کیا ایمانداری اور میرٹ کی پاسداری اب جرم بن چکا ہے؟
ڈاکٹر نازیہ آصف، جو محکمہ سکول ایجوکیشن کی ایک انتہائی قابل، ایماندار اور اصول پسند, برق رفتاری سے کام کرنے والی آفیسر کے طور پر جانی جاتی ہیں، کو جس طرح عہدے سے ہٹایا گیا وہ لمحہ فکریہ ہے۔
انہوں نے ضلع لاہور میں تمام ونگز سے پہلے اساتذہ کی پروموشن کی،
لیکن ان کا گناہ یہ ٹھہرا کہ انہوں نے ڈپٹی سکرٹری کی ایما پر ناجائز پروموشنز، من پسند ہیڈز کی تقرریوں، اور اساتذہ کی عارضی ڈیوٹیوں کے غیر قانونی مطالبات ماننے سے انکار کر دیا۔ سی او ایجوکیشن اور ڈپٹی سکرٹری سلیمان کی جانب سے اتوار کے روز آفس بلا کر دھمکانا اور مطالبات نہ ماننے پر انہیں "نشانِ عبرت" بنانے کا فیصلہ سسٹم کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔
تین دن قبل ہی وہ سیکرٹری سکولز کے پاس ان افسران کے رویے کی شکایت لے کر گئی تھیں، مگر جن حلقوں میں سلیمان کی "آنکھ کا تارا" ہیں، انہیں یہ سچ ناگوار گزرا۔
سوشل سیکٹر سے کروڑوں کا ریونیو جنریٹ کرنے والی، محکمہ کی زمینوں کے تحفظ کے لیے لڑنے والی، اور بچوں کے مستقبل کے لیے آواز اٹھانے والی ایک ایسی آفیسر جو سکول ہیڈز اور اساتذہ کے لیے کسی ہیرو سے کم نہیں، ان کے خلاف یہ انتقامی کارروائی انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس پورے معاملے کی فوری اور شفاف انکوائری ہونی چاہیے۔بظاہر جس سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ دیا جا رہا اس میں تو محکمہ کے کردار کی تعریف ہے اساتذہ کی حوصلہ افزائی ہے۔
#SaveEducation #MeritMatters #StopVictimization
@RanaSikandarH