“ملک میں اس وقت آئین و قانون کی نہیں، عاصم لاء کی حکمرانی ہے۔ عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی- اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا- عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے-
اس وقت ملک میں صرف ایک شخص، عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے- جسکی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے- اس دور میں جس طرح عام عوام کا قتل عام کیا گیا، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے سانحات، طاقت کے اس اندھے استعمال کی بدترین مثال ہیں۔ جس طرح نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی گئیں یہ کسی مہذب معاشرے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا-
خواتین پر جتنا ظلم عاصم منیر کے دور میں ہوا ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد بزرگ اور کینسر سروائیوور ہیں، ان کو صرف اس لیے جیل میں ڈالا ہوا ہے کیونکہ انھوں نے تحریک انصاف چھوڑنے سے انکار کیا۔ بشریٰ بیگم کو بھی صرف اس لیے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے تاکہ مجھ پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہ کہاں کا قانون ہے کہ جنھوں نے تحریک انصاف چھوڑ دی ان کے لیے عام معافی اور جو میرے نظریات کا ساتھ دیتے رہے ان پر ہر طرح کا ظلم و جبر۔
ہم غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔
عاصم منیر مجھ پر اور میری اہلیہ پر ہر طرح کا ظلم کر رہا ہے۔ ایسا ظلم کسی سیاسی رہنما کے اہل خانہ کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں نہ ہی میں جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں "یا موت یا آزادی" جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انھیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف نہ فارم 47 حکومت سے مذاکرات کرے گی نہ اسٹیبلشمنٹ سے۔ ایسی کٹھ پتلی حکومت سے مذاکرات کا تو ویسے ہی کوئی فائدہ نہیں جس کا وزیراعظم ہی "پوچھ کر بتاؤں گا" کے تحت چل رہا ہو۔ مذاکرات اس لئے بھی بے سود ہیں کہ جب بھی ہم نے مذاکرات کئے، ہم پر سختیاں اور ظلم مزید بڑھا دیا گیا۔ اس وقت ساری طاقت ویسے بھی ایک فرد واحد یعنی عاصم منیر کے پاس ہے جو اپنی کرسی کی خاطرکسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ ہمارے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اتحادی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کریں گے۔
تحریک انصاف کے تمام عہدیداروں، پارلیمنٹیرنز، آئی ایل ایف اور سینئیر وکلاء کو ہائی کورٹس جانا چاہیے اور وہاں سے تاریخ لئے بغیر نہ اُٹھیں، کیونکہ میرے اور بشری بیگم کے مقدمات کی تاریخیں ہی نہیں دی جا رہیں اور جان بوجھ کر مقدمات کو طوالت دی جا رہی ہے تاکہ ہم جیل سے باہر نہ آ سکیں۔ سب جانتے ہیں کہ ان مقدمات میں کچھ نہیں رکھا اور آخر کار انہوں نے زمین بوس ہی ہونا ہے لہٰذا ان کو سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں کیا جا رہا۔
سلمان اکرم راجہ پر مکمل اعتماد ہے۔ پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور ملاقات کی لسٹ سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی بھیجی جائیں گی، سلمان اکرم راجہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ہدایات پر عملدرآمد کروائیں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ سے ملاقات میں پیغام۔۔۔ نومبر 4، 2025
آواز اٹھائیں 🚨
ٹاوٹ طیب بلوچ کو چپیڑیں مارنے کے الزام میں اڈیالہ جیل کے باہر سے اس نوجوان ضیاءالدین کو گرفتار کر لیا گیا۔
یہ نوجوان ہر وقت سائے کی طرح خان صاحب کی بہنوں کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔
اس لئے سوشل میڈیا اس کی آواز بنیں
In the last few days, my sons’ cousins, Shahrez & Shershah (Aleema Khan’s sons), have been abducted from their homes in front of their young children & held in prison.
Their other cousin Hassan Niazi, has been held in a military prison for over a year.
The government has also threatened my sons Sulaiman and @Kasim_Khan_1999 with arrest if they travel to Pakistan to visit their father.
No state should be allowed to target families to settle political scores.
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام
(۲ اگست، ۲۰۲۵)
“تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا۔
پانچ اگست کو شروع ہونے والی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک میں جمہوریت اپنی اصل روح کیساتھ بحال نہیں ہو جاتی۔ اب عوام نڈر ہو چکے ہیں، ہر خوف کا بت ٹوٹ چکا ہے- 5 اگست کے بعد 14 اگست کی تاریخ بھی اس سلسلے میں اہم ترین ہے۔ 14 اگست 1947 کو ہم نے بیرونی غلامی سے آزادی حاصل کی تھی۔ اب ہمیں غلامی کی اس سے بھی بدتر صورتحال کا سامنا ہے جہاں تمام اداروں کو اپاہج کر کے سارے بنیادی حقوق معطل کر دئیے گئے ہیں۔ جیسے ہمارے آباؤاجداد نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کر کے آزادی حاصل کی تھی ہمیں بھی اس کرپٹ نظام سے آزاد ہونا ہے اور غلامی کو ٹھکرانا ہے۔
پیپلز پارٹی اور نون لیگ عاصم منیر کے لیے ویسا ہی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہی ہیں جیسا ق لیگ نے مشرف کے لیے کیا تھا۔ ان کا کردار سیاسی جماعت کا نہیں اسٹیبلشمنٹ کے پولیٹیکل فرنٹ کا ہے۔ اسی آڑ میں کرپشن اور لوٹ مار کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
77 سال لگا کر پاکستان میں مشکل سے چند ادارے کھڑے ہوئے تھے- یہاں بار بار مارشل لاء لگتے رہے جس نے اس عمل کو دشوار بنایا مگر پھر بھی ادارے موجود تھے لیکن عاصم منیر کے مارشل لاء نے صرف اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے ان اداروں کو بھی ایک ایک کر کے تباہ کر دیا ہے۔ سب سے پہلے انتخابی فراڈ کر کے عوام کا ووٹ چوری کیا گیا اور چوروں کو ملک پر مسلط کر کے جمہوریت کا خاتمہ کیا گیا۔ پھر میڈیا کا گلا گھونٹا گیا، ملک میں بدترین سنسر شپ لگائی گئی۔ اور اب عدلیہ کو چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے ایک سرکاری ادارہ بنا دیا گیا ہے۔ اوپر سے لکھی لکھائی سزائیں ججز کے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہیں۔ جج خود اسکا اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے جو ہمیں تھما دیا جاتا ہے ہم اسی پر سائن کر کے دے دیتے ہیں۔ اس وقت ملک میں عدلیہ مکمل مفلوج ہے۔ یہاں کینگرو کورٹس چل رہی ہیں جو ہر طرح سے قانون کی دھجیاں بکھیر رہی ہیں۔ ان عدالتوں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں ہے۔ یہ عدالتیں قانون کی نہیں صرف عاصم لا کی پیروی کرتی ہیں۔ اسی کے مطابق سب ٹرائل چلیں گے اور سزائیں ہوں گی۔ یہ سب ٹرائل آن ریکارڈ ہیں آج نہیں تو کل سب پر حقیقت عیاں ہو گی کہ کس جج نے انصاف کی پیروی کے بجائے یزیدِ وقت کی پیروی کی۔
راولپنڈی، لاہور، سرگودھا اور فیصل آباد کی عدالتوں کے ذریعے ہمارے پارٹی رہنماؤں، ممبران اسمبلی اور کارکنان کو جھوٹے کیسز میں سزائیں دلوا کر ہماری تحریک کا راستہ روکنے کی ایک اور ناکام کوشش گئی ہے۔ حق پرستی کی پاداش میں سزاؤں کی حق دار ٹھہرنے والی پارٹی لیڈرشپ اور کارکنان کو خصوصی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
سکندر سلطان راجہ نے ہائیکورٹ کی اپیلوں کا انتظار کیے بغیر ہمارے ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دیا۔ تاریخ جب لکھی جائے گی سکندر سلطان راجہ کا نام سیاہ ترین حروف میں درج ہو گا۔ اس شخص نے ڈیڑھ سال میں 17 سیٹوں والی جماعت کو دو تہائی اکثریت دلوانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ملک کا نظام ان کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے جنھوں نے عوام کا ووٹ اور پیسہ دونوں چرایا۔ جو لوگ آئین اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہوئے ان کو جیلوں میں ڈال دیا گیا تاکہ اس ملک میں کوئی جمہوریت کا نام لیوا نہ ہو۔
ہمارے جو ممبران اسمبلی ناجائز طریقے سے نااہل کیے گئے ہیں ان کی جگہ ضمنی انتخابات میں کسی کو کھڑا نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ ان لوگوں نے کئی طرح کی مشکلات جھیل کر انتخاب لڑا تھا اور مسلسل تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے رہے۔ لہذا ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف حصہ نہیں لے گی۔
علی امین کو واضح پیغام دیتا ہوں کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں وفاق کو ایک اور فوجی آپریشن کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیئے۔ فوج اور عوام کے آمنے سامنے آنے سے فوج کا ادراہ تباہ ہوتا ہے۔ آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ وہاں کے نظام کے مطابق بات چیت سے مسائل حل کریں۔ افغانستان ہمارا مسلمان ہمسایہ ملک ہے۔ ان کے ساتھ بھی تعلقات بہتر ہونے چاہئیں اور مسائل پر بیٹھ کر بات کرنی چاہیے-“
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
“میں ساری زندگی جیل کی چکی میں گزار لوں گا لیکن فرعونیت اور یزیدیت کے سامنے نہیں جھکوں گا!!
قانون کی حکمرانی میری تحریک کا مرکزی مقصد ہے، جس سے ہم جنگل کا قانون ختم کریں گے-
جب سیاسی جماعت پر تمام دروازے بند کر دئیے جائیں ان پر ظلم کیا جائے، عدلیہ آزاد نہ ہو تب ان کے پاس سوائے پر امن احتجاج کے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔
میں اپنی پارٹی، کارکنان اور سپورٹرز کو ہدایت کرتا ہوں کہ آپ سب لوگ ایک بھرپور ملک گیر تحریک کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس بار صرف اسلام آباد نہیں پورے پاکستان کی کال دوں گا-
پارٹی کے تمام لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں آپ میں سے کوئی بھی “الیکٹیبل” نہیں ہے۔ آپ سب نظریے کے زور پر جیت کر آئے ہیں۔ مجھے سب کے بارے میں معلوم ہے کہ کون وکٹ کے دونوں اطراف کھیل رہا ہے، جو پارٹی احکامات پر عمل پیرا نہیں ہو گا اس کی جماعت میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ مجھے جب بھی موقع ملا پارٹی انتخابات کرواؤں گا۔ پارٹی میں الیکشن کروانا ناگزیر ہے تاکہ ورکرز اوپر آ سکیں۔
نو مئی صرف آدھے گھنٹے کا کیس ہے۔ اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج چرانے والے ہی اصل ذمہ دار ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے نو مئی کیا تھا تو CCTV فوٹیجز سامنے لے آئیں۔
پولی گرافک ٹیسٹ تو شہباز شریف کا ہونا چاہیئے اور اس سے پوچھنا چاہئیے کہ وہ فارم 47 سے آیا ہے یا 45 سے۔
میں پاکستان کا سابق وزیراعظم ہوں، جس کے لیے جیل میں علیحدہ کیٹیگری ہوتی ہے لیکن مجھے جیل میں عام قیدیوں والی سہولیات بھی نہیں دی گئیں- مجھے جیل کے جس سیل میں 22 ماہ سے قید کیا ہوا ہے وہ ایک “چکی” ہے۔ اسی ملک میں چوروں کو وی وی آئی پی سیل میں رکھا گیا جو کسی “سویٹ”سے کم نہیں تھے۔
یہاں جنگل کا قانون نافذ ہے اور ایک کرنل کے کہنے پر تمام عدالتی احکامات ہوا میں اڑا دئیے جاتے ہیں- میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری بہنوں کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جاتا۔ میری کتابوں سے پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے کہ ڈھائی ماہ سے مجھ تک کوئی کتاب نہیں پہنچنے دی گئی، صرف وہی کتابیں دی جاتی ہیں جو پہلے ہی پڑھ چکا ہوں- میں ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں لیکن میری جماعت کے لوگوں کو مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی حالانکہ ان کے پاس عدالتی احکامات موجود ہوتے ہیں-
صرف مجھے اذیت دینے کے لیے میری اہلیہ کو سزائیں سنائی گئیں اس سے زیادہ گھٹیا پن کیا ہو سکتا ہے۔ ایک ہفتے میں میری اہل خانہ یا وکلاء سے صرف 30 منٹ کی ملاقات کروائی جاتی ہے۔ میری اہلیہ پر صرف سہولت کاری کا جھوٹا الزام تھا جو ثابت بھی نہیں ہو سکا۔
کل ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے احتجاج میں تمام اپوزیشن اراکین لازمی شرکت کریں۔چھبیسیوں ترمیم کے بعد عدلیہ بلکل مفلوج اور بےاثر ہو چکی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بارہا وعدے کرنے کے باوجود بھی ہمارے کیسز نہیں لگا رہا-
سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کے حق میں فیصلہ دے کر اپنے ہی عدالتی نظام پر عدم اعتماد کر دیا ہے-
بھارت کے جواب میں ہماری فورسز خصوصاً پاک فضائیہ نے زبردست جواب دیا ہے اور پوری قوم نے بھی ساتھ دیا۔ میں جیل میں مقید ہوں مگر یہاں بھی لوگوں نے پاکستان کے جواب پر خوشی منائی۔”
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی دوران ٹرائل کارکنان، وکلأ اور صحافیوں سے گفتگو اور سوالات کے جوابات
Below is a THREAD with some shorter clips of the most important messages from my boys’ interview regarding their father’s incarceration.
Please share if you can.
1) His conditions in jail
اربابِ اختیار کو اگر واقعی میں پاکستان کی بقا اور سلامتی کی فکر ہے تو قوم کے لیڈر عمران خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اس وقت جب بھارت کا جنگی جنون پاگل پن کی حدوں کو چھو رہا ہے عمران خان کی اسیری کی قیمت قوم کو اپنی حمیت پر حملوں کی صورت چکانی پڑرہی ہے۔ ملک کو ایک مضبوط قیادت کی ضرورت ہے جس پر قوم اور دنیا دونوں کو اعتماد ہو۔
موجودہ حالات میں عمران خان کی زندگی کو داؤ پر لگانا پاکستان کے دشمنوں کو شررانگیزی کا موقع فراہم کرنا ہے۔
اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔
#ReleaseImranKhanNOW
اس وقت نا کوئی پٹواری آپکو نظر ا رہا ہے بات کرتے ہوئے نہ ہی نواز شریف،شہباز شریف،مریم،بلاول،زرداری
یہ سب خاموش ہیں
اس وقت سب انصافی جو محب وطن ہیں وہی بات کر رہے ہیں۔
🚨🚨
عمران خان کا ایک ایک منٹ جیل میں رہنا پاکستان پر بھاری پڑھ رہا ہے-- نقصان پہنچ رہا ہے
فورا ادھے گھنٹے کے اندر عمران خان کو رہا کرو دوسرے گھنٹے میں پوری قوم بارڈر پر حاضر ہوں گے