The terrorist drone attack in Madinah Al Munawarrah took place just 13 kms away from the Prophet’s Mosque صلى الله عليه وسلم
May Allah curse and destroy the terrorist Houthi Militia, their backers, financiers and supporters
اپر دیر کمراٹ میں مہینوں سے ٹوٹا رابطہ پل نہ بن سکا مقامی لوگوں نے پاک فوج سے رابطہ کیا اور پل کی تعمیر شروع ہو چکی ہے♥️
یہ علاقہ ایم این اے صاحبزادہ صبغت اللہ آور ایم پی اے گل ابراہیم خان کا ہے دونوں کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے،اور دونوں سوشل میڈیا پر فوج خلاف بھونکتے پائے جاتے ہیں
ان ماؤں کا احسان یاد رکھیں جنہوں نے اپنے لال وطنُ پہ قربان کر دیے۔ ان سہاگنوں کو یاد رکھیں جنہوںُ نے سہاگ وطن پہ وار دیے۔ ان بچوں کو یاد رکھیں جو باپ کی شفقت سے محروم ھوگئے۔
اللہ ان شہیدوں کے طفیل وطن کو امن دے قائم و دائم رکھے آمین
ہم کیوں نہیں سمجھتے پاکستان ہمارا دشمن نہیں ہے اب جو نئے حالات بن رہے ہیں پاکستان اس میں اہم رول ادا کرنے والا ہے ہندوستان ان کے ساتھ کھڑا ہے جو ہماری عزت نہیں کرتے یہ بات ہمیں سمجھنا ہوگی ہمیں اپنے ریجن میں اچھے تعلقات بنانے ہوں گے وہ پاکستان کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
پروین سہانی
Govt should ban Ariana Afghan Airlines from using Pakistani airspace. Two daily cargo flights fly over us and transfer drones and other weapons from Delhi to Kabul.
غزوہ بدر اس لئے بپا ہوئی کہ مسلمانوں نے ملک شام سے آنے والے مشرکین مکہ کے تجارتی قافلے روکنے کی صلاحیت کا اظہار کیا تھا۔ ہم نے تو ان کے تجارتی یعنی سمگلنگ کے راستے روک دئیے ہیں، افغان بارڈر بند ہونے سے سمگلنگ بہت کم ہو گئی، ڈالر کی سمگلنگ بھی کم ہو گئی، تیل کی سمگلنگ اڑھائی کروڑ لیٹر سے کم ہو کر سات لاکھ لیٹر رہ گئی۔ تو پھر یہ مرنے مارنے پر تو اتریں گے رجز پڑھتے ہوئے۔
یہ صرف اورصرف معاشی جنگ ہے
جناب والا
AFGHANS DONOT DESERVE TO LIVE IN PAKISTAN
AFGHANS DONOT DESERVE TO LIVE IN PAKISTAN
AFGHANS DONOT DESERVE TO LIVE IN PAKISTAN
AFGHANS DONOT DESERVE TO LIVE IN PAKISTAN
AFGHANS DONOT DESERVE TO LIVE IN PAKISTAN
AFGHANS DONOT DESERVE TO LIVE IN PAKISTAN
جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مسجد میں شہید کیا گیا، تو قاتل عبد الرحمن بن ملجم تھا وہی جو خود کو سب سے بڑا مجاہد، حافظِ قرآن اور تہجد گزار سمجھتا تھا۔
اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس لیے قتل کیا کہ اس کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ کے قانون پر نہیں چل رہے تھے، وہ ریاست کا فیصلہ کر رہے تھے۔
اور شہادت کے بعد جب خبر پھیلی تو شام میں کچھ لوگوں نے کہا:کیا علی نماز بھی پڑھتا تھا؟ جو مسجد میں قتل ہو گیا؟
یعنی پروپیگنڈا اتنا زبردست تھا کہ لوگوں کے ذہن میں بٹھا دیا گیا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تو دین پر ہی نہیں ہیں۔ بالکل آج کی طرح - جب فوجی شہید ہوتا ہے تو یہی ٹولہ کہتا ہے یہ تو مرتد تھا، یہ تو ریاست کا غلام تھا۔
یہ سوچ آج کی نہیں ہے، یہ 1400 سال پرانی خوارج کی سوچ ہے،
1وہی نعرہ: تب بھی نعرہ تھا "لا حکم الا للہ" حکم صرف اللہ کا۔ آج بھی یہی نعرہ ہے کہ ہم ریاست کو نہیں مانتے، ہم صرف اللہ کو مانتے ہیں۔
2. وہی طریقہ تب بھی وہ مسلمانوں کو کافر قرار دے کر مسجد میں قتل کرتے تھے۔ آج بھی یہی لوگ فوجی کو، پولیس والے کو، اور مسجد میں نمازی کو کافر کہہ کر مارتے ہیں۔
3. وہی انجام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا "میں اگر انہیں پاؤں تو قومِ عاد کی طرح قتل کروں گا" کیونکہ یہ اسلام کے نام پر اسلام کو ہی نقصان پہنچاتے ہیں۔
تو فرق صاف ہے
فوجی محافظ ہے، خوارج قاتل ہے۔
فوجی اس لیے کھڑا ہے تاکہ مسجد محفوظ رہے۔
خوارج مسجد میں آکر ہی قتل کرتا ہے اور سمجھتا ہے میں نے جہاد کیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ ہر داڑھی والا، ہر نعرہ لگانے والا مجاہد نہیں ہوتا۔ مجاہد وہ ہے جو امت کو جوڑے، توڑے نہیں،اور پاک فوج آج امت کو جوڑ رہی ہے پوری دنیا گواہ ہے مکہ دفاعی معاہدہ امت کو یکجاں کرنے کا رستہ ہے۔۔
سونے کی غیر قانونی کان کنی پر جب صوبائی حکومت نے کارروائی کرنے سے کامل انکار کردیا تو وفاق نے کارروائی کی تو کوہاٹ میں دھماکہ ہو گیا۔
جب کسٹمز نے وزیرستان سے سمگلنگ کے خلاف میں کارروائی کرنے کی کوشش کی تو ڈیرہ اسماعیل خان میں چیک پوسٹ پر دھماکہ ہو گیا۔
یہ معاشی نہیں بلکہ بدمعاشی مفادات کا مسئلہ ہے مائی ڈیر
ایرانی ملاؤں نے ولایہ فقیہ کے نظریے کو پھیلانے کے لیئے مختلف ممالک میں جو پراکسیز بنائی ہیں۔ ان میں سے چند کے نام یہ ہیں:
الاشتر بریگیڈ
السلام العراق
اسلامی مزاحمت عراق (آئی آر آئی)
قسام بریگیڈ
ساریہ المختار
انصار اللہ و حوثی
لیوا فاطمیون
فاطمیون
زینبیون
لیوا القدس
امل مومنٹ
علوی بریگیڈ الشام
بدر آرگنائزیشن
عصائب اہل الحق
لشکر اہل البیت
کتائب حزب اللہ
حزب اللہ بلبنان
حرکہ حزب اللہ النجوبہ
کتائب سید الشھدا
کتائب امام علی
حرکۃ انصار اللہ الاوفیاء
سپاہ محمد اور امامیہ سٹوڈینٹس (یہ چھوٹی شرلیاں پاکستان میں چھوڑی گئی تھیں)
ان کی تفصیلات گوگل کر لیجئیے۔ پرانے عربی و فارسی اخبارات میں بھی ان گروہوں کی کاروائیوں کے متعلق معلومات مل جائیں گی۔ ان میں اکثر گروہ اب "پاپولر موبلزائزیشن فورسز" کے ساتھ منسلک ہیں اور پاسداران انقلاب سے بھی ہدایات لیتے ہیں۔
کتائب حزب اللہ، عصائب اہل الحق، بدر آرگنائزیشن، حرکۃ حزب اللہ النجباء، یہ عراق میں وہ ایرانی گروپس ہیں جن پر سعودیہ بم باری کر رہا ہے۔
کتائب سید الشہداء، کتائب امام علی اور حرکت انصار اللہ الاوفیاء، یہ بھی ایران نواز گروہ ہیں جو الحشد الشعبی کے اندر بھی شامل ہیں۔ الحشد الشعبی عراق کے شیعہ عالم آیت اللہ علی سیستانی کے کہنے پر بنا ایک اتحاد تھا جس میں یہ سارے گروہ 2014 میں داعش کے خلاف شامل کئے گئے تھے جن میں سے کچھ اب قانونی طور پر عراقی ریاستی ڈھانچے کا حصہ بن چکے ہیں۔ (البتہ آیت اللہ علی سیستانی ان سب سے کنارہ کش ہو کر اب گوشہ نشین ہو چکے ہیں)۔
ایرانی گروہ حزب اللہ نے لبنان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ہے۔
یمن میں انصار اللہ (حوثی تحریک) نے بھی یمن کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔
لیواء فاطمیون، زیادہ تر افغان شیعہ جنگجو
لیواء زینبیون زیادہ تر پاکستانی شیعہ جنگجو
لیواء الباقر، حلب سے تعلق رکھنے والا ایک طاقتور مقامی ملیشیا گروپ، جو بنیادی طور پر البقارہ (Baggara) قبیلے کے افراد پر مشتمل ہے۔ یہ قبیلہ روایتی طور پر سنی المسلم تھا بعد میں اس ملیشیا کے ایک بڑے حصے نے شیعہ اسلام قبول کیا اور ایرانی نظریاتی اور عسکری نیٹ ورک کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کیا۔
شام میں ہونے والی خانہ جنگی میں حزب اللہ سمیت ان تمام گروہوں نے عوامی قتل عام میں بشارالاسد کا ساتھ دیا تھا۔
1980 میں سعودی عرب میں حزب اللہ الحجاز کے نام سے ایک شیعہ گروہ انڈر گراونڈ ڈویلپ کیا گیا۔ اس گروہ پر 1996 کے خبر ٹاورز حملے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ (واضح رہے کہ تب راقم خود سعودیہ میں رہائش پزیر تھا)۔۔ بعد میں سعودی حکومت نے اس نیٹ ورک کا سراغ لگا کر کچھ افراد پر فرد جرم عائد کیا اور تنظیم کو توڑ کر ختم کر دیا۔ یاد رہے کہ اس کاروائی میں سعودی حکومت کی مدد بھی ایک مقامی شیعہ قبیلے العتیبیہ نے کی تھی (اور یہ سراسر میری ذاتی تحقیق ہے)۔
آرگنائزیشن فار دی اسلامک ریولوشن ان دی عریبین پیننسولا (OIR) 1979 کے ایرانی انقلاب کے سال قطیف شہر کے ہنگاموں کے بعد کھل کر منظر عام پر آنے والی ایک اہم شیعہ تنظیم تھی، جس کے بانی شیخ حسن الصفار تھے۔ نظریہ اور مقصد سعودی حکومت کا خاتمہ اور ولایہ فقیہ کا نظام لانا تھا۔ اپنے نظریات پھیلانے کے لیے لندن سے المجلۃ الثورۃ الاسلامیہ میگزین چھاپتے تھے اور ایران سے ریڈیو اسٹیشن چلاتے تھے۔
بحرین میں بھی مختلف چھوٹے شیعہ مسلح گروہوں پر بحرین نے ایران سے تعلقات کے الزامات عائد کیے ہیں، جیسے سرایا الاشتر اور سرایا المختار وغیرہ۔ (راقم خود بحرین میں مقیم رہا ہے)
یہ تمام گروہ ایک ہی مقصد کے لیئے بنائے گئے۔ یعنی ولایہ فقیہ کی اسلامائزیشن کو بزور بازو پھیلانا اور نافذ کرنا۔
انہوں نے بعض ریاستوں کے اندر عوام کو تقسیم کیا۔ ان کی مذہبی فکری واردات یہ ہوتی ہے کہ یہ خود کو حسینی اور مخالف کو یزیدی کہتے ہیں۔ جو کہ بظاہر ایک خوشنما نعرہ ہے۔ معصوم لوگ اس خوشنما نعرے کے جھانسے میں آ جاتے ہیں۔
ان کے دہشتگرد مصر، اردن، شام، عراق، سعودیہ، یمن حتی کہ پاکستان، افغانستان اور کردستان میں بھی مارے گئے ہیں۔ (راقم خود کردستان میں مقیم رہا ہے)۔۔ آصف وڑائچ
یہ معلومات ان کے لیے پیش کی جا رہی ہیں جن کا اصرار ہے کہ ایران کہیں مداخلت نہیں کرتا بلکہ بڑا مظلوم ہے۔