رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صاحب قرآن سے کہا جائے گا: پڑھتے جاؤ اور(جنت کی منازل) چڑھتے جاؤ اور عمدگی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں عمدگی سے پڑھتے تھے، تمہاری منزل وہاں ہے، جہاں تم آخری آیت پڑھ کر قرآت ختم کرو گے ۔
(سنن ابی داؤد،۱۴۶۴)
*شیاطین کن گھروں میں بسیرا کرتے ھیں؟*
*👈جہاں داخل ھوتے وقت "بِسْمِ اللَّهِ" نہ پڑھی جائے۔۔۔*
*(صحیح مسلم: 5262)*
*👈جہاں تلاوتِ قرآنِ مجید کا اھتمام نہ کیا جاتا ھو۔۔۔*
*(صحیح مسلم: 1824)*
*👈جہاں اللّٰه کا ذکر نہ کیا جاتا ھو۔۔۔*
*(سورہ الزخرف 36، صحیح ابو داؤد: 5077)*
*👈جہاں نوافل کا اھتمام بالکل نہ کیا جاتا ھو۔۔۔*
*(صحیح بخاری: 3269، صحیح مسلم: 1825)*
*👈جہاں کھانا کھاتے وقت "بِسْمِ اللَّهِ" نہ پڑھی جائے۔۔۔*
*(صحیح مسلم: 5262)*
*👈جہاں کھانا بائیں ھاتھ سے کھایا جائے۔۔۔*
*(صحیح مسلم: 5265)*
*👈جہاں سوتے وقت دعا اور اللّٰه کا ذکر نہ کیا جائے۔۔۔*
*(صحیح بخاری: 3295، 1142،*
*السلسلۃ الصحیحہ: 264)*
*👈جہاں رات کے داخل ھوتے وقت دروازے اور کھڑکیوں کو بند نہ کیا جائے۔۔۔*
*(صحیح بخاری: 3304)*
*👈جہاں رات کے داخل ھوتے وقت بلا ضرورت بچوں کو گھر سے باھر جانے دیا جائے۔۔۔*
*(صحیح بخاری: 5623)*
*👈جہاں گھر میں اپنی اور مہمان کی ضرورت سے بڑھ کر بستر اور بچھونا ھو۔۔۔*
*(صحیح مسلم: 5452)*
*👈جہاں تنہائی میں غیر محرم مرد و عورت کا اختلاط ھو۔۔۔*
*(صحیح الترمذی: 2165)*
*جہاں میاں بیوی صحبت کے وقت دعا کا اھتمام نہیں کرتے۔۔۔*
*(صحیح بخاری: 7396،*
*صحیح مسلم: 3533)*
*👈جہاں بیت الخلاء میں جاتے وقت دعا نہ پڑھی جائے۔۔۔*
*(صحیح ابوداؤد: 6)*
🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲
*🌹دعاؤں میں مجھے ضرور یاد رکھنا🌴*
#عدنان_تبسم_قریشی
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”تم لوگ نیک اعمال کی طرف جلدی کرو، ان فتنوں کے خوف سے جو سخت تاریک رات کی طرح ہیں جس میں آدمی صبح کےوقت مومن اور شام کےوقت کافر ہو گا، شام کےوقت مومن اور صبح کے وقت کافر ہو گا، دنیاوی ساز و سامان کے بدلے آدمی اپنا دین بیچ دے گا“
(ترمذی ،٢١٩٥)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور خوب اچھی طرح سے پاکی حاصل کرے اور تیل استعمال کرے یا گھر میں جو خوشبو میسر ہو استعمال کرے پھر نماز جمعہ کے لیے نکلے اور مسجد میں پہنچ کر دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسے ، پھر جتنی ہو سکے نفل نماز پڑھے اور جب امام خطبہ شروع کرے تو خاموش سنتا رہے تو اس کے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔
(صحیح بخاری،۸۸۳)
جب ماہِ رجب شروع ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا فرماتے:
اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَارِکْ لَنَا فِی رَمَضَانَ۔
اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان میں برکت فرما اور ہمارے لیے رمضان کو مبارک بنا۔
(مسند احمد، ۳۶۶۹)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ سے جب بھی دو چیزوں میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے لیے کہا گیا تو آپ ﷺنے ہمیشہ اسی کو اختیار فرمایا جس میں آپ ﷺکو زیادہ آسانی معلوم ہوئی بشرطیکہ اس میں کوئی گناہ نہ ہو ۔ کیونکہ اگر اس میں گناہ کا کوئی شائبہ بھی ہوتا تو آپ ﷺاس سے سب سے زیادہ دور رہتے اور آنحضرت ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا ۔ لیکن اگر اللہ کی حرمت کو کوئی توڑتا تو آپ ﷺاس سے ضرور بدلہ لیتے تھے ۔
(صحیح بخاری،۳۵۶۰)