کبھی سوشل میڈیا' مقبوضہ کشمیر پر تباہ کن ٹرینڈ کرتا تھا ۔ مگر پاکستانی ریاست کی نام نہاد عقلمندی سے اس وقت بھارتی سوشل میڈیا آزاد کشمیر پر مسلسل ٹرینڈز میں آزاد کشمیر میں فائرنگ ' ہلاکتوں ' ناکہ بندیوں کو انٹرنیشنل میڈیا کیلئے دستاویز بنا کر پیش کیا جا رہا ہے
آزاد کشمیر میں بھڑکتی آگ کا یا تو آپ کو ادراک نہیں۔ یا آپ چاہتے ہی یہی تھے
یہ ہے دنیا کی ذلیل دہشت گرد درندہ صہیونی اسرائیلی فوج
جس نے آج نہتے معصوم مظلوم غزہ کے بچے کو
اس کے خیمے میں گولی مار کر شہید کردیا
آخر کب تک غزہ کی مائیں اپنے بچوں کی لاشیں اٹھائیں گی؟
کشمیر کے معصوم لوگوں پر گولی چلانے سے انکار پر نائیک امتیاز علی کو اپنے ہی ساتھی نے گولی مار دی۔ ان کی یہ عظیم قربانی گواہ ہے کہ نظام کی بے حسی کے باوجود انسانیت اور ضمیر اب بھی زندہ ہیں۔ اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے جان دینے والے اس سچے ہیرو کو سلام 💔🫡
#یزیدی_نظام_نا_منظور #RightsMovementAJK #StopKillingPeoplesInPOJk #KashmirUnderAttack
راولاکوٹ کی جلسہ گاہ میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن عمر نظیر کی اپیل پر خواتین اپنے بچوں کے ہمراہ بڑی تعداد میں شریک ہوئیں۔ بچوں نے اسکول یونیفارم پہن رکھی تھی جبکہ خواتین کے ہاتھوں میں سفید جھنڈے ہیں۔ بچوں نے "ہمارے مطالبات منظور کریں" سمیت مختلف مطالبات پر مبنی پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے ہیں۔ جلسے میں ملی نغمے، تقاریر اور دیگر سرگرمیاں جاری ہیں۔
دوسری جانب آزاد کشمیر حکومت کے ترجمان نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کے مطابق کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی خواتین اور بچوں کو احتجاج میں شرکت پر مجبور کر رہی ہے اور انہیں بطور ڈھال استعمال کرتے ہوئے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست اور JUI سے اگرچہ میرا کوئی تعلق نہیں، مگر جو بات انہوں نے کی ہے،
بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رسوائی کی۔
فوج کے جوانوں کو میں شہید سمجھتا ہوں، لیکن طالبان کیا اسی فوج نے نہیں بنائے؟ تحریکِ لبیک، جن کو یہ آج دہشت گرد کہتے ہیں، کس نے بنائی؟ کیا ایک فوجی فیض آباد میں سرِعام پیسے نہیں بانٹ رہا تھا؟ کیا یہی فوج امریکا کے لیے جنگیں نہیں لڑتی رہی؟
جرنیلوں نے ان سپاہیوں کا استعمال پریشر الیکشنز میں دھاندلی، چلتی حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لیے کیا۔
اس فوج کو فوج رہنے دیں، کرائے کی فوج نہ بنائیں۔
یہ تصویر جو آپ میرے ہاتھ میں دیکھ رہے ہیں، یہ میرے بھائی شہید حمدان کی ہے، جسے 29 دسمبر 2025 کو گھر سے لاپتہ کیا گیا،میرے بھائی کو تین مرتبہ عدالت میں بھی پیش کیا گیا، لیکن وہ ہر بار کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔اگلی پیشی کی تاریخ سے ایک دن پہلے، میرے بھائی اور تین بلوچ نوجوانوں کو اپنی کسٹڈی میں تشدد کرکے ماورائے عدالت قتل کیا گیا، اور پھر اسے مقابلے کا نام دیا گیا۔
#StopBalochGenocide
منگیتر نے اس کی باقیات تلاش کرنے کے لیے اپنا سونا بیچ دیا… مگر وہ تین سال بعد زندہ واپس آگیا۔
تین سال تک نوجوان ادہم البنّا کے اہلِ خانہ کو یقین تھا کہ وہ اپنے تین بھائیوں کے ساتھ شہید ہو چکا ہے۔ اس کی شہادت کی خبر پھیل گئی، اہلِ خانہ نے تعزیت وصول کی، فاتحہ اور تعزیتی اجتماع منعقد کیا، اور سب نے اسے ہمیشہ کے لیے رخصت سمجھ لیا۔
مگر اس کی تلاش کبھی نہیں رکی۔ اس کی منگیتر نے اس کا سراغ لگانے یا کم از کم اس کی میت کا پتہ چلانے کے لیے اپنا سونا فروخت کر دیا۔ خاندان نے بھی جو کچھ ممکن تھا جمع کیا اور ایک وکیل مقرر کیا، تاکہ معلوم ہو سکے کہ اگر وہ شہید ہو چکا ہے تو اسے کہاں دفن کیا گیا۔
لیکن پھر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو کسی معجزے سے کم نہ تھا۔
تین سال بعد معلوم ہوا کہ ادہم البنّا دراصل اسرائیلی جیلوں میں قید تھا۔ چند روز قبل اسے رہا کیا گیا، اور وہ زندہ اپنے گھر، اپنے اہلِ خانہ اور اپنی منگیتر کے پاس واپس لوٹ آیا، جبکہ سب لوگ برسوں سے اسے شہید سمجھ کر غم میں زندگی گزار رہے تھے۔
یہ کہانی غزہ کے عوام کی اس المناک حقیقت کی عکاسی کرتی ہے، جہاں آج بھی بے شمار خاندان اپنے پیاروں کے انجام سے بے خبر ہیں؛ کوئی لاپتا ہے، کوئی قید میں ہے، اور کسی کی شہادت کی تصدیق تک نہیں ہو سکی۔
اسلام آباد: میانوالی کے 200 بستروں والے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال سے بانی چیئرمین عمران خان کے نام کی افتتاحی تختی ہٹانا ایک بار پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکمران سیاسی مخالفین کا مقابلہ کارکردگی سے نہیں بلکہ تاریخ مٹانے کی کوششوں سے کرنا چاہتے ہیں۔
تقریباً 3 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ ہسپتال، جس کا افتتاح دسمبر 2022 میں عمران خان نے کیا، میانوالی اور سرگودھا ڈویژن کے لاکھوں عوام کے لیے اہم طبی سہولت ہے۔ اس منصوبے کی شناخت ختم کرنے کی کوشش عوامی خدمت کے منصوبوں کو سیاسی تعصب کی نظر سے دیکھنے کے مترادف ہے۔
یہ منصوبہ عوام کی سہولت کے لیے بنایا گیا تھا، کسی فرد یا جماعت کی ذاتی ملکیت نہیں۔
• پاکستان کا واحد کرکٹ ورلڈ کپ عمران خان کی قیادت میں جیتا گیا، یہ حقیقت کسی تصویر یا تختی سے تبدیل نہیں ہو سکتی۔
• شوکت خانم، نمل یونیورسٹی، صحت کارڈ اور دیگر فلاحی منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ میراث کام سے بنتی ہے، سرکاری احکامات سے نہیں مٹتی۔
• تاریخ تختیاں ہٹانے سے نہیں بدلتی، عوامی یادداشت اور خدمات اسے زندہ رکھتی ہیں۔
جو لوگ اپنی کارکردگی سے مقابلہ نہیں کر سکتے، وہ دوسروں کی شناخت مٹانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن منہ کی کھاتے ہیں۔
عمران خان کا نام کسی تختی کا محتاج نہیں، ان کی خدمات ، عوامی اثر اور اس چور ٹولے میں عمران خان کا خوف ہی خود ان کی پہچان ہیں۔
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
اسرائیلی دہشتگرد نسل پرست غیر قانونی ریاست کے قید میں فلسطینی مسیحا ڈاکٹر حسان ابوصفیہ کی زندگی شدید خطرے میں یے ،ڈاکٹر حسان ابوصفیہ کیلئے آواز اٹھائیے۔اپنا کردار ادا کیجئے۔
پاکستان رائٹس موومنٹ
میں غزہ میں نرس رہی ہوں
میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ
وہاں اسرائیل نے کیسے بچوں کو قتل کیا
کیسے وہاں نسلی کشی کی گئی
فلسطین غزہ کو آزاد کرو
ایک آئرش نرس خاتون نے فٹبال میچ کے دوران دنیا کو سچ بتا دیا 👇
جو آئل کمپنیز 104 ارب کے نقصان کا رونا رو رہی ہیں۔ جنگ کے آغاز پر کم قیمت میں خریدا ہوئے تیل پر جب 55 روپے فی لیٹر بڑھاکر عوام کی جیبوں سے نوچے گئے اُس وقت کتنے ارب کا فائدہ ہوا تھا اسکا بھی حساب دیں۔حکومت نے اُس وقت بھی آئل کمپنی مالکان کے مفاد کو پیشگی پروٹیکٹ کیا آج بھی عوام کو تکلیف دے کر کمپنی مالکان کو فائدہ پہنچارہی ہے