اردو میں ماں باپ،
پنجابی میں امڑی ابا
سرائیکی میں وڈکی وڈکا
سنسکرت میں ماتا پتر،
فارسی میں مادر پدر
انگلش میں Mother Father
اور عربی میں ام، اب
ایک ایسے مجسم ایثار، وفا، محبت، شفقت، خلوص، احسان، اور رحمت کا نام ہے جس کا ہم مثال، ہم نام، اور ہم مقام رشتہ دنیا میں کہیں موجود نہیں۔
کبھی یونہی بھی شکر ادا کیا کریں
نہ جانے کتنے خطرات آپکے پاس آنے
سے پہلے ہی پلٹ جاتے ہیں،
کتنے دکھ آپکو چھو کر گزر جاتے ہیں
کتنی خوشیاں بنا مانگے آپکے
قدموں میں رکھ دی جاتی ہیں
اور کتنا سکون آپکا مقدر بنا دیا جاتا ہے۔
راز دیاں گلاں
اے میرے رب، مجھے اس طرح میرے
قدموں پر کھڑا کر کہ ہر شخص جان لے
کہ اس شخص کو اللہ نے اٹھایا ہے۔
اے میرے رب، تو جانتا ہے کہ میرا سینہ
کس قدر گھٹن اور بوجھ سے تنگ ہو چکا ہے۔
قرآن مجید میں جتنی بھی قوموں کی تباہی کا ذکر ہے،
ان میں سے ایک بھی قوم کی تباہی کی وجہ روزہ، حج، زکوٰۃ چھوڑنا نہیں تھی
بلکہ
کم تولنا، رشوت، نا انصافی، کسی کا حق کھانا، ملاوٹ کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا تھا
سادہ الفاظ میں معاملہ کہیں حقوق اللہ کا نہیں تھا، صرف حقوق العباد کا تھا۔
سب چھوٹ جائے لیکن اللہ تعالٰی
سے رابطہ نہیں ٹوٹنا چاہئیے اگر آپ
خود چل کر اسکی طرف نہیں جاو
گے تو وہ غم بھیج کر آپکا اپنی طرف
رجوع کروا لے گا کیونکہ آپکی سوچ سے
بھی زیادہ وہ رب آپکی فکر کرنے والا ہے
راز دیاں گلاں
محبت
بزدل لوگوں کی محبت
صرف باتوں تک محدود رہتی ہے
محبت ہمیشہ بہادر عورت سے کرنی
چاہئیے اتنی بہادر کہ وہ آپ کو اپنا
شوہر بنانے کی طاقت رکھتی ہو جو
بھرے زمانے میں آپکو معتبر کر سکے۔
راز دیاں گلاں