الحمدللہ۔
ہم نے حقیقی عاشق رسول ص کا ساتھ دیا اور دنیا میں اسلامی قوانین بنوانے میں اپنا کردار ادا کیا۔
فساد اور گالیوں کی سیاست کرنے والوں کے لئیے لمحہ فکریہ..
کوئی پوچھے تو کہنا آقا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کا غلام عمران خان آیا تھا
#ThankYouImranKhan
آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے لمز کے طلبہ سے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ملک کے فیصلے میں کرتا ہوں تو پھر آپ جانتے ہی نہیں عمران خان نیازی کس چیز کا نام ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے لمز کے طلبہ سے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ملک کے فیصلے میں کرتا ہوں تو پھر آپ جانتے ہی نہیں عمران خان نیازی کس چیز کا نام ہے۔
خان صاحب کو آپوزیشن جتنا گرانے کی کوشش کرتی ہے اللہ اُتنی عزت دے رہا ہے۔
بھارتی ہائی کمیشن اسلام آباد میں ہونے والی او آئی سی کانفرنس کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے
(شاہ محمود قریشی)
شاہ محمود قریشی کا اشارہ کہیں مولانا کے لانگ مارچ کی طرف تو نہیں ہے؟
مولانا نے ایک دفعہ 14 اگست نہ منانے کا اعلان کیا تھا اور اب 23 مارچ کو یوم پاکستان پر فساد برپا کرنے کا اعلان کیا ہے.. اسی روز اسلامی وزرائے خارجہ کی کانفرنس بھی منعقد ہو ر��ی ہو گی
مولانا جس کے بڑوں نے پاکستان تسلیم نہیں ک��ا وہ خود اب پاکستان میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں
سمیع ابراہیم نے خبر دی ہے کہ شھزادہ محمد بن سلمان نے طاقتور حلقوں کو پیغام پہنچایا ہے کہ عمران خان کا اس وقت وزارتِ عظمیٰ سے ہٹنا پاکستان کے حق میں نہیں ہے.. امت مسلم مغرب کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے جو کوششیں کر رہی ہے وزیراعظم کا منظر سے ہٹنا ان کوششوں کو دھچکا پہنچائے گا
وزیراعظم عمران خان کا عوامی جلسوں کے دوران دورے پر آنے والے اخراجات خود اٹھانے کا فیصلہ۔
وزیراعظم کے دورے کے دوران ہونے والا خرچ پارٹی, قومی خزانے میں و��پس ادا کرے گی.
#AwaamWithKaptaan
#ReadyForDChowk
مال لانا فضل الرحمن تبلیغی جماعت کے امیر مولانا عبد الوہاب سے ملنے جب راہیونڈ گے تو عبدالوہاب صاحب نے گریبان سے پکڑ کر نیچے زمین پر گرا لیا اور اوپر بیٹھ گے
پوری روداد سنیں مولانا صاحب کی زبانی
فضل الرحمان کی جماعت کے سندھ کے سیکریٹری جنرل راشد محمود سومرو صاحب کے مطابق قیامت کی نشانی بلاول کا کرپشن کے خلاف بات کرنا ہے
لیکن کیا کریں درمیان میں عمران خان آ گیا اور یہ سب نورا کشتیاں فی الحال معطل کرنا پڑیں
گندہ ہے پر ��ھندہ ہے
مولانا فضل الرحمان صاحب ماضی میں پاکستان پر ڈرون حملوں کی منظوری دستاویز پر دستخط کرنا قبول کر چکے ہیں ۔ یہ انٹرویو معروف صحافی سلیم صافی صاحب کے ساتھ ہوا جو جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں نشر ہو چکا ہے ۔