اختلاف ضرور کریں مگر پاکستان میں کوئی لیڈر کوئی صحافی کوئی شہری غدار نہیں ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے اس گندے کھیل کا مزید حصہ مت بنیں۔ غدار صرف وہ ہیں جنہوں نے اپنا حلف اور ملک کا آئین توڑا۔
گنڈاپور صاحب ARY کو انٹرویو دے کر پارٹی سے اپنے شکوے share کرنے کی بجاۓ 27 ستمبر، 2026 کو لانگ مارچ میں اپنا لاکھوں لوگوں کا قافلہ لے آئیں۔
اور ثابت کر دیں کہ آپ سے زیادہ عمران خان اور پاکستان کا کوئی ہمدرد نہیں۔
سوال یہ نہیں کہ عمران خان سے جیل میں ملاقاتیں کون کر پاتا تھا اور کون اب نہیں مل پا رہا۔
سوال یہ ہے کہ کسی نے حکومت پر اتنا پریشر ڈالا کہ عدالتیں آزادانہ طور پر میرٹ پر عمران خان پر بناۓ گئے جعلی مقدمے سن کر خان کو آزاد کر دیں؟
اصل outcome تو یہی ہے جو پاکستانی عوام چاہتی ہے انشاءﷲ۔
جو 27 ستمبر کو عوام کو پر امن طریقے سے سڑکوں پر نکال کر حکومت کی لاقانونیت ختم کروا گیا، وہ جیت جاۓ گا، انشاءﷲ۔
یوٹیوب لنک Comment سیکشن میں موجود ہے: 👇
حکومت مشکل میں ہے
حکومت جا رہی ہے
اختلافات پیدا ہوگئے
حکومت کے دن گنے جا چکے۔۔۔
وغیرہ وغیرہ
یہ سارے منجن 27 ستمبر تک کے لیے ہیں۔
موجودہ جرنیل اور سیاستدان ایک دوسروں کو جوتوں سے بھی ماریں تو بھروسہ رکھیے وہ عمران خان کو نہیں چھوڑیں گے یہ کام عوام کو خود ہی کرنا ہوگا۔
جب بھی عمران خان کوئی ڈیل مسترد کرتا ہے اتنی ہی شدت سے ٹاؤٹس آ کر شور مچانے لگتے ہیں کہ عمران خان پاؤں میں بیٹھنے کے لئے تیار ہے! اسے کوئی ڈیل دے نہیں رہا۔🙃 سائیکالوجی کی زبان میں اسے کیا کہتے ہیں؟
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
پاکستان تحریکِ انصاف کے بزرگ کارکن چاچا شاہ عالم خان کا انتقال ہو گیا، 9 مئی کا ایک اور کارکن اس دنیا سے چلا گیا، مرحوم شاہ عالم خان کو 9 مئی کے جھوٹے مقدمات میں نامزد کر کے 1 سال تک سرگودھا جیل میں ناحق قید رکھا گیا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم شاہ عالم خان کی مغفرت فرمائے درجات بلند فرمائے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
#May9th_FalseFlag
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
اہم ترین 🚨🚨 عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمی خان اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اب سے کچھ ہی دیر میں گیارہ بج کر تیس منٹ پر خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس کریں گے۔
دھوکے سے بنی حکومت ہر بات میں دھوکے ہی کر تی ہے۔ پمز ہو یا شفاء۔۔ قیدی نے پھر آپ کے منہ پر لعنت ہی ڈالی ہے۔۔ ڈیل کے لفظ سے ہی اس کونفرت ہے۔ اس ساری کہانی میں البتہ سب کو یہ پتہ چل گیا کہ مقبولیت آج بھی قیدی کے سامنے ہاتھ باند کر کھڑی ہے۔