بعض اوقات جس چیز کو ہم دھوکہ سمجھتے ہیں وہ ہماری نظر کا ہیر پھیر بھی تو ہو سکتا ہے
وہ چیز ہماری توقع، ہماری سوچ سے یکسر مختلف ہونے کی بنا پر بھی تو دھوکے کا گمان ہو سکتا ہے
کبھی کسی چیز کے بارے میں حتمی رائے قائم مت کریں
کچھ سوالوں کے پیچھے صرف درد، پچھتاوا یا وہ سچ چھپا ہوتا ہے
جسے جاننے کے بعد سکون نہیں بلکہ خلش بڑھتی ہے
ایسے لمحوں میں خاموشی، وقت اور قبولیت
کبھی کبھار سوالوں سے بہتر مرہم ثابت ہوتے ہیں
خاموش رہنے کا ایک نقصان یہ ہے کہ دوسرے لوگ آپ کی خاموشی کو اپنی تشریح سے بھر سکتے ہیں
آپ بور ہو گئے ہیں
آپ افسردہ ہیں
آپ شرمیلے ہو
آپ پھنس گئے ہیں
آپ فیصلہ کن ہیں
جب دوسرے ہمیں پڑھ نہیں سکتے تو وہ اپنی طرف سے ہماری کہانی خود لکھ لیتے ہیں
دنیا ایک عارضی ٹھکانہ ہے جہاں ہر انسان کو محدود وقت دیا گیا ��ے
یہ جلد یا بدیر ختم ہو جائے گی اور حقیقی کامیابی اسی کی ہوگی جو اس عارضی دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کے لئے کچھ حاصل کر لے
عقل مند وہ ہے جو دنیا کی چمک دمک میں گم ہونے کی بجائے اپنی آخرت کو سنوارنے کی فکر کرے 🍁
ہر کسی کی نعمتیں بھی الگ الگ ہیں اور آزمائشیں بھی
ہر کسی کی کہانی بھی الگ الگ ہے اور سبق بھی،
کبھی کسی کو دیکھ کر یہ مت سوچیں کہ آپ محروم ہیں
آپ پر بھی آپ کے رب کی بہت سی عطا ہے 🥀
پینسل کو بار بار تراشے جانے کے تکلیف دہ عمل سے گذرنا پڑتا ہے
بہترین اور کارآمد پنسل بننے کے لئے یہ اذیت جھیلنی پڑتی ہے
یہی پینسل کسی ماہر اور کامل ہاتھ میں ہو تو شاہکار وجود میں آتے ہیں
اور اگر کسی کمظرف یا بدذوق کے ہاتھ لگے تو صرف کاغذ سیاہ کرتی ہے
شریعت اسلامی میں ساس سسر دیور نند کی خدمت عورت پہ لازم نہیں ھے، ھمیں کچھ باتیں ھندو دھرم سے ورثے میں ملی ھیں. اس جاھلیت کا علاج ضروری ھے
اگر میں غلط ہوں تو ٹھوس دلیل اور مستند حوالے کے ساتھ تبصرہ فرمائیں