Today marks 30 days since my aunts, Dr Uzma Khan @DrUzma_KhanPK and Noreen Niazi @Noreen_KhanPK were taken from their homes and detained under the Maintenance of Public Order (MPO) law.
Their 30-day detention period has now reached its expiry, yet we have received no further order from the Lahore High Court, nor any official communication from the Punjab Home Department or jail authorities explaining the legal basis for their continued detention or confirming their release.
On what legal grounds are they still being held? Why have they not been released?
For an entire month, they have been denied access to their families and legal counsel. Their only crime is standing by their brother, Imran Khan @ImranKhanPTI and refusing to remain silent.
Thirty days of detention. No family access. No legal access. No justice.
#imrankhan
#خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو
آج ڈان میں چھپنے والی ایک خبر کے مطابق بورے والا کے چک 187/EB میں رہائیشیوں نے الزام لگایا ہے کہ سی سی ڈی اہلکاروں نے ایک مشکوک شخص بلال کو پکڑنے کے لیے چھاپہ مارا۔
مطلوب شخص تو نہ ملا مگر سادہ کپڑوں میں ملبوس سی سی ڈی کے اہلکار ایک سترہ سالہ لڑکی کو گھر سے اٹھا کے لے گئے
ون فائیو پہ کال کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ لوکل پولیس کو ریڈ کا کوئی علم نہیں، نہ انہیں لوپ میں لیا گیا ہے۔
بعد میں وہاڑی پولیس نے تصدیق کی بورے والا سی سی ڈی ٹیم نے بلال نامی ملزم کو پکڑنے کے لیے چھاپہ مارا ہے لیکن ان کا موقف ہے کہ لڑکی کو لے کر نہیں گئے
مقامی رہائشیوں کے مطابق ون فائیو پہ کال کرنے اور ایشو کے سوشل میڈیا پہ ہائی لائیٹ ہو جانے کے باعث سی سی ڈی والے چند گھنٹوں بعد لڑکی کو واپس چھوڑ گئے۔
سوال یہ ہے کہ یہ کیا اندھیر نگری ہے
خواتین تو مریم نواز کی ریڈ لائین ہیں، پھر یہ کیا تماشا ہو رہا ہے؟
From record economic growth during Imran Khan’s government to continuous devastation under the illegal regime of Asim Munir and cronies, the struggle for Pakistanis is unprecedented.
#EconomicCollapseInPakistan#FreeImranKhan
میران شاہ میں گرلز سکولوں پر دہشت گردوں نے کئی حملے کئے کئی سکول تباہ ہوئے اسکے باوجود ان تباہ شدہ سرکاری اور پرائیویٹ گرلز سکولوں کو دوبارہ کھڑا کیا گیا اور میں ایسی بچیوں کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جنہوں نے پچھلے دس پندرہ سال میں میران شاہ اور میر علی کے سکولوں میں تعلیم حاصل کی اور اب وہ پشاور کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں
https://t.co/8ALOoYNqtH
پشتو میں کہہ رہا ہے کہ جیسے ہی علاقے کے لوگ بندوقیں لے کر پہنچے یہ بھاگنا شروع ہوگئے اس بار مقامی لوگ اتنی آسانی سے اپنے علاقے کی معدنیات نہیں نکالنے دیں گے۔ ✊🔥
I've followed you all
follow back please
😂
حُکم تیرا ہے تو تَعمِیل کِیے دیتے ہیں،
زِندَگی ہِجَر میں تَحلِیل کِیے دیتے ہیں،
تُو میری وَصل کی خواہِش پہ بِگَڑتا کِیُوں ہے،
راستَہ ہی ہے چَلو تَبدِیل کِیے دیتے ہیں،
ہَم جو ہَنستے ہُوئے اَچھّے نَہِیں لَگتے تُم کو
تُو حُکم کَر آنکھ اَبھی جھِیل کِیے دیتے ہیں
😭
#قومی_زبان
#خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو
𝐅𝐑𝐄𝐄 𝐈𝐌𝐑𝐀𝐍 𝐊𝐇𝐀𝐍
عمران خان آپ جیل بیٹھ کر غریبوں کے مفت علاج کے لئے ہسپتال بناتے چلے جارہے ہیں لیکن افسوس کہ خود آپ کو اپنی مرضی کا علاج میسر نہیں ۔۔۔
اللہ کریم آپ کو شوکت خانم سے مفت علاج کرانے والے مریضوں ، ان کے والدین کی دعاوں سے جیل میں کچھ نہیں ہونے دے گا انشااللہ
آپ سرخرو ہو کر نکلیں گے ، پہلے سے زیادہ صحت مند نکلیں گے انشااللہ
ماہرہ خان جیسے پاکستانی ہیرو ہیں جو اس کاز کے لیے کام کررہے ہیں
پنجاب والے ٹک ٹاکس اب خیبر پختونخوا میں بھی دستیاب ہیں! ٹک ٹاکر تھیف منسٹر کے بعد ٹک ٹاکر گورنر۔ کوئی ذی ہوش انسان غریب عوام کا پیسہ اتنی بے دردی اور بے شرمی سے اپنی نوٹنکیوں پر کیسے لگا سکتا ہے!
مشال یوسفزئی کی یہ سب سے بڑی کامیابی ہے کہ اس نے پچھلے 36 گھنٹوں میں پورے میڈیا اور پورے سوشل میڈیا کو نان ایشوز کے پیچھے لگا دیا ہے ، میڈیا کے بڑے بڑے نام اس وقت مشال یوسفزئی کے دفاع میں سامنے آ چکے ہیں ، پاکستان کا مسئلہ مشال یوسفزئی نہیں ہے اور نہ ہی اصل مسائل وہ ہیں جو مشال بیان کررہی ہے ، جتنا مشال کو ڈسکس کیا جائے گا ، اتنا ہی اس کا مقصد پورا ہوگا ، کل مشال کی اتنی ڈیمانڈ تھی کہ بڑے بڑے صحافیوں نے منت ترلے کرکے اپنے پروگرام میں ٹیلی فون کال پر اس کا ٹائم لیا ، آج بھی پورے نیشنل میڈیا پر مشال یا مشال کی باتیں ڈسکس ہوں گی ، سوشل میڈیا بھی اس ٹریپ میں آ چکا ہے
ملاقات کا ٹائم ختم اج بھی عمران خان سے ملاقات نہیں ہو پائی اور باقاعدہ ملاقات کرائی ہی نہیں گئی یہ عمران خان سے کیوں ڈرتے ہیں یار عمران خان کو ان کو کھا جائے گا وہ اگر جب بھی ائے گا تو ووٹوں کی طاقت سے ائے گا ان کی ان کی طرح اقتدار کے اوپر قبضہ نہیں کرے گا
رانا ثناء اللہ سے مہر بخاری نے سہیل آفریدی بابر سواتی اور دیگر لوگوں کے بارے پوچھا تو رانا ثناء اللہ نے کہا جنہوں نے انھیں حفاظتی تحویل میں رکھا ہے انہیں پتا ہوگا وہ کہاں ہیں اور ان کو کب تک رکھا جائے گا تو رانا ثناء اللہ کو کچھ پتا نہیں ہے اتنی بے بسی ؟
ان بیچاروں کا کام صرف طاقتوروں کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات کے حق میں دلائل دینا رہ گیا ہے
اسد اللہ خان