پاکستان کا پہلا تعلیم کارڈ جاری کرنے پر کراچی کے گلبرگ ٹاؤن میں جماعت اسلامی کی منتخب بلدیاتی قیادت کو مبارک پیش کرتا ہوں، ایک ایسے وقت جب حکومت عوام پر ہر ہفتے پٹرول بم گرا رہی ہے گلبرگ ٹاؤن نے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر ہزاروں طلبا کو کورس و تعلیمی اشیاء کی خریداری کے لئے وظائف جاری کیے ہیں۔ جماعت اسلامی کے منتخب بقیہ 8 ٹاؤنز میں بھی ان شاءاللہ تعلیم کارڈ جلد جاری ہوگا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کا باقاعدہ جنگ کی طرف بڑھنا انتہائی تشویش ناک ہے۔ دو ہمسایہ اسلامی ممالک کے درمیان یہ صورتحال دونوں طرف کے عوام کے لیے نہایت تکلیف دہ ہے۔
پاکستان کی سلامتی اور دفاع 25 کروڑ پاکستانیوں کی ترجیح اول ہے۔ پاک افغان کشیدگی ایک ایسے وقت شدت اختیار کررہی ہے جب تل ابیب میں بھارت اور اسرائیل اکٹھا ہیں اور یہ اتحاد پورے عالم اسلام کے لیے مہلک ہے۔ طالبان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بھارت ان کا دوست نہیں ہوسکتا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ کشیدگی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے
امریکہ اس وقت ایران پر لشکر کشی کے بہانے تلاش کررہا ہے اور غزہ میں کیے گئے جنگی جرائم سے توجہ ہٹانے کے لیے جنگ کا مرکز تبدیل کیا جارہا ہے۔ افغان قیادت کوئی ایسا راستہ اختیار نہ کرے جس سے وہ عالم اسلام سے کٹ جائیں اور اسلام دشمن قوتوں کو اس کا فائدہ ہو
حکومت پاکستان کی جانب سے اس اہم اور نازک موقع پر قومی مشاورت سے گریز ناقابل فہم ہے،
فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔
اس صورت حال میں ضروری ہے کہ عالم اسلام کے جید علما ماضی کی طرح سامنے آئیں اور پاکستان و افغانستان کے درمیان جنگ کی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں
چین ، ترکی ، قطر اور سعودی عرب گزشتہ عرصہ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کو ترک نہ کریں اور اس موقع پر از سر نو اپنا کردار ادا کریں
پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ اسرائیل کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ عالم اسلام کے درمیان اتحاد و اتفاق کی ہر کوشش کو زائل کرنا یہود و ہنود کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔
ملک میں آخری چھ سال میں غربت
21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.8 فیصد پر پہنچ گئی گویا اصلاً اضافہ 31.5 فیصد ہوا ہے۔ ایک طرف ملکی قرضہ آسمان کو چھو رہا ہے دوسری طرف غربت کا گراف ریکارڈ تیزی سے اوپر جارہا ہے۔ یہ ہے حکمران اتحاد کی رپورٹ کارڈ! آخری 6 سال میں آئی ایم ایف پروگرامز کے تحت اربوں ڈالرز کا قرض لیا گیا، کھربوں روپے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت غریبوں میں تقسیم کے نام پر عملاً فراڈ کیا گیا، مگر نتائج ہولناک ہیں۔صوبائی سطح پر بھی غربت میں اضافے میں تیزی دیکھی گئی۔ درحقیقت ملک کی حکمران جماعتوں کے پاس عوام کی بہبود کا کوئی پروگرام سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ یہ پارٹیاں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ کرتی ہیں اور ان کی پالیسیاں اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے کے گرد گھومتی ہیں۔ انھیں پرتعیش اڑان کے لیے 11 ارب روپے کا طیارہ چاہیے، چاہے قوم کی حالت کچھ بھی ہو۔
لاہور کے یتیم خانے کی بچیاں جادو کیلئے استعمال کیے جانے کی خبروں کے بعد ایبسٹین لیکس نے راز کھولا کہ سینیئر بش جادوئی عمل میں چھوٹے بچوں کا گوشت کھاتا تھا۔
جنسی گندگی اور انسان دشمنی کے یہ مظاہرے درحقیقت شیطان کی عبادت کے طریقے ہیں۔اقتدار کے حریص ان افعال کے ذریعے اسے راضی کر کے اقتدار اور طاقت حاصل کرتے ہیں۔
اس فہرست میں توقع کے عین مطابق مودی کا نام بھی آیا ہے۔باجوے کے نکے کا نام پہلے ہی آ چکا ہے۔شیطانی سلسلہ سلوک کے ان اقطاب میں قطب الاقطاب کی حثیت نیتن یاہو کو حاصل ہے مگر اس کا نام نہیں ہے۔
علامہ اقبال نے ابلیس سے اللہ تعالیٰ کے سامنے کیا خوب کہلوایا ہے:
"جمہور کے ابلیس ہیں ارباب سیاست
باقی نہیں میری ضرورت اب تہہ افلاک"
نہ صوبائی کنٹرول نہ وفاقی کنٹرول
کراچی کے مسائل کا حل صرف "کراچی سٹی گورنمنٹ" ہے، یعنی شہر کی بااختیارحکومت۔ عوام کے ووٹوں کی توہین کرکے قبضہ نظام نہیں چلے گا۔ آج لوگ سندھ حکومت سے نالاں ہیں کل وفاق کے خلاف آواز اٹھائیں گے اس لیے، کراچی کا اختیار صرف کراچی کے شہریوں کے پاس ہونا چاہیے۔ دنیا کے تمام بڑے شہروں میں یہی نظام ہے۔ اگر مغربی دنیا میں لندن اور نیویارک طاقتور بلدیاتی حکومتوں کی بہترین مثال ہیں تو مسلم دنیا میں تہران اور استنبول میں یہ نظام کامیابی سے ڈیلیور کررہا ہے۔ کراچی کے شہری آج بھی سن 2001 سے 2005 تک سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کی قیادت میں کام کرنے والی سٹی گورنمنٹ کو شہر کا سنہری دور قرار دیتے ہیں۔
گوادر کے نوجوانوں کا جوش و جذبہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، کوئٹہ اور جعفر آباد کے بعد گوادر میں بنوقابل آئی ٹی پروگرام کے لیے ہزاروں نوجوانوں نے داخلہ ٹیسٹ میں شرکت کی۔ بلوچستان کے مسائل کا حل نوجوانوں کے لیے برابر کے مواقع پیدا کرنا اور انہیں مثبت سرگرمیوں سے جوڑنا ہے۔ یہ ہزاروں نوجوان الخدمت کے تحت آئی ٹی کورسز کے ذریعے نہ صرف اپنے قدموں پر کھڑے ہوں گے بلکہ ملک و قوم کی تعمیروترقی میں کردار ادا کریں گے۔
شدید سردی کے باوجود پنجاب حکومت کے بلدیاتی کالے قانون کے خلاف عوامی ریفرنڈم میں صوبہ بھرکے عوام نے بھرپور شرکت کی ہے یہ ریفرنڈم 18 جنوری تک جاری رہے گا۔ اس جمہوریت دشمن اور عوام دشمن ایکٹ کے خلاف عوام میں شعور پیدا کرنے اور انھیں بااختیار بنانے کی یہ تحریک ان شاءاللّٰہ آگے بڑھے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں حکومت میں آکر بلدیاتی حکومتوں کے انتخابات نہیں کرانا چاہتیں اور اگر مجبوراً کرانے پڑیں تو لولا لنگڑا اور بے وزن نظام بناکر عوام کے اصل نمائندوں کو بے اختیار بناتی ہیں۔ جماعت اسلامی کی بدل دو نظام تحریک ان شاءاللّٰہ عوام کو حق دلائے گی۔ #PunjabAwaamiReferendum
ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف تاریخی فتح پر پاکستان انڈر 19 کے نوجوان کھلاڑیوں کو مبارک باد، نوجوان سمیر منہاس کی 172 رنز کی اننگز لاجواب تھی، فاسٹ بولر علی رضا بھی مستقبل کا اسٹار ہے، سرفراز احمد کو بھی مبارکباد، جن کی زیر نگرانی پاکستان کرکٹ نے ایک اور بڑا معرکہ سر کرلیا
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار بھارت ایک فسطائی ریاست بن چکا ہے۔ فاشسٹ مودی کے بھارت میں کسی غنڈے یا بدمعاش نے چوری چھپے نہیں بلکہ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ نے پوری دنیا کے سامنے مسلمان خاتون کے چہرے سے نقاب نوچا۔ یہ اسلام دشمنی، مسلم دشمنی اور ہندوتو کی ذہنیت کا کھلا اظہار ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ حکومت پاکستان نے اس مکروہ واقعے کی کھلی مذمت تک نہیں کی۔ تمام مسلم ممالک کو کم از کم بھارتی سفیر کو بلا کر احتجاج تو کرنا چاہیے۔ پورے عالم اسلام کو اس معاملے پر ہندوستان کی مذمت کرنی چاہیے۔
اسے سرائیکی علاقے کا ایک گائوں سمجھ لیں۔ اگر جنوب کے لوگ صوبہ مانگیں تاکہ اپنا این ایف سی اور اپنا بجٹ ہو یا حکمران ہو جو لاہور نہ بیٹھا ہو ملتان ہو، تو لگتا ہے ملک ٹوٹ جائے گا۔ سب ناراض ہو جاتے ہیں۔
آپ بھول جائیں کہ یہاں سیلاب آیا یا نہیں۔ زرا یہ سب منظر تو دیکھیں۔ سردی کے اس موسم میں کچی دیواروں سے لپٹی اداسی اور غربت کو محسوس کریں۔ مریم نواز صاحبہ نے بڑے بڑے وعدے کیے تھے کہ مکمل بحالی ہوگی پھر وہ بھول گئیں کہ بحالی کا کیا بنا۔۔
مریم اورنگزیب صاحبہ دن رات وہیں موجود رہیں، پنجاب وزیروں کی فوج اور بیوروکریٹس رہے لیکن ان children of lesser god کو کیا ملا؟
اس ڈھائی منٹ کے رونگٹھے کھڑے کر دینے والے کلپ کو دیکھیں اور ان چہروں اور گھروں کی غربت کا اندازہ کریں۔ کیا انہیں گھر کہنا بھی توہین نہیں ۔۔ زرا گھروں کی حالت دیکھیں۔۔ ٹوٹی پھوٹی دیواریں؛ ملبہ، گری پڑے چھتیں اور ان کا سب کا مستقبل دیکھیں۔ مریم نواز صاحبہ اپنے وعدے پورے کریں۔
اس سردی کے موسم میں ان کچے مٹی کے گھروں /خیمے ایک رات اپنی کابینہ/بیوروکریسی کے ساتھ گزاریں اور وہ تکلیف محسوس کریں جو یہ خاندان اس سردی میں محسوس کررہے ہیں۔ اپنے بچوں کو ان فضل کے بچوں کی جگہ رکھ کر سوچیں کیونکہ آپ کا نعرہ ہے آپ سب کی ماں ہیں۔
Video Credit || Osama Nazar
@MaryamNSharif@Marriyum_A@AzmaBokhariPMLN@GovtofPunjabPK@Muzaffargarh_dc
پنجاب میں بلدیات کےغیرجمہوری کالے قانون کے خلاف جماعت اسلامی کا آج پنجاب بھر میں احتجاج نقطہ آغاز ہے
وزیر اعلی محترمہ مریم نواز صاحبہ ابھی بھی وقت ہے اس میں ترامیم کرکےاس کی اصلاح کیجیےورنہ یہ قانون آپ کی بدنامی اور ناکامی کا قانون ثابت ہو گا عوام کسی صورت اسے قبول نہیں کریں گے
کراچی والوں آپ اگر بھتے، پرچی، چوری، ڈکیتی، گولی، گالی، بارش وغیرہ سے فارغ ہو گئے ہو تو ڈھکن چوروں سے بھی خود لڑو کیونکہ قبضہ میئر اور اس کی پوری ٹیم وڈیرو کی دلالی اور کرپشن جیسے عظیم کام میں مصروف عمل ہے۔
پاکستان میں فوجی آمریت نے جماعتِ اسلامی کو جتنی ضرب پہنچائی، اتنی کسی اور کو نہیں پہنچائی۔ اس میں منکرینِ حدیث کے بانی غلام احمد پرویز کا بڑا کردار تھا، جس سے فیلڈ مارشل ایوب خان خاصا متاثر تھا۔ پرویز صاحب نے ایوب خان کو یقین دلایا کہ اسلام میں سیاست کی کوئی گنجائش نہیں، اور نہ ہی اسلام میں اقامتِ دین کا کوئی تصور موجود ہے۔ چنانچہ ایوب خان نے مولانا مودودیؒ اور جماعتِ اسلامی کو ختم کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔
لیکن جب مولانا مودودیؒ گردے کے علاج کے لیے لندن پہنچے تو ایئرپورٹ پر صحافیوں نے اُنہیں گھیر لیا اور پاکستان کی سیاسی صورتحال کے بارے میں سوالات کرنے لگے۔ انہوں نے دو ٹوک جواب دیا کہ ’’یہ سب باتیں میں پاکستان ایئرپورٹ پر چھوڑ کر آیا ہوں۔ پاکستان میں جو کچھ ہے وہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے، اور بیرونِ ملک اسے زیرِ بحث لانا وطن دوستی کے خلاف ہے۔‘‘
کاش عمران خان کی بہنیں بھی بھارتی نیوز چینل کو اسی طرح واضح الفاظ میں کہتیں کہ ’’ہم ملکی سیاست کو بیرونِ ملک کے چینلوں پر زیرِ بحث نہیں لاتیں۔‘‘ بھارتی میڈیا کو انٹرویو دے کر ان ستم رسیدہ بہنوں نے عمران خان کے مسائل میں اضافہ ہی کیا ہے، کمی نہیں۔
مینار پاکستان پر فلسطین کانفرنس ہورہی ہے ۔ اس میں گلوبل صموڈا کی سربراہی کرنے والا برازیل کا شخص سٹیج پر بیٹھا ہے جبکہ فلسطین اور دنیا بھر کی اسلامی تحریکیوں کے نمائندے بھی موجود ہیں ۔۔۔
لیکن ایک جماعت کے زہنی غلام بدھو کہ رہے ہیں ۔ جماعت اسلامی اجتماع میں فلسطین کا نام نہیں لے رہی
جب کہ حافظ نعیم الرحمن صاحب نے غزہ کے حق میں اسرائیل کے خلاف دو ٹوک موقف بیان کر دیا ہے
سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ امریکہ کے باغیوں کی پوری دنیا کی قیادت ایک نئی صبح کی تلاش میں یہاں جمع ہے ہم ایک ایسی دنیا چاہتے ہیں جہاں نیکی کرنا آسان اور برائی کرنا مشکل ہو۔ جس میں کشمیر اور فلسطین کی آزادی نصیب ہو اور ہم اپنی بہن ڈاکٹر عافیہ کو وطن لانے میں کامیاب ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسی عدالت چاہتے ہیں جہاں عام آدمی کو انصاف ملے ۔ ہم ایسی ریاست چاہتے ہیں جہاں غریبوں کو مفت علاج اور تعلیم کی سہولت ملے۔
#جماعت_اسلامی کےاجتماع عام میں #خواتین_بائیکرز کی شرکت اور پیغام‼️
“#بدل_دو_نظام”🇵🇰
✍️
جماعت اسلامی کےپروگرام میں خواتین کی اس اندازسےشرکت نےیہ واصح پیغام دیاہےکہ جماعت اسلامی خواتین کےراستےمیں رکاوٹ نہیں بلکہ ان کوتحفظ فراھم کرےگی ۔ان کیلئےتعلیم،صحت اورروزگارکےمواقع فراھم کرےگی۔