انقلاب انڈیا کے دروازے پر دستک دے رہا ہے
مودی کو یہ بہت بھاری پڑے گا
کاکروچ کوئی سیاسی پارٹی نہیں تھی ۔
یہ عام نوجوان ہیں ۔
جب بھی نوجوان خود نکلے ہیں تختے الٹے گئے ہیں بنگلہ دیش اس کی واضح مثال ہے
اور اب انڈیا میں وہی ہونے جارہا ہے ۔ #IndianYouth#india
شہداء کی قربانیاں پوری قوم کا سرمایہ ہیں۔ ان کی عظیم قربانیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف افسوسناک بلکہ ان لاکھوں خاندانوں کے جذبات کو بھی مجروح کرتا ہے جنہوں نے اپنے پیارے وطن پر قربان کیے۔ اگر کسی سیاسی رہنما کے بیانات یا طرزِ عمل سے عوام کو یہ احساس ہوا ہے کہ شہداء کی قربانیوں کو سیاست کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے، تو اس پر وضاحت اور معذرت ہونی چاہیے۔
عوام اپنے نمائندوں سے ذاتی مفادات نہیں بلکہ قومی مفاد، دیانت داری اور خدمت کی توقع رکھتے ہیں۔ اختلافِ رائے ہر کسی کا حق ہے، مگر شہداء کی عزت و حرمت ہر سیاسی وابستگی سے بالاتر ہونی چاہیے۔ جو بھی قومی اتحاد کو نقصان پہنچائے یا شہداء کے نام کو سیاسی تنازعات میں استعمال کرے، اسے اپنے رویے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
قوم کی خواہش ہے کہ سیاست نفرت اور الزام تراشی کے بجائے ذمہ داری، احترام اور عوامی خدمت پر مبنی ہو۔ شہداء کا احترام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور ان کی قربانیوں کو ہر قسم کی سیاسی کشمکش سے بالاتر رکھا جانا چاہیے۔
#فضلو_کرپشن_کا_بادشاہ
یہ کاکروچ پارٹی سوشل میڈیا پر قائم ہوئی تھی اور آج میدان عمل میں سرگرم،پارلیمنٹ کی طرف مارچ کررہی ہے،پی ٹی آئی کے چھوڑو یوٹیوبرز کو اس سے ہی عقل سیکھ لینی چاہئے کہ پارٹی کو سوشل میڈیا پر صرف ڈالرز کے لئے نہیں،عوام سے جوڑنے کے لئے بھی استعمال کرسکتے ہیں
انڈیا کی یوتھ بہت زیادہ باشعور ہے ۔ ان کو اپنے بنیادی حقوق کا علم ہے ۔ بھارتی عوام اپنے حقوق مانگ رہی ہے اور عام طلبہ و طالبات سڑکوں پر ہیں جب جب طلبہ سڑکوں پر نکلے ہیں سسٹم بدلا ہے
سردار عبدالرحمان کی جانب سے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے لیے محبت، احترام اور عقیدت کے اظہار کا جذبہ قابلِ قدر ہے۔ قومی شخصیات سے وابستگی اور ان کی خدمات کے اعتراف کا اظہار معاشرتی روایات اور قومی یکجہتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
مادرِ وطن کے دفاع کے لیے فولادی عزم کے ساتھ کھڑے ہمارے سکیورٹی ادارے ہر سازش کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ فتنہ الہند اور خوارج کے تمام دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ اور ملک میں مکمل امن کا قیام ہمارا واحد اور اٹل مقصد ہے۔
فضل الرحمان نے کہا تھا کہ فوجیوں کو پشتون جنازوں میں نہیں جانے دیں گے لیکن یہاں تو پشتون فوجیوں کے گلے مل رہے ہیں ان کا استقبال کررہے ہیں پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگارہے ہیں ۔ فضل الرحمان یہ پشتون ہیں نر کے بچے ہیں ۔ تمہاری طرح حلوہ خور نہیں ہیں