"ہماری کیمرہ گردی " (وہ ناسور جو ہمیں کپڑوں میں بھی بے لباس اور کمروں میں بھی بے حجاب کررہا ہے )
پچھلے دس دنوں میں پاکستان میں یہ تین مختلف واقعات ہویے -
- میاں چنوں میں ہسپتال کی ایمرجنسی میں جب ایک ڈاکٹر ایک نیم بیہوش لڑکی کو "سٹرنل رب " (Sternal rub) کر رہا تھا جو کہ ایسے کیسیز میں ایک سٹینڈرڈ پروسیجر ہے تو اس کی لواحقین نے وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالدی اور پورا معاشرہ ایم بی بی ایس نہ ہوتے ہویے بھی ڈاکٹر بن گیا اور اس کو کیپشن کیا "لڑکی کے ساتھ ڈاکٹر کی نازیبا حرکات " - اس ڈاکٹر پر پرچہ ہوا اور اس کا کیرئیر داؤ پر لگ گیا -
- دوسرا واقعہ کراچی میں ہوا جہاں ایک چپل فروش چونسٹھ سال کے بابا جی نے اپنی بیگم کا قتل کردیا - وڈیو بنی جس میں بابا جی پولیس کو گھر لے کر جاتے ہیں اور خون میں لت پت اپنی بیوی کی لاش دکھاتے ہیں اور پھر وڈیو میں وجہ بتاتے ہیں کہ اس نے سیکس سے انکار پر بیوی ماردی - یہ وڈیو بھی وائرل ہوتی ہے اور بابا جی مشھور ہوجاتے ہیں - اتنے کہ یو ٹیوبر جیل میں جا جا کر بابا جی کے انٹرویو کر رہے ہوتے ہیں - معاشرہ دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے - معاشرے کا ایک حصہ فورا سے عالم اور مفتی بن جاتا ہے اور دوسری تیسری شادی کی حکمت پر تبصرے شروع ہوجاتے ہیں اور دوسرا حصہ جگتی اور بھانڈ بن جاتا ہے اور "لینے دینے " لے الفاظ پر گندے لطیفے سنانا اپنا حق سمجھتا ہے - کیا کہا ڈومسٹک واؤلینس " پر بات ؟ اس پر بات وہ کرتا ہے جو کوئی معاشرہ ہوتا ہے ' لوگوں کا بےہنگم ہجوم اس پر کیا بات کرتا -
- تیسرا واقعہ کوئٹہ کا ہے جہاں ہسپتال کی لفٹ میں ڈاکٹر ماہنور نامی ایک ڈاکٹر کے چہرے پر ایک آدمی تیزاب پھینک کر بھاگ جاتا ہے - اس کی بھی وڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں وہ ڈاکٹر لڑکی اپنا تیزاب سے جھلسا چہرہ تھامے تڑپتی چیخیں مارتی نظر آتی ہے - معاشرہ یہاں بھی فورا جج اور یو ٹیوبر بن جاتا ہے اور اس تیزاب گرد کو موت کی سزا سنا کر وہ وڈیوز شیئر کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے جو اگر میرے لئے اتنی تکلیف دے تھی تو اس لڑکی کے گھر والوں کیلئے کیا قہر ڈھاتی ہوگی -
یہ تین واقعات بظاہر الگ الگ نوعیت کے ہیں لیکن ان میں ایک چیز مشترک ہے وہ ہے " ہماری کیمرہ گردی" ---- وہ رجحان جس کے تحت وائرل ہونے والی وڈیو بنائی گئی اور لگائی گئی ' وائرل ہوئی اور اس پر تبصرے اور پروگرام ہویے - لیکن میں نے ایک بھی تحریر اس وڈیو گردی کے خلاف نہی دیکھی جو نہ صرف ایک جرم ہے بلکہ کسی کے دکھ پر پیسے بنانے کا گھٹیا دھندہ بھی ہے -
چلیں اب ان تینوں واقعات کی وڈیو کی الگ الگ ڈائسیکشن کرتے ہیں :
کیا پہلے کیس میں وڈیو بننا چاہیےتھی ؟ ہر گز نہی - ہسپتالوں کی ایمر جنسی جہاں مریض ہوتے ہیں وہاں لواحقین کا کسی ڈاکٹر کی ایک پروفیشنل مینوور جس کو "سٹرنل رب " کہتے ہیں ' کرتے ہویے وڈیو بنا کر لگانا ایک جرم تھا جس میں وہاں موجود مریضوں کی پرائیویسی بھی بریچ ہوئی اور اس وڈیو کو دیکھ کر میڈیکل کی دنیا سے انجان لوگوں نے ایک ڈاکٹر پر گھٹیا الزام بھی لگایا جو نہ ہوتا اگر وہاں وڈیو نہ بنتی - اس وڈیو کے بعد اس ڈاکٹر اور اس کے خاندان پر کیا گزری ہوگی ' اس کا اندازہ لگانا اس معاشرے کیلئے بہت مشکل ہے -
دوسرے کیس میں پولیس نے وڈیو بنائی - ایک خون میں لت پت لاش کی اور ایک مجرم کے اقبال جرم کی - ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ وڈیو کرائم ڈیپارٹمنٹ تک محدود رہتی لیکن یہاں بھی پولیس نے اس کو لیک کیا اور اس وڈیو میں موجود چٹخارے دار الفاظ نے اس معاشرے کے اندر سویے ہویے بھانڈ کو انگڑائی لینے پر مجبور کیا - اس وڈیو گردی کے بعد اس خاندان کے باقی افراد جن کی ماں یا بہن قتل ہوئی ہوگی ان پر کیا بیتی ہوگی ؛ اس کی اس پولیس اور اس جگتی معاشرے کو ٹھینگے کی بھی پرواہ نہی کیوں کہ یہ عورت عاصمہ بیگم نہ ان کی ماں تھی نہ ان کی بہن یا بیٹی- ایک مجرم جس نے قتل جیسا جرم کیا اس کیلئے بھی اگر ہلکی سی بھی ہمدردی کے جذبات جاگے وٹو بھی اس وڈیو گردی کے ناسور کا نتیجہ تھا جو ہرگز نہی جاگتے اگر یہ وڈیو یوں وائرل نہ کی جاتی -
تیسرے واقعہ میں بھی وڈیو ہسپتال میں موجود لفٹ کے سی سی کیمروں میں بنی - ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ وڈیو بس ہسپتال کے ایم ایس یا ڈی ایم ایس اور تفتیشی عملے کے پاس رہتی یا پولیس کو دکھائی جاتی تاکہ مجرم کا تعاقب کیا جاسکے پر یہاں بھی کسی ایم ایس ' کسی ٹیکنیکل سٹاف کسی کلرک بادشاہ نے وہ وڈیو ویوز کے چکر میں لیک کردی - لوگوں کو ویوز کی کرنسی مل گئی اور معاشرے کو ایک تڑپتی چیختی لڑکی اپنا جھلسا چہرہ تھامے زمین پر لوٹتی پوٹتی نظر آگئی - کسی نے ہمدردی کی کسی نے غصہ کیا پر کیا اس وڈیو کے یوں وائرل کرنے سے کیس میں کوئی فرق پڑا؟
بس یہی میرا سوال ہے - اس نظام سے ؛ یہاں کے قانون نافذ کرنے والوں سے اور اس معاشرے سے کہ
اس وڈیو گردی کے خلاف کب کوئی تحریک چلے گی -
کب کوئی تحریر لکھی جائیگی -
کب کوئی نظم پڑھی جائیگی -
کب کوئی مقدمہ ہوگا کوئی قانون بنے گا -
کوئی تو اس مسلے کو مسلہ سمجھے -
کوئی تو اس موبائل فون کے کیمرے کو وہ کلاشنکوف وہ پسٹل سمجھے جس کی گولیوں سے نہ کوئی پروفیشنل ڈاکٹر محفوظ ہے ' نہ کوئی مقتولہ عورت محفوظ ہے اور نہ کسی مریض کی پرائویسی محفوظ ہے -
کوئی تو ان پولیس والوں کو ایس او پی سکھاے کہ وڈیوز کو سکرین کرنا ہوتا ہے ' وائرل نہی -
کوئی تو اس معاشرے کو یہ تمیز سکھاۓ کہ ایسی وڈیوز کو بار بار شیئر کرکے جگتی ' بغیر ڈگری کا ڈاکٹر اور بغیر علم کے عالم نہی بننا ہوتا بلکہ کسی کی ماں ' بہن بیٹی کا پردہ رکھنا ہوتا ہے -
کوئی تو اس غلیظ بزنس کی روک تھام پر بات کرے جس میں کرنسی ویوز ہیں ' مصنوعات انسان کی عزت اور تکریم ہے اور کاروباری مال انسانی خون اور کسی مریض کا مرض ہے -
مجھے اس معاشرے سے بس یہ جاننا ہے کہ اگر یہ عاصمہ بیگم ان کی ماں ہوتی ' ڈاکٹر ماہنور ان کی بیٹی ہوتی تو کیا تب بھی وہ اپنی وال سے ان کی وڈیوز یوں وائرل کرتے ؟
خدا را ! اس وڈیو گردی کو بند کریں - زندگی کسی ٹک ٹاک کسی فیس بک کسی یو ٹیوب سے زیادہ سنجیدہ اور اہم ہے - اس کو اپنے کیمرے کی گولیوں سے یوں چھلنی نہ کریں کہ وہ دم گھٹ کر مر جائے - ادارے ان باتوں پر توجہ دیں کہ ان کے ڈیپارٹمنٹس میں سے کس طرح ویڈیوز لیک ہو رہی ہیں اور ایسا کرنے والوں کو جاب سے برخواست کریں - اپنے پولیس والوں اور سرکاری ہسپتال کے عملوں کو پروفیشنلزم سکھائیں تاکہ وہ جرم کی تشہیر' مقتول کی تضحیک اور مریض کے مرض کی اشاعت کرنے کی بجاے مجرم کی حوصلہ شکنی ' مقتول اور لواحقین کی دلجوئی اور مریض کی مرہم پٹی کرتے نظر آئیں -
یاد رکھیں کہ اگر آج ہم نے وڈیو گردی کے اس ناسور کو نہ روکا تو کل یہ معاشرہ اس قدر اس کی زد میں آجائیگا کہ ہر کوئی لباس زیب تن کیے ہویے بھی خود کو عریاں اور کپڑوں میں لپٹا ہوا بھی خود کو ننگا محسوس کریگا -
کیوں کہ
"چراغ سب کے بجھیں گے ' یہ ہوا کسی کی نہی "
قلم کی جسارت وقاص نواز
آپ کو پتا جب آپ کے بچوں نے بڑے ہونا
ان کے ساتھ اس ملک کے ڈھائی کروڑ ایسے بچوں نے بھی بڑے ہونا جہنوں نے سکول کا منہ نہیں دیکھا۔
کبھی آپ نے سوچا کہ وہ آپ کے بچوں کے لئے نقصان دہ ہوگا ۔
اپنے بچوں کے ساتھ ان بچوں کی تعلیم پر توجہ کریں۔ میٹرک تو لازم ہے
@miandawoodadv پرائیویٹ سکولوں کے طلبہ 9ویں جماعت کی تیاری کے لیے تقریباً دو سال لیتے ہیں کیونکہ وہاں 8ویں جماعت عملاً ختم کر دی جاتی ہے۔ سرکاری سکولوں کے طلبہ 8ویں کے امتحانات کے باعث Pre-9th نہیں لگا سکتے، نتیجتاً انہیں صرف 7-8 ماہ ملتے ہیں۔ پھر دونوں کے نتائج کا موازنہ کرنا کہاں کا انصاف ہے؟
اگر میرے اختیار میں کسی ایک شعبے کی تنخواہیں دگنی کرنا ہو، تو میں اساتذہ کا انتخاب کروں گا۔
کیونکہ جو قوم اپنے استاد کی قدر نہیں کرتی، وہ اپنے مستقبل کی قدر بھی نہیں کرتی!
پنجاب میں 43 وزارتیں ہیں۔ اور ہر کسی کا وزیر علیحدہ ہے۔ باقی 42 منسٹرز میں سے کسی نے سوشل میڈیا یہ کمپئین نہیں چلائی کہ اس کے ڈیپارٹمنٹ کے اندر کام کرنے والے لوگ چور اور نا اہل ہیں۔ یہ طرہ امتیاز صرف ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو حاصل ہے کہ منسٹر صاحب اساتذہ کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے
تعلیم سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔۔۔۔
جس سے آپ دنیا کو بدلنے کا کام لے سکتے ہیں۔۔۔
نیلسن مینڈیلا۔۔۔
اور پنجاب کے بچوں کو سرکاری سکول بیچ کر اور تعلیم کی ذمہ داری سے ہاتھ اٹھا کر نہتا کر دیا گیا۔۔۔۔
@rizwanghilzai@RanaSikandarH@GovtofPunjabPK سرکاری سکولز کو بدنام نہ کرو
(REPOST IT)
یہ سرکاری سکول نہیں بلکہ پنجاب حکومت کی طرف سے ٹھیکے پہ دیا گیا سکول ہے
جو PEF کے زیر انتظام چلتا ہے
اساتذہ تو فنڈز لیٹ ہونے پہ اپنی آدھی آدھی تنخواہیں سکول پہ لگا دیتے ہیں مگر بنیادی ضروریات میں کمی نہیں انے دیتے
پرائیویٹ ادارے کی داخلہ مہم بہت بڑے #ایڈورٹائزنگ_بورڈ پر نمایاں پوزیشن دکھانے کی صورت میں وقوع پذیرہوتی ہے
اب یہ رزلٹ بورڈ پہ سجائےکیسےجاتے ہیں اسکو سمجھنے کے لیے درج ذیل تحریر ضرور پڑھیں
جب بچہ پرائیویٹ سکول داخل ہوتا ہےتو وہ اسکی قابلیت کی بنیاد پہ سیکشن وائز داخل کرتے ہیں
1/n
تعلیم کبھی ہماری ترجیحات رہی نہیں
سکولوں سے باہر موجود بچے اس وقت ایک ایٹم بم کی طرح ہیں جو پوری نسل کو تباہ کرسکتے ہیں
اس کے اثرات اتنے شدید ہوں گے کہ کوئی بھی نہیں بچ پائے گا
ٹھنڈے کمروں کے اجلاس کا فائدہ تب ہوگا جب نتائج ملیں
اِس سارے تجرباتی عمل کا ایک پہلو یہ بھی ہے کے آج تو ہزاروں اداروں کو محترم نواز شریف صاحب کے نام پر تبدیل کر دیا جائے گا مگر مستقبل میں جب کسی اور سیاسی جماعت کی حکومت آئے گی تو سب سے پہلے ان اداروں کو واپس پرانی حالت میں تبدیل کیا جائے گا۔محکمہ تعلیم انہی تجربات سے تباہ ہوتا ہے