میرے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن ہو چکے ہیں۔ پچھلے چھ ہفتوں سے انہیں مکمل بے خبری کے ماحول میں ڈیتھ سیل میں تنہا رکھا گیا ہے۔ ان کی بہنوں کو ہر ملاقات سے روک دیا گیا ہے حالانکہ عدالت کے ��اضح احکامات موجود ہیں۔ کوئی فون کال نہیں، کوئی ملاقات نہیں اور زندگی کی کوئی خبر نہیں۔ میں اور میرا بھائی اپنے والد سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کر سکے۔
یہ مکمل اندھیرا کسی حفاظتی پروٹوکول کا حصہ نہیں۔ یہ ایک جان بوجھ کر کی گئی کوشش ہے تاکہ ان کی حالت کو چھپایا جائے اور ہمارے خاندان کو یہ نہ معلوم ہو سکے کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکومت اور اس کے آقاؤں کو میرے والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی تنہائی کے ہر نتیجے کی قانونی، اخلاقی اور بین الاقوامی سطح پر مکمل ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔
میں عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہر جمہوری آواز سے اپیل کرتا ہوں کہ فوری مداخلت کریں۔ زندگی کی تصدیق کا مطالبہ کریں، عدالت کے احکامات کے مطابق رسائی یقینی بنائیں، اس غیر انسانی تنہائی کو ختم کریں اور پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی رہنما کی رہائی کا مطالبہ کریں جنہیں صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر قید رکھا گیا ہے۔
“2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔
لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام ��گایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟”
ناحق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کا جیل سے پیغام
(9 اکتوبر، 2025)
بلآخر آج فوج ��ے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر نے اقبال جرم کر لیا کہ پختونخواہ میں جان بوجھ کر دہشت گردوں کو جگہ دی گئی۔ اس اقبالی بیان کے بعد فوج کی موجودہ اور سابق قیادت بشمول پروپیگنڈا سیل آئی ایس پی آر کو ہمارے ہر شہری اور جوان کی شہادت کی وجہ بننے پر سخت سے سخت سزا دینی چاہئے۔
اکتوبر ۲۰۲۱ میں فوجی قیادت کی جانب سے بہت کوشش کی گئی کہ اپنے پیش کیے، مذاکرات کے نام پر آبادکاری کے منصوبے کی منظوری لی جائے اور نئی جنگ کی خواہش کا سارا ملبہ عمران خان پر ڈال دیا جائے لیکن ہم نے دلائل سے بات کی اور وزیراعظم نے آپ کا منصوبہ مسترد کردیا۔
رجیم چینج کے اگلے مہینے پی ڈی ایم کو اس منصوبے پر بری��نگ دی گئی، وینٹی لیٹرحکومت کی بحث کی مجال۔ حکومتی وزراء بشمول وزیر داخلہ نے باہر آ کر اس منصوبے کے حق میں ٹویٹس کیے، بیانات دیے اور عسکری سرپرستی میں افغانستان وفد بھیجا گیا۔
⁃وفد کی خبر ملتے ہی پان�� سوال کیے کہ ۸۰ شہدا کی قربانی دینے کے بعد پھر کیوں امن برباد کر رہے ہیں؟ کس مینڈیٹ کے تحت اس وفد کو بھیجا گیا کیا بات چیت ہو رہی ہے؟ وغیرہ۔
⁃اگست ۲۰۲۲ میں افغانستان سے ان کو لانے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے میں آواز اٹھاتا ہوں، ڈی جے صاحب آپ کا ہی ادارہ فون کرکے کہتا ہے ”stay out of it“ جواب دیا کہ ۸۰ ہزار شہدا کے بعد اپنا امن تباہ نہیں ہونے دوں گا۔آج جس طرح انسانی جانوں پر آپ بیانیہ بنا رہے تھے بالکل اسی طرح آپ کے ادارے نے پریس ریلیز جاری کی کہ دہشت گردی کی واپسی کی خبر جھوٹ ہے، وزیر داخلہ نے بھی اس کو پروپیگنڈا قرار دیا۔
⁃میں نے عوامی تحریک چلائی، مجھے آپ ہی کے ادارے نے فون ک��ا کہ ۴۸ گھنٹے دیجئے واپس چلے جائیں گے اور حیران کن طور پر آپ کے زیر سایہ وہ سوات سے نکل گئے۔
⁃دیر کے پہاڑوں تک پہنچے تھے کہ میں نے پھر احتجاج کی کال دی پھر آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی کا فون آیا کہ سوات سے نکل تو گئے ہیں اب ملک کے ٹھیکدار تو نہ بنو۔لیکن میں امن کا ٹھیکدار بنا اور آخری بندہ نکالنے تک سڑکوں پر رہا۔ امن قائم ہوگیا میری زندگی عذاب بنا دی گئی، یہ بھی تفصیلاً بتا چکا ہوں۔
⁃پھر دوبارہ کوشش کی گئی اور اس دفعہ ساتھ ہی ان کو پھیلایا بھی جانے لگا، جیسے آج ہو رہا ہے۔ آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی ایس پی آر اکٹھے مجھے ریاست دشمن قرار دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔
⁃طالبان غصہ آپ غصہ۔۔ وہ اس لیے غصہ کہ آپ نے ان کو لانے اور آباد کرنے کا وعدہ کر رکھا تھا۔ آپ اس لیے غصہ کہ ریاست تو ہم ہیں، ہم نے نئی جنگ کا فیصلہ کیا ہے تو یہ کون ہے راستے میں رکاوٹ بننے والا؟ منت کی جھولی پھیلا کر التجا کی کہ نہ کریں یہ، ہمارے اپنے لوگ اس کا ایندھن بنیں گے ہمارے جوان شہید ہوں گے لیکن ”آپ” نہیں مانے۔۔!
⁃پھر ہم نے پنڈی میں مظاہرے کی کال دی اور وہ دیکھتے ہی آپ نے ان کو گاڑیوں میں بٹھا کر واپس بھجوایا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس دفعہ لائیں گے لیکن پہلے آپ کو ٹھکانے لگائیں گے۔ اسی عزم کا اظہار آپ کے بھائیوں نے بھی کیا کہ برف پگھلے گی تو آئیں گے اور پہلے آپ کا بندوبست کریں گے۔ ۲۴ اپریل ۲۰۲۳ کو سوات سی سی ڈی تھانے پر حملہ کرنے والے اسی مقصد سے آئے تھے، میں نہیں ملا تو تھانے پر حملہ کردیا۔
⁃واضح تھا کہ اب جنوبی اضلاع سے ان کو لایا جائے گا لہذا میں نے وہاں امن تحریک کی کال دی اور اس کے اگلے ہی روز مجھے زندہ یا مردہ پکڑنے کا حکم صادر ہوا،تب تک ۹ مئی کا فالس فلیگ نہیں ہوا تھا تو آپ کو میں کس جرم میں مطلوب تھا؟
⁃نگران حکومت میں جنوبی اضلاع سے ان کو آباد کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ان کو مقامی آبادی ��ے بیچوں بیچ لا کر بسایا گیا۔
⁃ابھی سیلاب کے دنوں میں جب قوم سیلاب سے نمٹنے میں مصروف تھی ان کو باجوڑ سے کاٹلنگ اور دیر سوات کے پہاڑوں پر پہنچانے کا بھی کام بخوبی نبھایا جا رہا تھا۔آئی ایس آئی مقامی انتظامیہ کو ان کے روٹس بتا کر اس رات اپنے دفتر یا پولیس اسٹیشن کی لائٹس بند کرکے نہ نکلنے کا حکم دیتی رہی۔
تفصیلات بہت ہیں کیا کیا بتاؤں آپ کی آج کی حواس باختہ گفتگو سے بیرونی طاقتوں سے کی گئیں کمٹمنٹس کا دباؤ اور طاقت کو طول دینے کے لیے ان کمیٹمنٹس کی جلد از جلد تکمیل کی جھنجھلاہٹ تو واضح ہے۔ پھر تم جنازوں پر جذباتی بیانیے بناو، جھوٹ بولو، مگرمچھ کے آنسو بہاؤ مگر یہ میری قوم تمہاری حوس کی بھینٹ چڑھتے چڑھتے تھک چکی ہے۔ یہ میرے لوگ تمہاری طاقت کو دوام دینے کے لیے بہت بلی چڑ چکے۔ میرے ہر پاکستانی شہری، ہر جوان کا خون تمہارے ہاتھوں پر ہے، مزید ہم غریبوں کے بچے تمہاری جنگوں کا ایندھن کیوں بنیں؟
جن قدموں سے لے کر آئے ہو، ان ہی پیروں واپس بھجوا دو۔ جیسے پھیلایا ہے ویسے سمیٹ بھی لو۔
بہت ہوگئی یہ اداکاریاں تمہاری ریاکاریاں!