عمران خان نے آج تک جرنیلوں سے شدید ترین لڑائی ہونے کے باوجود دو باتیں کبھی نہیں کیں۔ کبھی کمپنی کے شہدا کی تضحیک نہیں کی۔ کبھی فوج کو جنگیں ہارنے کا طعنہ نہیں دیا۔ پھر بھی کمپنی عمران خان کی دشمن کیوں ہے؟ سوچیے! مسئلہ شہدا یا فوج کی عزت نہیں، مسئلہ اقتدار پر قبضے کا ہے! وقار ملک
#pakistan @RealWaqarMaliks
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
کشمیریو اک بات یاد رکھنا سانپ پر اعتبار کر لینا ان جرنیلوں پر کبھی نا کرنا یہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر بھی مکر جاتے ھین نواب خان کے پانچ بیٹے اسکے سامنے شھید کیے تھے اسکو جیل میں تڑپ تڑپ کا مارا گیا اسکو کہا تھا نیچے آجائو پہاڑوں سے وعدہ کیا گیا تھاقرآن پر ہاتھ رکھ کر عمران خان سے بار بار وعدے کیے گئے لیکن ایک بھی پورا نہیں کیا انہوں نے مرضی آپ کی ہے لیکن جو بھی کرنا سوچ سمجھ کر کرنا ہے اگر انکی باتوں میں آگئے پھر یہ تم کو ایسے ختم کریں گئے کے کوئ اٹھنے کی جرت نہیں کرے گا ہم بھگت چکے ھین نو مئ کو
بکواس نسلیں
کبھی امریکن پاکستانی ڈاکٹرز کا لائف سٹائل دیکھیں تو آپ حیران رہ جائیں۔ لیکن فوج نے انہیں بھی گھیر لیا۔ پروٹوکول ، پاکستان میں چھوٹے موٹے کام کاج اور ایک آدھ افسر سے تعلقات۔ یہ بس یہیں مر گئے۔ کیسے کیسے برج تھے جو رجیم چینج میں الٹ گئے دور سے کتنے معزز لگتے تھے۔ بڑے بڑے خان ، چوہدری اور وڈیرے فارم سینتالیس کا تھوک چاٹ کر اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ کچھ تو نظریاتی تھے۔ اصول پرست تھے۔ وہ تو سب سے زیادہ گندے نکلے۔ جس چیز پر ساری زندگی تنقید کرتے رہے اسی کے حمایتی بن بیٹھے۔
زمین سے اٹھا اٹھا کر لوگ اقتدار کے آسمانوں پر پہنچائے گئے۔ جو یہ ہیرے تراشتا رہا اسکی مہینوں سے ملاقاتیں بند ہیں۔ جن کو اقتدار حکومت مل گیا وہ مڑ کر اسکی خبر بھی نہیں لیتے۔ جس کو جہاں جتنا حرام کمانے کا موقع ملتا ہے وہ کما رہا ہے۔ با عدلیہ سے کوئی بوجھ اٹھاپارہا ہے، نہ انتظامیہ سے ، اس ملک کے کسی ادارے میں کسی بھی قسم کی کوئی غیرت نہیں۔
کھلی آنکھوں سے ناانصافی دیکھتے ہیں ، ظلم دیکھتے ہیں خاموش رہتے ہیں۔ جس کے سینے میں خنجر چلتا ہے وہ ایک چیخ نکالتا ہے جو باقی سب سنتے بھی نہیں اور وہ خنجر پھر اپنا نیا شکار ڈھونڈ لیتا ہے۔ نہ علماء سے کچھ بن پایا نہ وکلاء سے۔ نہ عوام کچھ کرپائے نہ حکمران کچھ کر پائے۔ لیڈر شپ والے تو جیسے ساری کوالٹیز ہی اس ملک میں ناپید ہوچکیں۔ پھر ہم جیسے بچتے ہیں تو منہ چھپا کر چند لفظی نشتر چلا کر سمجھتے ہیں کہ ہمارا حق بھی ادا ہوا۔ یہ بکواس نسلیں ہیں۔
امریکہ میں ڈاکٹروں کی جو تنظیم دن رات عمران خان کے لیے آواز اٹھاتی رہی۔ جنہوں نے بہت زیادہ عملی جدوجہد بھی کی۔ آج انکے پروگرام میں عمران خان کا فیس لیس امیج دیکھ کر اتنا اندازہ تو ہوگیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی مار بہت دور تک پہنچ چکی ہے۔ اور اب عمران خان کے لیے کھڑے رہنے والے ڈاکٹرز کی قیادت بھی بوجھ اٹھانے سے گھبراہٹ محسوس کر رہی ہے۔
اور تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ مجھے پکارو، میں تمہاری دُعائیں قبول کروں گا، بیشک جو لوگ تکبر کی بنا پر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں، وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
سورۃ غافر
اقبال آفریدی نے بلکل حقیقت بتائی ہے!!
اگر عمران خان کو نکالنا ہے, تو پارٹی کے اختیارات عمران خان کے بہنوں کو دی جائے!!
پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں, ہمیشہ فیملی ہی وفادار ثابت ہوئیں ہے!!