The women-led #MarchAgainstBalochGenocide is a shining example of non-violent and progressive political mobilisation. But instead of attention, the mainstream's intelligentsia, media and political parties are treating it with the indifference they reserve for the peripheries.
کل جسطرح پاکستانی استعماری پنجابی فوج زیر حراست بلوچ نوجوانوں کو جعلی بم دھماکے میں اڑا کر ان کو شہید کیا یہ مکروہ عمل انسانیت و بلوچ دشمنی کی انتہا ہے۔ سرکاری طو�� پر جائے وقوع کی جو تصویر جاری کی گئی ہے اور جس طرح کا جھوٹ گڑھ کر غلط بیانی کی گئی ہے اس پوری کاروائی پر سوال اٹھتے ہیں۔
چونکہ بلوچستان مکمل طور پر غیراعلانیہ فوج کی مارشلائی گرفت میں ہے۔ سول انتظامیہ، پولیس اور عدالتی نظام تتر بتر ہے اور مقامی سطح پر فوج کے کپتان، میجر اور کرنل رینک کے آفیسر کنٹرول کرتے ہیں۔ اسلئے ان سے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقاتی رپورٹ کی توقع رکھنا عبث ہے۔
اس واقعہ پر میرے یہ چند سوالات اس پاکستانی ایجنسیوں کے جھوٹ کے پلندے کے راز فاش کریں گے غور طلب ہیں اور پاکستانی فوج کی بلوچوں کے خلاف جنگی جرائم میں ایک اور اضافہ ہے۔
۱۔ تینوں نو��وانوں کی حلیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کئی مہینوں سے حجام اور حمام کی شر سے محفوظ رہے ہیں۔ یعنی ان کو نہانے، داڑھی منڈوانے اور سر کے بال بنانے کی اجازت نہیں تھی۔ ان کے جسمانی ساخت سے لگتا ہے کہ وہ انتہائی نحیف ونزار ہیں۔
۲۔گاڑی کی جس شدت سے پرخچے اڑے ہیں اس نسبت ان نوجوانوں کی جسمانی ساخت کو ریزہ ریزہ ہونا چاہیے تھا لیکن ان کے جسم اس بڑے دھماکے کے بعد بھی سالم ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ ان نوجوانوں کو پہلے قتل کیاگیا اور پھر گاڑی میں بم دھماکہ کرکے ان کی لاشیں وہاں پھینک کر یہ تاثر دیا گیا گویا یہ بلوچ مزاحمتی تحریک حرکت کے نتیجے میں شہید ہوئے ہیں۔
۳۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ نوجوان اس گاڑی میں کہاں سے آرہے تھے اور کہاں جارہے تھے۔ کیا ان کی گاڑی رکھنے کی استطاعت تھی۔ کب آخری دفعہ ان کے کسی عزیز وقریب نے ان کے گاؤں میں دیکھا تھا۔ بلوچستان کے گاؤں اور شہر قلیل آبادی پر مشتمل ہیں اور ہر آدمی ایک دوسرے سے شناسا ہے ک��ا کوئی ایسا معتبر گواہ ہے جو اس بات کی گواہی دے سکے؟
۴۔اس بات کی تو گواہی بہت سارے لوگ دیں گے کہ ان نوجوانوں کچھ مہینے پہلے پاکستانی استععماری ایجنسیوں نے اغوا کیا اور اب ان کی لاشیں بازیاب ہوئیں۔ یہ تین مہینے کہاں رہے اور یہ گاڑی انہوں نے کہاں سے حاصل کی؟
سرکار اپنے جھوٹ کو چھپانے کیلئے ان معصوم بچوں پر چوری کاالزام بھی لگا سکتے ہیں کیونکہ ایک جھوٹ کو چھپانے کیلئے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔
اسلئے یہ ساری کاروائی اور ان معصوم بچوں کا قتل سرکار پاکستان کے سر ہے۔ اور جھوٹ سے سچ کو کسی طرح شکست نہیں دی جاسکتی۔
سچ کا راستہ طویل اور کھٹن ہے لیکن کامیابی یقینی ہے۔
قاضی طاہر کیخلاف فیصلہ سنانے والی جج صاحبہ کی عمر 70 سال ہے اور غیر شادی شدہ ہے
ڈاکٹر عائشہ قریشی یا پھر ڈاکٹر اقبال افریدی سے چیک اپ کرایا جائے
اس جج صاحبہ کو ناظم اباد کے پاگل خانے کے بجائے اے ٹی سی عدالت میں بٹھایا گیا ہے
#نورالله_ترين#ATCToolOfPersecution
ایک ریاست دو دسطور 444 انسانوں کا قاتل راوانوار ازاد گھوم رہاہیں اور ایک پشتون قاضی طاہر امن مانگنے والا بے گنا جیل کے سلاخوں میں عمر قید کی سزاء سنایی افسوس پشتون؟
@ManzoorPashteen#ATCToolOfPersecution
پشتونوں کیلئے ایک اور تحفہ ۔
کراچی کی دہشت گردی عدالت نے ہمارے ساتھی قاضی طاہر کو عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔ہم پشتون اپنی مٹی کی وفاداری کی ایک بڑی قیمت ادا کررہے ہے ۔چاہے عمر قید ہو یا موت ہو ہم اپنی پُرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔
Yesterday protest in Swat for the release of missing persons - Yesterday Jani Khels protested for peace. Today jirga held in Jandola for the release of five locals - Today Sararougha Sit-in in Tank postponed who were protesting for the release of five locals since 12 days. 1/3