آج اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات ھو گئی ۔۔ایسا لگ رھا تھا جیسے کیسی نوجوان سے مل رھا ھوں ۔۔سرخ سپید رنگت ۔۔چمکتا ھوا چہرہ ۔۔آنکھوں میں جزبے کے ساتھ ساتھ درویشوں والی عاجزی ۔۔جیل کی سختیوں نے وزن خاصا کم کر دیا ھے ۔۔گرین رنگ کی کالروں والی قمیض اور اسکے اوپر گہرے کلر والی جرسی نے لگ رھا تھا انہیں عمر کی قید سے بھی آزاد کر دیا ھے ۔۔پاکستان کے لوگوں کے دل ودماغ میں بسنے والے اس قومی ھیرو کو اپنے سامنے پا کر میں تھوڑا جزباتی ھوا ۔۔میں نے محسوس کیا کہ میری آنکھوں میں تھوڑی نمی ا رھی ھے ۔۔لیکن خان مسکرایا ۔۔اور پھر اوپر آسمان کی طرف انگلی اٹھا کے کہا ۔۔سمیع میں نہیں کہتا تھا کہ سب سے بڑی طاقت اللہ آلحق ھے اور وھی سارے فیصلے کرتا ھے ۔۔
عمران خان پے تنقید کی تو نوجوان آگیا
یہ نظام نہیں چلے گا، 8 فروری کو جو بھی عمران خان کا امیدوار ہو چپ کر کے صرف اسے ووٹ دینا
آج عمران خان باہر ہوتا فلسطین کے معاملے پر بولتا
ان پڑھے لکھے نوجوانوں کو پچھلے دس سال سے یوتھیا کہہ کر گالی بنادیا گیا لیکن اس یوتھ نے ہمت نہیں ہاری اب ان تمام دانشوروں کو معافی مانگنی چاہئیے جو انہیں یوتھیا کہہ کر گالی دیتے رہے۔میرے بہادرو یہ وطن تمہارا ہے ہمت نہیں ہارنا
لفافہ صحافت کرنے والوں کے لئے ڈوب مرنے کو کافی ہے
اصل صحافت اب آج کے نوجوان کر رہے ہیں ، خبر، تجزیہ ، تبصرہ اور سوال اٹھانا
جبکہ لفافے گندی کتابیں ، عمران خان کے آزار بند، خواتین کی گھریلو کالیں، اغواء افراد کے انٹرویو لیکر دس ارب حلال کر رہے ہیں
عمران خان نے خوب کہا کہ
میں نے اپنا کام کر دیا ہے
@SaleemKhanSafi بغض عمران میں آپ ہر وقت زہر ہی اگلتے رہنا اگر اسے فوج نے ناجائز وزیراعظم بنایا تھا تو اب فوج کیوں ڈر سے اسکی جھلک بھی نہیں دکھا رہی
اصل مجرم تو وہ ہیں جنہوں نے آپکو ناجائز طور پر صحافی بنا دیا ورنہ آپ کہیں ٹھیلا لگا کر کمائی کررہے ہوتے
پاکستان کے مقبول اور معتبر ترین قائد کی غیرقانونی قید کے 100 روز
ایک قاتلانہ حملے میں گولی کا نشانہ بننے سے لیکر ان کی رہائش گاہ پر یلغار کئے جانے، اسے تہہ و بالا کر دینے، اس پر آنسو گیس برسانے اور اب انصاف سے محروم کرتے ہوئے انہیں ایک تنگ و تاریک کوٹھری میں قید کئے جانے تک سب کچھ کے باوجود عمران خان اپنے اصولوں پر پہرہ دیتے ہوئے ان پر ڈٹ کر کھڑے ہیں اور انہوں نے اپنی قوم سے کہا گیا ہر حرف، اپنے لوگوں سے کیا گیا ہر وعدہ سچ کر دکھایا ہے۔
تاریخ ضمیر کے دیگر دس ہزار سے زائد قیدیوں کے ہمراہ اِس دورِ یزیدیت میں جب حق پر ڈٹ جانا ہی اہم (اور تقاضۂ ایمان) تھا،ظلم کےمقابلےمیں تاریخ کےصحیح رُخ(راہِ حق) پر کھڑا ہونےپر جنابِ چیئرمین کو ہمیشہ یاد رکھےگی اور پاکستان کی حقیقی آزادی کیلئےاپنی جانوں کےنذرانےپیش کرنے والوں کی عزیمتوں پر عقیدت و احترام کے پھول نچھاور کرتی رہے گی۔