اس دفعہ آشورہ پر ایک ہی پارٹی کی طرف سے دو شدید گستاخیاں کی گئیں۔ ایک محسن نقوی صاحب کی ملکیتی چینل 24 طرف سے اور دوسری جیو کی طرف سے۔ کچھ زیادہ ہی بے باکی نہیں ہو گئی؟؟
پی ٹی آئی کے جھوٹ کا پوسٹمارٹم
چودہ یونیورسٹیز
1-ویمن یونیورسٹی مردان (اے این پی)
2-یونیورسٹی آف بونیر(ولی خان یونیورسٹی مردان کا سب کیمپس)
3-ویمن یونیورسٹی صوابی(اے این پی)
4-شہدا آرمی پبلک اسکول یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ(ایک اینٹ بھی نہیں لگی)
5-یونیورسٹی آف چترال(سب کیمپس آف عبدالولی خان یونیورسٹی)
6-یونیورسٹی آف شانگلہ(سوات یونیورسٹی سب کیمپس)
7-یو ای ٹی مردان(سب کیمپس آف یو ای ٹی پشاور)
اگر پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب کسی دفاعی معاہدے پر بات چیت کررہے ہیں تو انہیں اسکا باقائدہ اعلان اور دستخط میں جلدی کرنی ہوگی۔ اس ممکنہ اتحاد کے اثر کو کم کرنے کیلئے کچھ دوسرے اتحادوں کی سازش بھی شروع ہو چکی ہے
تِرے مِرے مِلاپ پر وہ دشمنوں کی سازشیں
وہ سانپ رینگتے ہوئے چنبیلیوں کی اوٹ میں
عمران خان اور اسکے کلٹ سپورٹران ایک ہی راگ الاپ رہے ہیں کہ قطر نے امریکہ ایران درمیان معاہدہ کروایا ہے جبکہ قطر بقلم خود پاکستان کا شکرگزار ہے جس نے امریکہ اور ایران درمیان معاہدہ کروایا ہے
عمران خان کا ہر حامی ٹیریان وائٹیا کیوں ہے آج سمجھ آگیا ہے
سابقہ ٹویٹ پہ طاہر اشرفی صاحب کی تفصیلی کال موصول ہوئی، حال احوال ہوا پھر ہوم ڈپارٹمنٹ کے بعض ذمہ دار احباب نے بھی رابطہ کیا اور اپنا آفیشل نوٹیفکیشن بھی شیئر کیا۔
ان کا مؤقف یہ ہے کہ پنجاب حکومت کی طرف سے یکم تا دس محرم تمام مکاتبِ فکر کے پروگراموں کو مناسب سکیورٹی دینے کی ہدایات موجود ہیں، اور جہاں کہیں تنازع یا لا اینڈ آرڈر کا خدشہ ہو وہاں معاملہ باہمی مشاورت اور حکمت کے ساتھ ڈیل کیا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی طرف سے ایسا کوئی تحریری حکم موجود نہیں کہ اہلِ سنت یا کسی بھی مکتبِ فکر کی کانفرنسز پر پابندی ہے۔ اگر کہیں مقامی سطح پر کسی ایس ایچ او یا افسر نے زبانی طور پر کوئی بات کی ہے اور کانفرنس رکوائی ہے تو مناسب طریقہ یہی تھا کہ اس سے تحریری آرڈر لیا جاتا۔
پنجاب حکومت کے نمائندے کے مطابق آج پنجاب بھر میں سرکاری سطح پر یومِ عمر فاروقؓ کے حوالے سے 126 سے زائد تقریبات منعقد ہوئیں، اس لیے مجموعی طور پر ایسی کوئی پالیسی نہیں کہ کسی خاص مکتبِ فکر کے پروگرام روکے جا رہے ہیں۔
البتہ تھوڑی دیر پہلے رحیم یار خان سے ایک دوست نے بتایا کہ بریلوی مکتب فکر کا ایک پروگرام بھی انتظامیہ نے رکوایا ہے۔ گزارش یہ ہے کہ اگر یہ مقامی انتظامیہ کے فیصلے ہیں تو انہیں بھی شفاف انداز میں سامنے آنا چاہیے تاکہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو ۔
اور پروگرام کے منتظمین سے کہتا ہوں کہ اگر کہیں انتظامیہ کے افراد پروگرام کو رکوانے کی کوشش کریں تو انہیں یہ نوٹیفکیشن دکھائییں اور پروگرام روکنے کا تحریری آرڈر مانگا جائے یہی حل ہے۔
بہرحال ہمارا مؤقف یہی ہے کہ محرم ہو یا کوئی بھی مہینہ، کوئی دن کسی ایک طبقے کے لیے مخصوص نہیں۔ تمام صحابہؓ، اہلِ بیتؓ اور اکابرِ امت کا احترام سب کا مشترکہ دینی و ملی فریضہ ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ ہر مکتبِ فکر کے جائز اور پُرامن پروگراموں کو برابر سہولت اور سکیورٹی فراہم کرے، اور دینی طبقات بھی حکمت، تحمل اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی بات کریں۔
آپ اختلاف کر سکتے مگر مجھے نہی لگتا ایران سے پاکستان کو کسی قسم کا فائدہ پہنچے گا ایران انڈیا کی طرف ہی دوڑے گا
ہم نے جو ان کی جان بچائی صلح کروائی بس اتنی دعا کریں یہ نیکی ہمارے گلے زیادہ نا پڑے پاکستان کو ایک عالمی عزت ملی ہے اس سے زیادہ اس میں سے کچھ نہی نکلنا ہے
دفاع کے تین ہزار ارب پر بہت رونا دھونا ہوتا ہے اور "شمشیر وسناں اول" کا طعنہ بھی آتا ہے لیکن اس سے ڈھائی گنا زیادہ آٹھ ہزار ارب اسلامی بینکوں سمیت بینکاروں کی جیب میں چپ چاپ منتقل ہونے پر قبرستان کی خاموشی ڈیرے ڈال لیتی ہے۔یہ وہ دیمک ہے جو ملکی معیشت کو لگی ہے۔
اس اکاؤنٹ کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے ۔ یہ اکاؤنٹ یاسین ملک کو دہشتگرد کہہ رہا ہے ۔ اور کشمیر کو انڈیا کا حصہ بتارہا ہے ۔ شہباز گل ، معید پیرزادہ ، مرزا شہزاد جیسے لوگ اس اکاؤنٹ کو شیئر کرتے ہیں ۔
اس اکاؤنٹ کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ عادل راجہ خود ہے ۔
پی ٹی آئی باجماعت اینٹی پاکستان اور اینٹی کشمیر مہم کی سرپرستی کررہی ہے ۔
کچھ لوگ بدقسمتی سے پاکستان کو پڑوسی ملک قرار دے رہے ہیں نہ ان کو تحریک کا علم نہ ان کو جفرافیہ کا علم نہ ان کو قربانیوں کا علم ہے پڑوسی تو چین اور بھارت بھی ہیں وہاں چلے جائیں مسلمان ملک تو عرب بھی ہے وہاں چلے جاتے ؟ جب مقبوضہ کشمیر سے نکلے ہیں تو انسانی حقوق کے نام پہ فرانس یا جرمنی چلے جاتے جموں و کشمیر کے لوگ پاکستان کو پڑوسی ملک نہیں اپنی منزل مقصود سمجھتے ہیں اپنی آخری پناہ گاہ سمجھتا ہیں ہمارا تعلق لازوال ہے فطری ہے سردار عتیق احمد خان
پاکستان خلا کے میدان میں بھی انڈیا سے کئی ہاتھ آگے کھیل رہا ہے پاکستان پچھلے 16 ماہ میں 6 جاسوسی سیٹلائٹ خلا میں لانچ کرچکا ہے جس کا مقصد انڈیا کی ملٹری موومنٹ کشمیر کی سیٹلائٹ جاسوسی کرنا شامل ہے۔🇵🇰
یہ قاری خنیف ڈار ہیں، جن کے خاندان کے 9 افراد بھارتی قابض افواج نے شہید کئے اور یہ مہاجر بن کر پاکستان آئے!
آج کن کترے انکو بتا رہے ہیں کہ تم کشمیری نہیں بلکہ پاکستانی ہو، تمھارا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں
اور ہمارے صحافی اسے کن کتروں کا بنیادی حق بولتے ہیں
سابق وزیراعلی جموں و کشمیر محبوبہ مفتی نے بھی بھارتی ایکشن کمیٹی کے بھارتی نظریے پر طمانچہ رسید کرتے ہوئے کہا ہے
ایکشن کمیٹی کا شور کشمیر کے کام نہیں آرہا یہ بھارت کے بیانیے کو تقویت دے رہا ہے۔ ان کا ہر نعرہ اپنے ہی لوگوں کو کمزور کررہا ہے اور دہلی کے پروپیگنڈا کو مضبوط بناتا ہے
عادل راجہ اس وقت بھارتی میڈیا پر بیٹھ کر کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ ثابت کر رہا ہے!
اب بتائیں کہ کیا یہ تحریک کذاب کے یوتھیوبر بھارتی ایجنسیوں کے پے رول پر موجود نہیں؟
یہ ثبوت آنکھوں کے سامنے ہیں!
خیبرپختونخوا کے سرکاری سکول میں کتابیں نہیں ہیں جس کے لیے چارپائی پچھا کر چندہ جمع کیا جمع کیا رہا ہے اس صوبے کا وزیر تعلیم ہر منگل کو اڈیالہ ٹکرے مارنے آتا ہے یہاں ان کی تیسری حکومت ہے
دنیا کے ہر سیاسی اور حکومتی ماڈل کی ضروریات ہوتی ہیں ان کے بغیر وہ بہترین سے بہترین نظام انفیکشن بن جاتا ہے۔
پاکستان ایک گرینڈ ری سیٹ کی جانب بڑھ رہا ہے ہمیں کھلی جارحیت کا سامنا ہے۔
ایسے میں ریاست کا جھوٹ کی فیکٹریوں کے ساتھ لاڈ پیار
مختلف مرکز گریز قوتوں کے ساتھ بے انتہا نرمی۔ غیر مذہبی جتھوں کے ساتھ ڈائیلاگ کے نام پر ڈھیل اور ڈیل اور پراپگنڈا کی کھلی جھوٹ ہمیں بہت بڑے حادثے کی جانب لے جا رہی ہے