی حقوق، شفاف حکمرانی اور احتساب کے خلاف متحدہ مفادات کے تحفظ کے لیے ہوتی ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں ان کا اتحاد برقرار رہتا ہے، جبکہ انتخابی جلسوں میں اختلاف کا تاثر دے کر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
قوم کو اب نعروں اور ڈراموں سے نہیں بلکہ حقیقی احتساب، دیانتدار قیادت اور کرپشن سے پاک نظام کی ضرورت ہے۔
🚨 بھارت میں ایک مسلم منیجر کے اپنے ہی ماتحت کے ہاتھوں نہایت سفاکانہ قتل نے ایک بار پھر وہاں مسلمانوں کی سلامتی اور تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
جو لوگ بھارت اور مقبوضہ کشمیر کو "دودھ اور شہد کی نہریں بہنے والی جنت" بنا کر پیش کرتے ہیں، انہیں ایسے واقعات پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ زمینی حقائق اکثر سیاسی نعروں اور خوشنما دعوؤں سے مختلف ہوتے ہیں۔
بڑے اور امیر ممالک کے صدور کے پاس جہاز نہیں ہیں، لیکن غریب ممالک جہاز اڑا رہا ہے۔ شاہد خاقان عباسی
#pakistan@SKhaqanAbbasi
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
پورے انگلینڈ میں صرف 86 سرکاری گاڑیاں ہیں جبکہ صرف اسلام آباد میں 90 ہزار سرکاری گاڑیاں ہیں۔صاحب ڈیفالٹ تک پہنچانے والے اصل اسباب پر بھی بحث کریں۔ اگر آپ کو موت نہ آئے تو قانون بھی بتائیں۔۔صدر سے لے کر ایم پی اے کے منشیوں تک سب کی بجلی، گیس، ہزاروں لیٹر فیول،سینکڑوں سیکیورٹی گارڈاور پروٹوکول کے نام پر درجنوں گاڑیاں، کچن کے نام پر کروڑوں روپے اور باہر کے ملکوں میں سات سات درجن افراد ساتھ لے کر سیر سپاٹے اور سرکاری خرچ پر حج کرنے والوں کے لئے بھی کوئی کٹوتی اور بچت پالیسی بنائیں۔جو کہ پورے سالانہ بجٹ کا 50 فیصد سے بھی زیادہ ہے صرف غریبوں پر ٹیکس لگا کر ان کا جینا محال
کیا ہوا ہے۔جبکہ خزانے کا زیادہ خرچہ امیروں پر
ہوتا ہے۔
تھوڑا نہیں پورا سوچیے۔
یہ بڑے مکروہ چہرے ہیں جب نہیں تو غریب کے کے لیے 20000 ہزار بھی کم تھے مگر جب حکومت میں آئے ہیں تو 8000 ہزار بھی زیادہ ہیں اور آٹھ ہزار والا بھی امیر ہے!
واہ کیا بات ہے!!!😡
بیس ہزار تنخواہ کے خلاف شہباز شریف کا شدید ترین احتجاج سپیکر سے پوچھ لیا بیس ہزار میں غریب روٹی کیسے پوری کرے گا ؟
پندرہ ہزار والے ٹیچرز کا کیا کرنا ہے ؟
حکومت نے بجٹ 2026 میں سود کے خاتمے کے لیے کوئی واضح روڈمیپ پیش نہیں کیا، جبکہ وفاقی شرعی عدالت ملکی معیشت کو سود سے پاک کرنے کی ڈیڈ لائن دے چکی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بجٹ کا ایک خطیر حصہ سودی ادائیگیوں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جو معاشی خودمختاری پر سوالیہ نشان ہے۔
پنجاب میں CCD جو کھلے عام بے گناہ لوگوں کو قتل کر رہی ہے. اور کوئی روکنے والا نہیں۔
آسٹریلیا سے آئی ہوئی ایک فیملی کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا. جس میں ایک بچی شہید اور باقی شدید زخمی ہیں، گولیوں کے نشانات سے ہی اندازہ لگائیں کیسی اندھی دھن فائرنگ کی گئی ہے.