ہم نے ان کے سامنے یہ بات بھی رکھی ہے کہ وفاق کی سطح پر دینی مدارس کے رجسٹریشن کا قانون پاس ہو چکا ہے، صوبے میں اس قانون کو من و عن اسمبلی سے پاس کرایا جائے اور اس پر عمل درآمد ہو جس طرح کے قانون کہتا ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی وزیراعلی سہیل آفریدی کے ہمراہ میڈیا ٹاک
#JUI #PTI #Madaris #Bill
مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ساتھ وزیر اعلی پختونخواہ کی ملاقات کے بعد وفاقی حکومت نے گھٹنے ٹیک دئے، این ایف سی ایوارڈ میں اضافہ کے بعد گندم کی ترسیل کا بھی آغاز
آج کے حالات میں، میں پاکستان پیپلز پارٹی کو براہ راست مخاطب کر کے کہنا چاہتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے قیادت میں پاکستان کا آئین بنا، میرے والد نے اس پہ دستخط کیا ہے، میں تو اس آئین کو تحفظ دینے کا عزم کر رہا ہوں، آپ کے دیکھا دیکھی اگر اس آئین کو ختم کر دیا گیا، صوبوں کے حقوق تباہ و برباد کر دیا گیا، صوبوں کا باہمی اعتماد خراب کر دیا گیا، تو آپ بتائیں کہ پھر آپ ذوالفقار علی بھٹو کے راستے پہ جا رہے ہیں؟ آٹھارویں ترمیم ہوئی، مارشل لاو نے آئین کو جتنا خراب کیا تھا، گند کر دیا تھا، آٹھارویں ترمیم کے ذریعے اس کو صاف کیا گیا، آپ کی حکومت تھی اور ہم مل کر ایک کمیٹی میں بیٹھے، نو مہینے تک ہم نے پورے آئین کو صاف کیا اور متفقہ طور پر ایوان سے پاس کرایا، آج ہم اس آٹھارویں ترمیم کے تحفظ کی بات کرتے ہیں، آپ کیوں خاموش ہیں؟ تم کیوں کمزوری دکھا رہے ہو؟ کس بات کی کمزوری دکھا رہے ہو؟ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم صوبوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں، جو آٹھارویں ترمیم میں ہم نے طے کیں تھے، ہم اس آئین کے حفاظت کرنا چاہتے ہیں، جو آئین ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا تھا، تو جب ہم چاہتے ہیں کہ وہ محفوظ ہو آپ کیوں پیچھے ہٹیں گے اور آپ کیوں سودے کریں گے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشین میں خطاب
جے یو آئی پاکستان کی جانب سے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں درخواست دائر**
اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (پاکستان) نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کے بعض دفعات کو قرآن و سنت اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 227 کے منافی قرار دیتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت میں شریعت پٹیشن سنیٹر کامران مرتضٰی نے دائر کر دی ہے۔
**اہم نکات:**
• درخواست میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلام بچوں کے استحصال اور ظلم کی مکمل ممانعت کرتا ہے اور بچوں کے تحفظ کو اسلامی فریضہ قرار دیتا ہے۔
• جے یو آئی کے مطابق قانون میں 18 سال سے کم عمر ہر فرد کو "بچہ" قرار دینا اسلامی فقہ میں بلوغت (Bulugh) کے اصول سے متصادم ہے، جہاں بلوغت کو قانونی اہلیت کا معیار سمجھا جاتا ہے۔
• درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شادی کے لیے 18 سال کی لازمی عمر مقرر کرنا اسلامی تعلیمات اور صدیوں پر محیط فقہی اتفاق رائے سے مطابقت نہیں رکھتا۔
• پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ قانون کے تحت کم از کم دو سال قید کی لازمی سزا اسلامی اصولِ تعزیر اور عدل کے منافی ہے کیونکہ اس میں عدالت کے صوابدیدی اختیار کو محدود کیا گیا ہے۔
• درخواست گزار کے مطابق قانون میں نکاح کے بعد ازدواجی تعلقات کو بعض صورتوں میں "چائلڈ ابیوز" قرار دینا اسلامی نکاح کے تصور اور ازدواجی حقوق سے متصادم ہے۔
• پٹیشن میں والدین اور سرپرستوں کے خلاف جرم کا مفروضہ (Presumption of Guilt) قائم کرنے پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے اور اسے اسلامی اصولِ "براءتِ اصل" (Presumption of Innocence) کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔
• جے یو آئی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قانون میں غیر معمولی حالات کے لیے کسی عدالتی استثنا (Judicial Exception) کا طریقہ کار موجود نہیں، حالانکہ متعدد مسلم ممالک میں ایسے قانونی انتظامات موجود ہیں۔
• درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون کی بعض دفعات اسلامی خاندانی نظام، ولایت (سرپرستی) اور نکاح سے متعلق شرعی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔
**درخواست میں عدالت سے استدعا**
• 18 سال سے کم عمر افراد کی تعریف اور اس سے متعلق متنازع دفعات کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔
• لازمی سزاؤں میں عدالتی صوابدید شامل کی جائے۔
• والدین اور سرپرستوں کے خلاف جرم کے مفروضے کو ختم کیا جائے۔
• غیر معمولی حالات میں عدالتی اجازت کے ذریعے استثنا کا طریقہ کار متعارف کرایا جائے۔
• قانون کو قرآن و سنت اور اسلامی فقہی اصولوں کے مطابق ہم آہنگ بنایا جائے۔
*
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے مقصد سے اختلاف نہیں، تاہم قانون سازی کو اسلامی احکامات، آئینی تقاضوں اور شرعی اصولوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے تاکہ بچوں کے حقوق کے ساتھ اسلامی خاندانی نظام کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔
**جمیعت علماء اسلام کی جانب سے وفاقی شرعی عدالت میں ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2026 کے خلاف درخواست دائر**
اسلام آباد: جمیعت علماء اسلام نے وفاقی شرعی عدالت میں ڈومیسٹک وائلنس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2026 کے بعض دفعات کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیتے ہوئے شریعت پٹیشن دائر کر دی ہے۔ سنیٹر کامران مرتضٰی نے پٹیشن جمع کی
**اہم نکات:**
• درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام ظلم، تشدد اور گھریلو بدسلوکی کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے اور متاثرہ افراد کے تحفظ کا مکمل حامی ہے۔
• پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ ایکٹ کی بعض شقیں اسلامی خاندانی نظام، نکاح، طلاق اور خاندانی تنازعات کے حل سے متعلق شرعی اصولوں سے متصادم ہیں۔
• جے یو آئی نے اعتراض اٹھایا ہے کہ قانون میں "ٹرانس جینڈر پرسن" کی شمولیت ایسے تصور پر مبنی ہے جسے وفاقی شرعی عدالت پہلے ہی قرآن و سنت کے منافی قرار دے چکی ہے۔
• درخواست کے مطابق قانون میں "طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی" کو نفسیاتی تشدد قرار دینا قرآنِ مجید میں دیے گئے بعض شرعی حقوق کو متاثر کرتا ہے۔
• پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یکطرفہ شکایت پر شوہر کو گھر سے بے دخل کرنے کے اختیارات اسلامی اصولِ عدل اور خاندانی نظام سے مطابقت نہیں رکھتے۔
• درخواست گزار کے مطابق خاندانی تنازعات کے حل کے لیے قرآن مجید میں صلح، مصالحت اور ثالثی (تحکیم) کا جو طریقہ مقرر کیا گیا ہے، قانون میں اسے مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔
• پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ قانون کو اسلامی تعلیمات، قرآن و سنت اور آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 227 کے مطابق ہم آہنگ بنایا جائے۔
• جے یو آئی نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ متنازع دفعات کو کالعدم قرار دیا جائے یا ان میں مناسب ترامیم کی ہدایت دی جائے۔
***
درخواست میں واضح کیا گیا ہے کہ مقصد گھریلو تشدد کے متاثرین کے تحفظ کی مخالفت نہیں بلکہ ایسے قانونی فریم ورک کا قیام ہے جو متاثرین کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی خاندانی نظام اور آئینی تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہو۔
اسلام آباد:سینیٹ میں صنعتی تعلقات (ترمیمی) بل 2026 پیش کرنے کا نوٹس جمع، جےیوآئی کے سنیٹر کامران مرتضٰی نے پیش کیا، جس کا مقصد مزدوروں کے حقوق کے تحفظ، صنعتی امن کے فروغ اور صنعتی تعلقات کے نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانا ہے۔
**اہم نکات:**
1. **مزدور کی تعریف میں وضاحت**
* مزدور یا ورکر کی حیثیت کا تعین عہدے، گریڈ، پے گروپ یا بی پی ایس کی بجائے اس کے اصل فرائض اور ذمہ داریوں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
2. **اجتماعی سودے بازی کے نظام میں اصلاحات**
* ایسے اداروں میں جہاں 3,000 سے کم کارکن ہوں، اجتماعی سودے بازی یونٹس (CBUs) کی ازسرنو تشکیل کی جا سکے گی تاکہ نمائندگی کا نظام زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔
3. **ٹریڈ یونینز کے لیے مدت اور انتخابات**
* ٹریڈ یونینز اور ایسوسی ایشنز کی مدت دو سال مقرر کی جائے گی۔
* مقررہ وقت پر انتخابات نہ کرانے والی یونین خودکار طور پر ختم تصور ہوگی۔
4. **رجسٹرار ٹریڈ یونینز کی تقرری کا شفاف نظام**
* رجسٹرار کے عہدے کے خالی ہونے کی صورت میں فوری طور پر سینئر افسر کو قائم مقام ذمہ داری دی جائے گی۔
* مستقل تقرری کے عمل کو مقررہ مدت میں مکمل کرنا لازمی ہوگا۔
5. **مزدوروں کی شکایات کے جلد فیصلے**
* مزدوروں کی شکایات کا فیصلہ چھ ماہ کے اندر کرنا لازم ہوگا۔
* تاخیر کی صورت میں پارلیمانی نگرانی اور جوابدہی کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔
6. **عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا**
* فیصلوں پر عمل نہ کرنے کی صورت میں جرمانوں میں نمایاں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
* جرمانے کا فائدہ براہ راست متاثرہ مزدور کو پہنچے گا۔
7. **نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (NIRC) میں میرٹ اور شفافیت**
* چیئرمین اور ارکان کی تقرری کے لیے متعلقہ تعلیمی قابلیت اور تجربہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔
* تمام تقرریاں اشتہار، مقابلے اور میرٹ کی بنیاد پر ہوں گی۔
8. **اپیلوں کے بروقت فیصلے**
* اپیلوں کا فیصلہ 90 دن کے اندر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
* تاخیر کی صورت میں پارلیمانی نگرانی کا نظام موجود ہوگا۔
9. **مزدوروں کے حقوق سے متعلق معلومات کی فراہمی**
* کمیشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ مزدوروں کے حقوق، قوانین، بین الاقوامی معاہدوں اور مقدمات سے متعلق معلومات ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر فراہم کرے۔
10. **صنعتی امن اور مزدوروں کے حقوق کا تحفظ**
* مجوزہ ترامیم کا بنیادی مقصد مزدوروں کو فوری انصاف، بہتر نمائندگی، شفاف ادارہ جاتی نظام اور صنعتی ہم آہنگی فراہم کرنا ہے۔
یہ بل صنعتی تعلقات کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، مزدوروں کو بروقت انصاف فراہم کرنے اور ادارہ جاتی شفافیت و جوابدہی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قانون سازی کی کوشش ہے۔
پاکستان مین اس وقت عوام کی امیدوں کی آخری کرن مولانا فضل الرحمن ہیں خوف کے اس ماحول مین بلوچستان مین اس طرح عوامی قوت کا مظاہرہ بہت بڑا پروگرام نہین عوامی رفرنڈم ہے کوئٹہ مین دو دن سے پیٹرول بند کرکے نیٹ بند کرکے دھشتگردی عروج پر لاکر اور امن امان کے مسائل کہڑے کرکے جہان عوام کو ڈرایا گیا وہین مولانا نے خوف کے بتوں کو مارگرایاہے اور واضح پیغام دیاہے اور دیتے رہین گے انشاءاللہ
بلوچستان میں مولانا فضل الرحمن کا بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ
عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر قومی میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہا
سوشل میڈیا پر بھی زیادہ متحرک نہ ہونے کی وجہ سے جے یوآئی اس جلسہ کا اس طرح فائدہ نہ اٹھا سکی