ہم نے پارٹی سے کہا آپ پلاننگ کریں تیاری پکڑیں ہم تیار ہیں ، لوگ نکلنے کو تیار ہیں۔
ہمارا پہلا مطالبہ: عمران خان کا ہسپتال میں علاج
دوسرا مطالبہ: عمران خان کی قید تنہائی کا خاتمہ،ان ملاقاتیں بحال کی جائیں، ان کے تمام قانون حقوق بحال کیے جائیں۔
تیسرا مطالبہ: ججز اگر انصاف نہیں دے سکتے تو گھر جائیں ،ناانصافی کرکے مجرم نہ بنیں عدالتیں بند کرکے گھر جائیں۔
ناانصافی کرنے والے ججز گھر جا کر بچوں کو کیا بتائیں گے ؟ عمران خان کو جیل میں رکھنے کے بدلے حرام کا پیسہ گھر لا رہے ہیں؟۔ ججز کی ذمہ داری ہے کہ وہ ناانصافی کے خلاف ڈٹ جائیں پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
#آزادی_یا_شہادت
26 نومبر کو عوام نے آخر کسے گالیاں دی تھیں؟ پوری دنیا نے دیکھا کہ عوام نے فوج کو گلے لگایا تھا، اور فوج نے یقین دلایا تھا کہ آپ پر گولی نہیں چلائی جائے گی۔ عوام نے سمجھا کہ شاید اس بار یہ سانپ اپنی بات پر قائم رہیں گے، مگر آدھی رات کو سب کچھ بدل گیا اور ان سانپوں نے وہی کیا جو ان کی فطرت ہے۔ ذرا بتاؤ نہ کیا اُس وقت عوام نے ملک کو گالیاں دی تھیں؟ کیا جلاؤ گھیراؤ کیا تھا؟ کیا فورسز کو ماں بہن کی گالیاں دی تھیں؟ جو آدھی رات عوام کے سر کھولے گئے تھے۔ جس کی تصدیق اس وقت عسکری کپورے راوی نے بھی اپنے ٹویٹ میں کی تھی۔
جنوبی اہشیا کی طلبہ تحریکوں اور پاکستان میں طلبہ کی جدوجہد کے حوالے سے میرا نقطعہ نظر یہ صرف ایک پہلو ھے ۔دیگر بہت سے فیکٹر بھی ہیں ۔
پاکستان کے طلبہ اپنے روائتی کردار سے محروم ہوچکے ہیں اس کی وجوھات پر سنئے میرا تجزیہ ۔
ندیم افضل چن صاحب! ستھرا پنجاب اور سیوریج کے ٹھیکدار سے لینڈ کروز کس نے لی؟ پلیز حقائق بیان کریں۔ اب رانا ثنا اللہ کی طرح یہ نہ کہیے گا کہ یہ ہمارا اور ن لیگ کا آپس کا معاملہ ہے
"آپ کا جذبہ دیکھ کر ہمیں بہت حوصلہ ملا ہے ان شاء اللہ آپ لوگ ہی آگے چل کر اس ملک کا مستقبل بنائیں گے۔آپ وہ ہیں جو اس ظالم نظام کو ماننے سے انکار کیا ہے آپ نے اس کو کبھی قبول نہیں کرنا۔عمران خان نے کہا کہ اگر آج آپ نے موجودہ فرعون و یزید کی غلامی قبول کرلی تو آپ کی نسلیں غلام بنا دی جائیں گی"۔علیمہ خان
میری کروڑوں کی سیلری ہے ۔ ہم وہ لوگ ہیں جو ووٹ ڈالنے بھی نہیں جاتے ووٹنگ کے دن سیر و تفریح پر نکل جاتے ہیں ۔ لیکن جو سلوک دہلی پولیس نے بچوں کیساتھ کیا ۔ میں خود آیا ہوں ۔ میرے دو بچے اندر بیٹھے ہیں ۔ انہوں نے کہا پاپا اگر آپ نہیں آئیں گے تو یہ ہماری ناکامی ہوگی ۔ پہلے بچے تھے اب ہم ان کے والدین بھی یہاں کھڑے ہیں ۔
مودی حکومت چاہتی تو آکر ان سے بات کرلیتی ۔ وزیرخود آجاتا ۔ لیکن یہ نہیں آئے ۔ پتا نہیں خود کو کیا سمجھتے ہیں ۔
پاکستان اور انڈیا میں بہت فرق ہے ۔ بہت زیادہ فرق ۔ وہاں جاگیرداری نہیں ہے اور ایلیٹ کلاس کے بچے خود فرنٹ پر ہوتے ہیں ۔
سوچا نہیں تھا مودی میں بھی کچھ انسانیت ہوگی جرنیلوں کو کچھ تو شرم کرنی چاہیئے گجرات کا قصائی بھی عوام کے سامنے سرنڈر کرگیا مشرقی پاکستان کے قصائی عوام کے سامنے سرنڈر کیلئے تیار نہیں!
پشاور میں پانچ اگست کو یہ ویڈیو بڑی سکرین پر عوام کو لازمی دکھائیں،عوام کو بتائیں عمران خان کے لیے اب سب کو کشتیاں جلا کر نکلنا ہو گا۔
@SohailAfridiISF@YarMKNiazi