میری ماں کو نو مہینے لگے
میرا دل بنانے میں
میں نے کسی کو اتنا حق نہیں دیا
کہ وہ اسے نو سیکنڈ میں توڑ دے
میں نے اپنی زندگی کو
اتنا سستا نہیں بنایا کہ
لوگ آکر کھیل جائیں
میرا وجود کسی تعریف
یا اعزاز کا محتاج نہیں
میں جانتی ہوں میں بہت خاص ہوں
الحمدللہ رب العالمین
تم تو بس ایک ہی دکھ کا پوچھتے ہو
کون سے دکھ کی کریں بات ذرا یہ تو بتا
موسموں سرد ہواؤں کی مسیحائی کا دکھ
راہ کی دھول میں بکھری ہوئی بینائی کا دکھ
سنگ کے شہر میں خود سے شناسائی کا دکھ
یا کسی بھیگتی برسات میں تنہائی کا دکھ
شام بخیر