پاکستان اپنی پٹرولیم مصنوعات کا بیشتر حصہ سعودی عرب اور یو اے سی سے خریدتا ہے۔ سعودی عرب نے ایشیائی ممالک کے تیل کی قیمتوں کو 11 ڈالر فی بیرل تک کم کیا ہے۔ ہماری حکومت جنگ کے نام پر قیمتیں بڑھا رہی ہے۔ سعوی حکومت کا اعلان کردہ ریلیف عوام تک کیوں نہیں پہنچایا جارہا؟ گزشتہ 26 سالوں میں تیل کی قیمتوں میں اعلان کردہ یہ سب سے بڑی کمی ہے۔
@CMShehbaz@AliPervaiz450
وزیرِ خارجہ عراقچی کی سفارتی شطرنج:
ٹرمپ کے یٹمی معائنےکے مطالبےپرعراقچی کاماسٹر اسٹروک:"ہمیں معائنہ منظور ہے، بشرطیکہ ہماری ٹیم بھی اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں کا معائنہ کرے۔اگر اسرائیل کے پاس ایٹمی ہتھیار ہو سکتے ہیں، تو پھر ایران کے پاس بھی ہونے چاہئیں"
صرف 10% مہنگائی پر محمد مالک وزیراعظم عمران خان کا گریباں پکڑ رہا تھا
لیکن آج 310 روپے فی لیٹر پٹرول اور 50% مہنگائی پر گیدڑ کی طرح خاموش ہے
اسے کہتے ہیں بکاؤ میڈیا اور لفافے 🖐🏿
پٹرول کی قیمت جو ابھی بڑھائی ہے وہ مکمل طور پر حکومت کے پاس جائے گی۔۔
ریفائننگ/شپمنٹ/انشورنس/پرافٹ جیسے سارے خرچے ملا کر تیل اس وقت 205 روپے لٹر پڑ رہا ہے،حکومت لیوی اور ٹیکسز کی مد میں 105 روپے فی لٹر کما رہی ہے۔
حکومت کو عوام کا احساس نہیں۔
(شہباز رانا)
جنرل ایوب نے الزام لگایا کہ جب سہروردی وزیر اعظم تھے، انھوں نے اپنے اختیارات کے غلط استعمال میں ایک شخص سیٹھ نور علی کو چاولوں کا پرمٹ دیا تھا۔ فوجی عدالت میں سہروردی نے اپنا کیس خود لڑا سہروردی نے ریکارڈ سے ثابت کر دیا کہ پرمٹ کے اجرا کے لیے وزارت تجارت کے سیکریٹری نے ان سے منظوری لی ہی نہیں، بلکہ خود ہی پرمٹ جاری کر دیا، اسکندر مرزا اور جنرل ایوب خاں کے کہنے پر۔
مگر فوجی عدالت نے سہروردی کو سات سالہ نااہلی کی سزا تو پھر بھی سنا دی پریس کو عدالتی کارروائی رپورٹ کرنے سے بزور بندوق روک دیا گیا
66 سال گزر گئے کیا بدلا
https://t.co/QYRtj2WDI8
بچوں کے اٹھنے سے پہلے گھر سے نکل آتے ہیں، بیوی بچے سو جاتے ہیں تو گھر جاتے ہیں کہ بچے 20، 30 روپے کی کوئی چیز نہ مانگ لیں، فون کرتے ہیں تو کہتا ہوں کہ بند کرو سگنل نہیں آرہے، لاہور میں شہری کی گفتگو
🚨🚨
ایک لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 118.76 روپےجبکہ ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 110.65 روپےلیوی،ٹیکس اور مارجنز وصول کیےجارہے ہیں۔ایک لیٹر پیٹرول کی بنیادی لاگت 178 روپے 77 پیسے بنتی ہے تاہم حکومت نے شہریوں کے لیے فی لیٹر قیمت 297 روپے 53 پیسے مقرر کی ہے https://t.co/PrwGKnhwfo
Pakistani Americans had to assemble at a private residence to talk about Pakistan, with a free conscience, because APPNA controlled by Pakistani Embassy denied any space inside the actual venue (Large Resort Hotel) for this meeting, Shame!
📛For the past three years, Association of Physicians of Pakistani Descent of North America (APPNA) leaders have defended their silence on escalating human rights abuses in Pakistan by invoking the organization's 501(c)(3) status. Members were repeatedly told that speaking out against human rights abuses was somehow incompatible with APPNA's mission.
Yet at the 49th Annual APPNA Convention, they chose to display imagery that obscured and defaced the face of former Prime Minister Imran Khan—Pakistan's most recognized contemporary political leader, the captain who led Pakistan to its only Cricket World Cup victory, and a philanthropist. True brand ambassador and National hero of Pakistan
The irony is striking. This mirrors the tactics widely employed in Pakistan by the military junta, where television broadcasts routinely blur or censor Imran Khan's image and avoid mentioning his name. Yet the country's most consequential political figure is impossible to ignore.
In reality, political expression appears to be acceptable at #APPNA when it aligns with certain viewpoints. The neutrality argument was never about principle—it was about selective application.
No story about modern Pakistan is complete without its defining figures, and Imran Khan is unquestionably one of them. #APPNA2026 #APPNA49thAnnualConvention #Shame
شرمناک اور افسوسناک۔ مجھے لگا تھا حمیرا قمر صاحبہ کے جانے کے بعد APPNA میں پٹواری مائینڈ سیٹ میں کمی آئے گی ۔ مجھے لگتا ہے کہ ڈاکٹر بابر راؤ صاحب بہتر آدمی ہیں۔
ایک قومی فورم پر عمران خان کی 1992 ورلڈ کپ کی تصویر کی defacement ایک گھٹیا عمل ہے۔ سبھی کی تصاویر نارمل ہیں۔ صرف عمران خان کی تصویر کے ساتھ یہ کرنا پاکستانیت کی توہین ہے۔ کیا APPNA میں ڈاکٹرز اس حد تک کی کم ظرفی کو قبول کریں گے۔ یہ شرمناک ہے۔ APPNA کے ممبرز کو اس گھٹیا اقدام پر بولنا ہوگا۔ یہ آپ سب کے اجتماعی شعور کی توہین ہے۔ آپ کے علم عقل دانش شرافت اور قومی اقدار اور قومی وقار کی توہین ہے۔ 92 کا ورلڈ کپ سیاسی نہیں ہے۔ ایک قومی ہیرو سے یہ سلوک صرف کم ظرف لوگ کر سکتے ہیں۔
🚨🚨
#Pakistan’s army chief battles with its imprisoned ex-prime minister
Which of Asim Munir or @ImranKhanPTI will prevail?
PAKISTAN’S POLITICS revolves around two men who detest each other. And just as in a good drama, their fates are entwined. One is Imran Khan, the swashbuckling all-rounder who led Pakistan to cricketing glory and subsequently went on to become prime minister in 2018. The other is Asim Munir, the steely and scheming army chief. He was fired by Mr Khan from his role as the country’s spy chief in 2019 (there were rumours that he had been sniffing around the tax affairs of Mr Khan’s wife).
The safest bet is that Mr Khan will stay in prison for as long as Field Marshal Munir is in power. That could be a long stretch, given recent constitutional changes which mean that the army chief could keep his role for another decade or more. Mr Khan could still have a hand in his fate, though. His popularity is an awkward problem for a regime that lacks legitimacy. Taking him for hospital tests in the dead of night suggests the government is aware of his appeal.
https://t.co/69RMGr6TIG
اسلام آباد سے ایک سفید پوش بزرگ شہری نے رابطہ کیا ھے، دو مقامی صحافی تصدیق کر رہے ہیں کہ ان کے 21 سالہ بیٹے کو بون میرو کینسر کا مرض لاحق ھے، ڈاکٹرز 18 کیمو تھراپی کے کورس تجویز کر رہے ہیں، جس میں سے 6 لگ گئے ہیں 12 باقی ہیں اس کے بعد بچے کا بون میرو ٹرانسپلانٹ ہوگا۔ انہیں مالی مدد کی اشد ضرورت ھے۔
صاحب حیثیت دوستوں سے گزارش ھے کہ جو ممکن ہو انکی مدد کیجئے۔
Contact number
03078953790
بریکنگ نیوز ۔۔۔۔
پی ٹی آئی نے آزاد کشمیر انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔۔۔
اور شرائط عائد کی ہیں کہ
جب تک حالات معمول پر نہیں آتے، تمام سیاسی و عوامی قوتوں کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے معاملات حل نہیں ہوتے، انتخابی شیڈول پر نظرثانی نہیں کی جاتی اور تمام سیاسی جماعتوں کو حقیقی معنوں میں مساوی اور آزادانہ انتخابی ماحول فراہم نہیں کیا جاتا۔۔۔ الیکشن نہیں لڑیں گے
پاکستان تحریک انصاف پولیٹکل کمیٹی کا آزاد کشمیر الیکشن کے بائیکارٹ کا فیصلہ ۔۔ جس طرح مسلسل دیوار سے لگایا جا رہا ہے انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے سکتے، پولیٹکل کمیٹی کی سفارش
ہائے ری غربت۔۔تیرا ککھ نا رووے
جس ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے 14 معصوم اللہ کو پیارے ہو گئے۔
اب اس استانی(عورت) کو بندہ کیا کہے۔۔🤦♂️
شوہر ریڑھی لگاتا تھا،غربت کے باعث خود گھر میں بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی،بارش میں چھت ٹپکتی تھی،
پیسے اکٹھے کر کے اس پر اینٹیں/مٹی ڈال رہے تھے
مگر چھت گر گئی۔
اب یہ عورت خود زخمی ہے،بندہ اور مستری گرفتار ہے۔
یہ بھی گرفتار ہو گی۔
کل کو اس گھر میں اس کے بچے بھی نہیں رہ سکیں گے
کیونکہ
جن محلے داروں کے بچے فوت ہوئے وہ ان کو اس گھر میں نہیں رہنے دیں گے۔
ہو سکتا ہے کہ اس کا بندہ بھی اگر رہا ہو گیا تو اسے اس واقعے کی وجہ سے کل کو چھوڑ جائے۔
معصوم بچے بھی اللہ کو پیارے ہو گئے اور یہ
خاندان بھی برباد ہو گیا۔
(اسد آر چوہدری)
اتوار کو تو ہم اپنے برطانوی وزیراعظم کے لیے بھی دفتر نہیں کھولتے، لیکن عمران خان کی کال ہم کیسے کاٹتے؟" گورے افسر کا جواب سن کر امان اللّٰہ حیران رہ گئے!
مرحوم لیجنڈری کامیڈین امان اللّٰہ ایک واقعہ سناتے تھے کہ 90 کی دہائی میں ہم کچھ فنکار برطانیہ میں ڈرامہ کرنے گئے۔ ڈرامہ اتنا سپر ہٹ ہوا کہ پبلک نے مزید شوز کی ڈیمانڈ کر دی، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے ویزے اگلے دن ختم ہو رہے تھے اور آج 'اتوار' تھا (برطانیہ میں اتوار کو ہوم ڈیپارٹمنٹ مکمل بند ہوتا ہے)۔
آرگنائزر نے کہا: "امان صاحب! صرف ایک پاکستانی ہے جو اتوار کو بھی برطانوی حکومت کا دفتر کھلوا سکتا ہے... آپ عمران خان کو کال کریں۔"
امان اللّٰہ نے حیرت اور جھجھک کے ساتھ لینڈ لائن پر کال کی۔ خان صاحب نے صورتحال سنی اور کہا "ایک گھنٹہ انتظار کریں اور پھر ہوم ڈیپارٹمنٹ پہنچ جائیں۔" جب ہم وہاں پہنچے تو عمران خان خود باہر کھڑے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔
تھوڑی دیر میں ایک برطانوی افسر ٹائی کوٹ پہنے، نیند سے بھری آنکھوں کے ساتھ دفتر پہنچا۔ جب خان صاحب نے اسے ہمارے پاسپورٹ دیے، تو امان اللّٰہ نے اس گورے سے کہا: "چھٹی والے دن آپ کو زحمت دینے پر معذرت!"
(یہاں وہ لمحہ آیا جس نے سب کو حیران کر دیا) اس گورے افسر نے مسکرا کر عمران خان کی طرف دیکھا اور بولا: "سر! ہم تو سنڈے کو اپنی ملکہ اور پرائم منسٹر کے لیے بھی دفتر کی چابیاں نہیں نکالتے، لیکن جب اس انسان (عمران خان) نے فون کر کے کہا کہ میرے پاکستانی بھائیوں کا مسئلہ ہے، تو میں اپنا بستر چھوڑ کر آنے پر مجبور ہو گیا!"
صرف ایک گھنٹے کے اندر، اتوار کے بند دن میں ہمیں چائے کافی پلا کر ہمارے پاسپورٹ پر ویزے ایکسٹینڈ (Extend) کر کے دے دیے گئے!
امان اللّٰہ کہتے تھے: "زندگی میں پہلی بار مجھے اپنا سبز پاسپورٹ دیکھ کر پاکستانی ہونے پر فخر محسوس ہوا تھا، اور میرے اندر وہ فخر جگانے والا کوئی اور نہیں، عمران خان تھا۔"
آج وہی عمران خان، جس کی ایک کال پر گورے چھٹی والے دن بھی دفتر کھول دیتے تھے، اپنی ہی قوم کی آزادی کی خاطر ظالموں کی قید کاٹ رہا ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا معجزہ: نوبل پرائز بنگلہ دیش کو ملا، لیکن اصل حقدار پاکستان کا بیٹا نکلا!
کیا آپ جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے محمد یونس اور ان کے گرامین بینک کو غریبوں کو چھوٹے قرضے دینے پر نوبل امن انعام سے نوازا گیا؟ بظاہر یہ بہت بڑا فلاحی کام تھا، لیکن پردے کے پیچھے کی حقیقت آپ کو حیران کر دے گی۔
نوبل پرائز اور سود کا چکر!بنگلہ دیش کا گرامین بینک غریبوں کو قرض تو دیتا تھا، لیکن اس پر 20% سے 28% تک بھاری سود (Interest) وصول کیا جاتا تھا۔ غریب قرض کی اصل رقم سے زیادہ سود کے چنگل میں پھنس جاتا تھا۔ لیکن دنیا نے اس سود پر مبنی نظام کو سراہا اور نوبل پرائز دے دیا۔
اب دیکھیے پاکستان کا اصل معجزہ: ڈاکٹر امجد ثاقب اور "اخوت"پاکستان کے سابق سی ایس ایس افسر ڈاکٹر امجد ثاقب نے سرمائے دارانہ نظام کے اس شکنجے کو چیلنج کیا۔ انہوں نے 2001 میں صرف 10 ہزار روپے سے "اخوت فاؤنڈیشن" کی بنیاد رکھی۔ ان کا طریقہ کار بینکوں جیسا نہیں بلکہ "مواخاتِ مدینہ" (مدینہ کے بھائی چارے) پر مبنی ہے۔
200 ارب روپے سے زائد کی تقسیم: صرف 10 ہزار روپے سے شروع ہونے والا یہ سفر آج 220 ارب روپے سے زائد کے بلا سود قرضے تقسیم کر چکا ہے، جس سے پاکستان کے کروڑوں غریب خاندان اپنے پاؤں پر کھڑے ہو چکے ہیں۔
0% سود (Zero Interest): اخوت غریبوں کو کاروبار، شادی اور گھر کے لیے بالکل مفت اور بلا سود قرضے دیتا ہے۔
سو فیصد (100%) واپسی کی شرح: دنیا کے بڑے بڑے بینک جن کے قرضے ڈوب جاتے ہیں، وہاں اخوت کا لون ریکوری ریٹ 99.9% (تقریباً 100 فیصد) ہے! غریب خود عزتِ نفس کے ساتھ پائی پائی واپس کرتا ہے۔
کوئی عدالت نہیں، کوئی پولیس نہیں: اخوت کسی غریب کو قرض واپسی کے لیے ہراساں نہیں کرتا، بلکہ مساجد اور گرجا گھروں کی چٹائیوں پر بیٹھ کر شخصی ضمانت پر قرضے دیے جاتے ہیں۔
صرف قرض ہی نہیں، مفت یونیورسٹی بھی!ڈاکٹر امجد ثاقب کا سفر صرف قرضوں تک نہیں رکا۔ انہوں نے پاکستان کی پہلی فیس سے پاک یونیورسٹی "اخوت کالج یونیورسٹی" قائم کی۔ اس یونیورسٹی میں پاکستان بھر کے غریب اور مستحق طلبہ کو نہ صرف بین الاقوامی معیار کی تعلیم بالکل مفت دی جاتی ہے، بلکہ ان کے رہنے، کھانے اور ہاسٹل کے تمام اخراجات بھی اخوت خود اٹھاتا ہے۔
سوچنے کی بات!سود پر قرض دینے والے کو دنیا نے نوبل پرائز دیا، لیکن اللہ کے نظام (بلا سود قرضِ حسنہ) پر چل کر کروڑوں خاندانوں کو غربت سے نکالنے والے ڈاکٹر امجد ثاقب کا کام اس سے ہزار گنا بڑا ہے۔ اگرچہ انہیں ایشیا کا سب سے بڑا اعزاز ریمن میگسیسے ایوارڈ مل چکا ہے، لیکن ہمارا اصل فخر ان کا یہ بے لوث نظام ہے۔آئیں پاکستان کے اس سچے ہیرو کو خراجِ تحسین پیش کریں۔ کمنٹس میں "ماشاءاللہ" لکھیں اور اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کر کے دنیا کو پاکستان کا یہ خوبصورت اور مثبت چہرہ دکھائیں!
#DrAmjadSaqib #AkhuwatFoundation #PakistanPride #InterestFreeLoans #HumanityFirst
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ممبران نے حکومت کی منظوری کے بغیر تقریباً 28.69 ملین روپے کی مراعات اور تنخواہیں خود منظور کیں
اڈیٹر جنرل نے رقوم واپس لینے کی سفارش کردی