چیرمین عمران خان کا اڈیالہ جیل سے مزاکرات کا مشورہ اور برادر ممالک قطر اور ترکی کی ثالثی کی پیشکش سے سیز فائر کا معائدہ ایک اچھی خبر ہے۰ عمران خان پہلے دن سے امن اور مزاکرات کے حامی تھے اور خیبر پختنخواہ نے بھی افغانستان مہاجرین سے متعلق وزیر اعظم ہاؤس میٹنگ میں بھی مزاکرات کی سفارشات اور موقف رکھا تھا۰
ہمارے والد نے اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت پاکستان میں گزارا - ہم سے دور ۔ اس لیے نہیں کہ اُنہیں ایسا کرنا پڑا، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے ایک کرپٹ نظام کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔
وہ ہر روز ہمارے ساتھ ایک باپ کے طور پر موجود نہیں تھے، لیکن پاکستان کے لیے وہ ہمیشہ ایک رہنما بن کر کھڑے رہے۔ انہوں نے اس ملک کو سب کچھ دیا: اسپتال، یونیورسٹیاں، اور انصاف کی ایک تحریک۔
انہیں پیشکش ہوئی کہ وہ اپنی باقی زندگی سکون سے گزاریں - ہمارے ساتھ انگلینڈ میں چہل قدمی کریں یا کرکٹ کھیلیں۔
لیکن انہوں نے اس کے بجائے ایک اندھیری قید میں بند رہنے کو چُنا۔
اُن کی قربانی پاکستان کے لیے ہے۔
اُن کی طاقت - پاکستان کی عوام ہے۔
بانی و چیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے عید کے بعد تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان کیا تھا۔پختونخواہ کے وہ نوجوان جو ایک سال بنی گالا اور زمان پارک کیمپ میں رہے اور ہر اہم ایکٹیویٹی کے موقع پر تمام تر جبر و فسطائیت کا مقابلہ کرتے ہوئے قافلوں کے لئے رستہ کلئیر کرتے ہیں انشاءاللہ ۶ اپریل کو ان جانثاران عمران خان کنوینشن کا انعقاد ہوگا۔
۱۱ اپریل کو سوات؛ اپنے حلقے کے گرینڈ جرگے سے دو نکاتی ایجنڈے؛ عمران خان، بشری بی بی سمیت قیادت و کارکنان کی رہائی اور امن کی بحالی پر تفصیلی بات کروں گا۔تحریک انصاف کے ہر احتجاج میں شامل نوجوان اور قافلے لانے والو کو بھی تیاری کا کہہ دیا ہے جیسے ہی جامع پلان سامنے آئے گا آپ کو عمل درآمد ہوتا ہوا دکھائی دے گا۔
کراچی اور سندھ کے نوجوانو کو پارٹی سے مشاورت کے بعد ایک ہفتے میں پلان دینے کی ہدایت کی تھی، کل ان کا تفصیلی لائحہ عمل بھی موصول ہوجائیگا۔
بلوچستان کے تمام ساتھی پرامن احتجاج کرنے والے بلوچ عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کو احتجاجی مارچ کا استقبال کرنے کی ہدایت جاری ہوچکی ہیں۔ پی ٹی آئی قیادت بھی بلوچستان مارچ میں شریک ہوئی، عمران خان کے نظریے اور ہدایات کے مطابق قیادت اور کارکن انشاءاللہ ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے رہینگے۔
پنجاب جس طرح ۲۳ مارچ کو نکلا تھا اس سے واضح ہے کہ پنجاب کے کارکنان تیار ہیں اور خواتین جس طرح متحرک ہوکر ان کو لیڈ کر رہی ہیں ان کا یہ کردار مثالی اور قابلِ فخر ہے۔ نارتھ پنجاب کے نوجوانو کو فلیش پروٹیسٹ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے تحریک کے اگلے مرحلے کی تیاری پر فوکس رکھنے کا کہا ہے۔نارتھ پنجاب کے نوجوانو کے ساتھ تفصیلی لائحہ عمل طے شدہ پروگرام کے مطابق جمعے کو شئیر نہیں ہوسکا انشاءاللہ جلد اس پر بھی پیش رفت ہوگی۔
امن تحریک کے لئے بھی انشاءاللہ اگلے ہفتے پختونخواہ کے تمام قبیلوں کا جرگہ بلایا جائے گا۔میں نے امن تحریک کے تمام ساتھیوں کی مشاورت سے تحریک کے آغاز سے قبل جرگہ اس لئے بلایا کہ میں دو دفعہ کال دے چکا ہوں اور ہزاروں لوگ بھی نکلے، لیکن تحریک کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ بار بار کال کا انتظار کرنے کے بجائے گراونڈ پر موجود تمام قبیلے ذمہ داری لیتے ہوئے لیڈ کریں اسلئے فیصلہ یہی ہوا کہ جرگے میں ہی پورا لائحہ عمل واضح کر کے اسی دن سے تحریک کا آغاز ہو۔
انشاءاللہ
عمران خان کا سول نافرمانی کی تحریک کے حوالے سے اہم ترین پیغام !!
میں نے حکومت سے دو مطالبات کیے تھے
1) انڈر ٹرائل سیاسی قیدیوں کی رہائی
2 ) 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام
یہ دونوں مطالبات جائز ہیں اور اگر حکومت ان پر اتوار کے روز تک کوئی عمل درآمد نہیں کرتی تو سول نافرمانی کی تحریک کے پہلے مرحلے "ترسیلات زر کے بائیکاٹ " کا آغاز کر دیا جائے گا ۔ ہم اس سلسلے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل کریں گے کہ پاکستان کے حالات آپ کے سامنے ہیں، ملک میں جمہوریت ، عدلیہ اور میڈیا کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے اور ہر طرف جبر و فسطائیت کا دور جاری ہے لہذا ترسیلات زر کے بائیکاٹ کا آغاز کریں ۔
26 نومبر اور 8 فروری کو جس طرح تحریک انصاف کے کارکنان نے ہمت و جوانمردی کے ساتھ جبر کا مقابلہ کیا اس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ 1971 میں عوامی لیگ کے بعد تحریک انصاف دوسری جماعت ہے جسے اس قسم کے ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا ، لیکن اسکے باوجود انتخابات میں تاریخی جیت حاصل کر کے اور 26 نومبر تک مسلسل جدوجہد جاری رکھ کر تحریک انصاف نے تاریخ رقم کی ہے-
26 نومبر پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اس دن نہتے لوگوں پر سنائپرز کے ذریعے فائرنگ کی گئی ، جوان لوگوں کو زخمی اور شہید کیا گیا ، کئی افراد تین ہفتے سے غائب ہیں ۔ گمشدہ افراد کو ڈھونڈنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ حکومت جواب دے کہ اتنے افراد کہاں غائب ہیں؟ ہمارے لوگوں نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ میں بیرسٹر گوہر سمیت اپنی پارلیمانی پارٹی کو ہدایت دیتا ہوں کہ ان افراد کے لیے اسمبلی میں آواز بلند کریں یہ ممکن نہیں کہ ملک میں خون کی ہولی کھیلی جائے اور پارلیمان معمول کے مطابق چلتی رہے۔
جب تک میں زندہ ہوں ان افراد کے قتل عام کی تحقیقات کے لیے جدوجہد کروں گا اور ان کو انصاف دلوائے بغیر چین نہیں لوں گا ۔جو لوگ شہید ہوئے انکے لواحقین صدمے میں ہیں ۔ میں خود فائرنگ کی خبر سن کر شدید اذیت کا شکار رہا اور نیند کی گولی کھانے کے باوجود نہتی عوام پر تشدد کے کرب سے سو نہیں سکا۔ جن لوگوں نے ایک کھڑکی، پتہ تک نہیں توڑا ان پر سیدھے فائر مارے گئے۔۔۔ ہمارے لوگ بالکل پر امن تھے قومی ترانہ پڑھتے ، فوجیوں کو گلے لگانے والے لوگوں پر فائرنگ کی گئی اور انہیں بے دردی سے قتل کیا گیا۔ ایسا یحیی خان نے 25 مارچ 1971 کو بنگالی عوام کے ساتھ کیا تھا اسکے علاوہ ملک میں کسی پارٹی کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا ۔ میں جب تک زندہ ہوں 26 نومبر کو بھولنے نہیں دوں گا-
تحریک انصاف کی جانب سے مذاکرات کرنے کی پیشکش کا مذاق اڑایا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ ہم نے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں ۔ مذاکرات کی پیشکش اور سول نافرمانی کی تحریک موخر کرنے کی بات ملک کے وسیع تر مفاد میں کی تھی۔ حکومت اگر اس میں دلچسپی نہیں رکھتی تو ہم نے بھی مذاکرات کے لیے حکومت کی کنپٹی پر بندوق نہیں رکھ۔ ہماری مذاکرات کی پیشکش کو ہماری کمزوری ہرگز نہ سمجھا جائے۔ اب بھی اگر حکومت چاہتی ہے کہ سول نافرمانی کی تحریک شروع نہ ہو تو ہمارے دونوں مطالبات پر ہم سے رابطہ کیا جائے یا ہمیں قائل کیا جائے کہ یہ مطالبات غیر آئینی ہیں اور ان پر بات ممکن نہیں۔
جیل میں ملاقات کے لیے مذاکراتی ٹیم کو دعوت دی ہے اور ان کے نام دئیے ہیں اب دیکھنا یہ بھی ہے کہ حکومت انکو ملاقات کی اجازت دیتی ہے یا نہیں۔
حکومت بار بار جو الزام لگاتی ہے کہ سول نافرمانی کی تحریک میں ملک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو یہ یاد رکھیں یہ ملک کو نہیں اس بوگس پارلیمنٹ، بوگس انتخابات کے نتیجے میں بنی اسمبلی اور سینٹ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ حکومت لوگوں کے ووٹوں سے نہیں بلکہ سازش سے بنی ہے۔ جنرل باجوہ نے ہماری منتخب حکومت کے خلاف سازش کی اور پاکستان کو بیالیس ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ اس حکومت نے آئی ٹی انڈسٹری اور دیگر شعبوں کو بے انتہا نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے عوام اس حکومت سے بد دل ہیں ۔ معیشت تباہ حال ہے اور کاروباری طبقہ اور سرمایہ دار اپنا پیسہ بیرون ملک ٹرانسفر کر رہے ہیں”