فیلڈ مارشل عاصم منیر کے وژن کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں پہلے نمبر پر آچکا ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ جس ملک کی سپاہ ہی دہشت گردوں کی سہولتکار ہوں، انہیں لا کر بسانے کی دلیلیں فراہم کرتی رہی ہوں اور تو اور ان کو ساتھ ملا کر سیاست دانوں کو اغوا کرتی ہوں۔ وہاں امن تو پھلنے پھولنے سے رہا۔
ذیل میں پاکستان میں دہشت گردی کی واپسی میں اس مافیہ کے کردار کی تاریخ کے متعلق اپنی کتاب ”دزدِ نیم شب کا رقیب“ کے متعلقہ اقتباسات جو پاکستان میں دہشت گردی کی واپسی کی ٹائم لائن ہے۔ پڑھیے اور سر دھنیے کہ کیسے آپ کو ایندھن بنانے کا سامان کیا گیا۔ اور آپ کے ٹیکس کے پیسوں سے ہی آپ کے قاتلوں کو حسبِ منشاء لایا لے جایا جاتا رہا۔ پڑھیے اور اپنی قسمت پر ماتم کیجیے کہ جن کے محافظ ان کا سودا کرآئیں اُن کا اپنی قسمت پر رونا ہی بنتا ہے۔
1/5
محترم وفاقی وزیر داخلہ
تو آپ کو یہ معلوم ہوتا کہ ممبران اسمبلی کو دیے گئے تحفظات کوئی نئی ایجاد نہیں، ہمیشہ سے پارلیمانی روایات اور قومی و صوبائی قوانین کا حصہ رہے ہیں۔اگر آپ کسی منتخب اور عوام کے نمائندہ پارلیمانی نظام کا حصہ رہے ہوتے
پارلیمانی استحقاق، بشمول صوبائی اسمبلی کے ممبر کو کسی فوجداری الزام پر گرفتار کرنے سے پہلے اسپیکر کی پیشگی اجازت، خیبر پختونخوا کی کوئی نئی ایجاد نہیں۔ یہ استحقاق مقننہ کی آزادی کے تحفظ، ایگزیکٹو کو پولیس کے ذریعے منتخب نمائندوں کو دھمکانے یا خاموش کرنے سے روکنے، اور اسمبلی کو بغیر خوف و خطر کام کرنے کے لیے ہیں۔
یہ تحفظات طویل عرصے سے چلی آ رہی پارلیمانی روایات اور پہلے صوبائی قوانین پر مبنی ہیں۔ یہ کسی ایم پی اے کو قانون سے بالاتر نہیں بناتے۔ الزام زدہ ممبر تحقیقات، مقدمہ اور عدالتی عمل سے مشروط رہتا ہے۔ اسپیکر کا کردار صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی گرفتاری سیاسی انتقام یا ایوان میں خلل ڈالنے کی نیت سے نہ ہو۔
جب آپ رات کی تاریکی میں استثنیٰ (immunity) کا قانون پاس کروا لیں تو وہ آپ کے نزدیک بالکل درست ہے۔ جب آپ پارلیمنٹیرینز کو اغوا کریں، رشوت دیں اور فلور کراسنگ کروا کر صرف اپنے لیے قانون پاس کروا لیں تو وہ قانون بن جاتا ہے۔
لیکن جب تمام حکومتی اور اپوزیشن پارٹیاں اتفاقِ رائے سے خیبر پختونخوا اسمبلی میں قانون پاس کریں تو وہ قانون نہیں رہتا؟ ہاں نا کمال ہے؟ ذرا سوچیں کہ آپ کیا موازنہ کر رہے ہیں اور کیا ٹویٹ کر رہے ہیں۔
آج ہم جمہوریت پر اس سے کہیں زیادہ سنگین حملہ دیکھ رہے ہیں: بغیر وارنٹ، چہرے ڈھکے ہوئے افراد منتخب ایم این ایز، ایم پی ایز اور پی ٹی آئی قیادت کے گھروں پر چھاپے مار کر اغوا کر رہے ہیں تاکہ پرامن احتجاج روکا جا سکے۔ کیا یہ جمہوریت ہے؟ جب 24 نومبر، 9 مئی اور 25 مئی کو گولیاں چلائیں گئیں اور قتل عام ہوئے تو یہ واضح ہو گیا کہ یہ جمہوریت نہیں بلکہ چند افراد کی چلائی ہوئی ریاست ہے، جہاں آئین محض کاغذ بن کر رہ گیا ہے۔
آپ دنیا کو پاکستان کے بارے میں کیا پیغام دے رہے ہیں؟ لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ امید دم توڑ رہی ہے۔ سرمایہ کار خوفزدہ ہیں۔ دریں اثنا اقتدار والے ہر قسم کے استحقاق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ہم یہاں رہیں گے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آپ جیسے لوگ حقیقی جمہوریت آنے پر اس ملک سے چلے جاتے ہیں۔ اب پاکستان کے لوگ ایک بار اور ہمیشہ کے لیے فیصلہ کریں گے کہ جمہوریت کیا ہے: عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے۔
آپ جن استحقاقات پر تنقید کر رہے ہیں، وہی آپ اور آپ کے ساتھی بھی مزے لے رہے ہیں۔ آپ میں سے کچھ نے پارلیمنٹ کے ذریعے خود کو استثنیٰ دلا رکھا ہے تاکہ کوئی ان سے سوال نہ کر سکے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا قانون ریاستِ مدینہ میں قابلِ قبول ہے؟ اگر یہ واقعی اسلامی ریاست ہے اور اس کا آئین اسلامی قانون کے تحت بنا ہے تو اسلامی تاریخ سے صرف ایک مثال بتائیں جہاں کسی فرد کو قانون سے استثنیٰ دیا گیا ہو۔ بس ایک مثال دے دیں۔
آپ اور آپ والے اکثر سوچتے ہیں کہ آپ کے الفاظ ہی قانون ہیں۔ نہیں میرے عزیز! صرف وہی قانون غالب آئے گا جو اسلامی شریعت کے مطابق ہو۔
چند روز قبل خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کو ریکارڈ قانون سازی پر ایک بین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا گیا — ایسی قانون سازی جو عوام کی حقیقی نمائندگی اور جمہوریت کا عکس ہے۔ اس اسمبلی کے قیام کے بعد کسی پچھلی اسمبلی نے اس قسم کی ترقی پسند قانون سازی نہیں کی۔ یہ اعزاز نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے۔ اس بڑی کامیابی اور پاکستان کے عالمی سطح پر اچھے نام کی تعریف کرنے اور خوشی منانے کے بجائے آپ نے میرا پاسپورٹ بلاک کر دیا اور کئی ایم این ایز و ایم پی ایز کو اس کانفرنس میں شرکت سے روک دیا۔ وہ کانفرنس 56 ممالک، 186 اسمبلیوں اور تقریباً 80 ہزار پارلیمنٹیرینز کی نمائندگی کرتی تھی۔ مگر آپ کی واحد ترجیح یہ ہے کہ اپنے غیر قانونی فارم 47 کی نام نہاد حکومت کو انسانی حقوق اور اخلاقیات کو پامال کر کے کیسے طول دیا جائے۔
میں نے پاکستان کی ہر اسمبلی اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے منظور شدہ قانون کے مطابق آئی جی پی اور اضافی چیف سیکرٹری (ہوم) کو خط لکھا کہ کسی بھی گرفتاری سے پہلے میرے دفتر کو مطلع کیا جائے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے یا خوف و ہراس سے بچا جا سکے۔ یہ میرا آئینی فرض ہے۔ ایوان کے محافظ ہونے کے ناطے خیبر پختونخوا کے لوگ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ میں ان کے منتخب نمائندوں کے حقوق کا تحفظ کروں۔
آپ سوچتے ہوں گے گذشتہ چار سال میں اس ریاست نامی ڈائن کی کون سی مکروح شکل نہیں ہوگی جو آپ نے نہیں دیکھی ہوگی اور پھر یہ پہلے سے زیادہ قبیح صورت میں آپ کے سامنے آجاتی ہے۔
گذشتہ ہفتے سے خیبر پختونخواہ میں بے شرمی کا ایک بازار گرم ہے۔ جو شاید ۹ مئی کے ڈھکوسلے کے بعد بھی پختون سرزمین پر نہیں ہوا وہ حدود بھی پار کی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت صبر سے اپنے خلاف ہر وار سہہ رہی ہے تاکہ ان ناجائز طاقتوں کو مزید کسی رنڈی رونے کا بہانہ نہ مہیا کیا جاسکے مگر پس پردہ حقائق ہوشربا ہیں۔
خیبر پختونخواہ کی منتخب قیادت کے خلاف ہونے والے حملوں میں “ریاست” کھلم کھلا گڈ طالبان اور کرمنلز کو استعمال کررہی ہے۔ ہر علاقے میں ایسی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں متعلقہ علاقے کے سنگین ترین جرائم میں ملوث افراد، چند گڈ طالبان، آئی ایس آئی اور ایم آئی شامل ہے۔ زرا سوچیے کس حد تک طاقت کی ہوس میں اندھے ہیں یہ کہ خطرناک ترین جرائم میں ملوث عادی مجرموں کو یقین دلایا گیا ہے کہ اس آپریشن کی کامیابی کی صورت میں آپ پر ابھی تک کے سارے چارجز ختم کر دیے جائیں گے۔ گڈ طالبان تو تھے ہی ان کے اپنے، اب جرائم پیشہ افراد کو بھی، ایف سی اور کے پی پولیس کی وردیاں مہیا کی گئی ہیں۔ صوبائ وزیر فضل شکور کے اغوا میں بھی اس ٹیم کے لوگ شامل تھے۔ اگر شکیل خان بروقت ریکٹ نہ کرتا تو شاید آگے یہ ٹیم ان کے بھی انتظار میں ہوتی۔ میرے حوالے سے تو پاکستان اور پڑوس میں ایسی ٹیموں کی کاروائیاں کوئی نئی بات نہیں لیکن پورے پختونخواہ میں بلوچستان طرز پر باقاعدہ سنگین جرائم پیشہ افراد، گڈ طالبان اور تمام جاسوسی ادارے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے کر خیبر پختونخواہ حکومت کے منتخب نمائندگان اور تحریک انصاف کے عہدیداران کو اغوا اور ان کی املاک پر حملے کر رہے ہیں۔
میں اپنے نمائندگان سے کہتا ہوں ان کی مزید پردہ پوشی کریں گے تو یہ کل کو کسی بھی اغواشدہ لاپتہ فرد کو “فتنتہ الہندوستان” اور “فتنتہ الخوارج” کی کاروائ قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیں گے۔ یا تو شکیل خان کی طرح اپنا دفاع کریں یا لاپتہ افراد مسخ شدہ لاشوں اور کراس فائرنگ میں موت کا نشانہ بننے والوں میں شامل ہوں۔ اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
میں اپنے اقرباء کو بھی واضح الفاظ میں بتا رہا ہوں فی الفور کل رات کے واقعات کی ایف آئ آر آئ ایس آئی اور ایم آئی پر درج کر آئیں۔ قانون آپ کو یہ اجازت دیتا ہے کہ بغیر وارنٹ کے یہ سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشت گرد تو کیا اگر کوئی باوردی شخص بھی آپ کی چاردیواری کی پامالی کرتا ہے تو آپ کو اپنے گھر بار اور اپنے عیال کی حفاظت کے لیے ان سے اسی انداز میں نپٹنے کا حق حاصل ہے، جس کے یہ دہشت گرد اور دہشت گردوں کے سہولتکار مستحق ہیں۔ میری سیاست میرا نظریہ میری ذمہ داری ہے۔ میری سیاست کی خاطر اپنی غیرت اور حمیت پر کوئ بھی سمجھوتہ کرنے سے میں آپ کو آزاد کرتا ہوں۔
میں اپنے صوبے کی پولیس کو بھی کہنا چاہتا ہوں یہ ناجائز حکومت اور ان کا سہولت کار مافیہ جو خود کو ریاست کہتا ہے جس آگ کا ایندھن آپ کو بنا رہے ہیں۔ اُن پالیسیوں کے خلاف میں، تحریک انصاف اور یہ قوم ہی ہے جو کل بھی اور آج بھی آپ کی ہم نوا، آپ کے ساتھ اور آپ کے لیے کھڑے رہے ہیں۔ جرنیلوں کی ناجائز طاقت کی مدت ہوتی ہے۔ اُس کے بعد ان کے یہی ماتحت ادارے ان کی ان پالیسیوں کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتے جن کی وجہ سے آپ کے بچے یتیم ہوتے ہیں اور آپ کے عیال کو آپ کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ کل کو ان شہروں میں، اس صوبے میں، ان کی پالیسیوں کے نتائج کے ساتھ، میں نے رہنا ہے اور آپ نے رہنا ہے۔
کسی بھی ناجائز اقدام کی سہولت کاری سے پہلے یہ یاد رکھنا یہ مُلک ہمارا ہے، اسے کسی غاصب ٹولے کی خاطر آگ میں جھونکوگے تو بھگتوگے تم بھی۔
Important Message from Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail - 22 July 2025
Note: This tweet is based on the tweet from July 24, 2025.
“Never in the history of Pakistan has any political leader been subjected to the treatment that I am currently enduring. Nawaz Sharif committed corruption worth billions and was nevertheless granted every possible comfort in prison. In contrast, never before has the innocent and apolitical spouse of a political figure been imprisoned under such inhumane conditions as those imposed upon Bushra Bibi.
I am enduring the harshest prison term in the country’s history solely for the supremacy of the Constitution and in service of my nation. The level of oppression and authoritarianism is such that even the water I have for ablution is filthy and contaminated with dirt, unfit for any human being. Books sent to me by my family have been withheld for months. Access to television and newspapers has also been suspended. I have spent countless hours re-reading the same old books, but now even those are no longer available.
All my basic human rights have been violated. Even the minimum facilities accorded to ordinary prisoners under the law and the jail manual are denied to me. Despite repeated requests, I have not been allowed to speak to my children. Political meetings have also been restricted; I am only permitted to meet certain ‘choice individuals’, while all other interactions are barred.
I am waging a battle against a 78-year-old system, and my greatest success is that despite unprecedented oppression, the public stands firmly with me.
On February 8th (2024), the people expressed their trust in Pakistan Tehreek-e-Insaf by voting for you even in the absence of an electoral symbol. After such a clear mandate, it is the moral and political responsibility of every party member to become the voice of the people. It will be nothing short of disgraceful and condemnable if PTI leaders waste time on internal conflicts at this critical juncture. Anyone found engaging in factionalism within the party will be expelled. I am fighting for the future of our generations, and every sacrifice I make is for that cause. To create rifts within the party at this time would be a direct betrayal of my mission and vision.
The so-called government formed through Form 47 has crippled the judiciary through the 26th Constitutional Amendment. The way biased judges are now delivering blatantly unjust verdicts under these courts is visible to the entire nation. We must launch a robust campaign to liberate the judiciary, for no nation can survive, let alone progress, without judicial independence.”
Former Prime Minister Imran Khan in conversation at Adiala Jail - 24 July 2025
Note: This is a repost of the tweet from 24th July 2025
“We have knocked on every door, but no one has listened. I had asked for dialogue only once, and that too was conditional upon commissions to investigate the events of November 26th (2024) and May 9th (2023) being formed. It was Asim Munir who ordered the shooting of unarmed civilians on November 26th. I reiterate there is no longer any room for dialogue because this group has completely hijacked the entire system.
I have instructed Barrister Gohar, Salman Akram Raja, Ali Amin Gandapur, and Junaid Akbar to ensure the protest movement runs with full force. The objective of this movement must be the restoration of justice, the supremacy of law, and the protection of the Constitution. If we fail to raise our voices in the streets, this group of oppressors will gradually finish off our parliamentary party as well. I am standing firm; all of you must also stand firm.
Eighty percent of the people of Pakistan stand with me and we are entitled to fight for our rights. I am aware that 90% of the electoral fraud took place between polling and the compilation of results. I campaigned for the implementation of Electronic Voting Machines (EVMs) for two years. If EVMs had been used on February 8th (2024), the game would have ended there and then. I still say today: if transparent elections are desired, EVMs must be introduced, and rigging will end once and for all.”
پنجاب وزٹ پر میرے شہر وزیر آباد سے گزرتے ہوئے وزیراعلی میرے گھر رکے جس کا اتنا برا منایا گیاکہ اس وقت 20 سے 25 لوگ پچھلے ایک گھنٹے سے ہتھوڑوں کے ساتھ میرے گھر گھسے ہوئے ہیں اور سارا گھر تباہ کر رہے ہیں۔ کیا مہمان نوازی کی اتنی بڑی سزا ہے کہ ہمارا خون پسینے سے بنایا گیا گھر ملبے کا ڈھیر بنا دیا جائے
🚨 عمران خان کا قوم کے نام اہم ترین پیغام! 🚨
"پولیس مجھے گرفتار کرنے کے لیے باہر پہنچ چکی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ عمران خان کے جیل جانے سے قوم سو جائے گی، لیکن آپ نے انہیں غلط ثابت کرنا ہے۔ آپ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ ایک زندہ قوم ہے!"
اپنے حقوق اور حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلیں اور جدوجہد جاری رکھیں۔
جدوجہد جاری رکھنے کا عزم: میں آپ کی جنگ لڑ رہا ہوں اور لڑتا رہوں گا۔ اگر مجھے جیل بھیج دیا جائے یا کچھ ہو جائے، تب بھی آپ نے عمران خان کے بغیر اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہے۔
کسی کی غلامی اور فیصلے قبول نہ کریں۔۔
میں براہِ راست عاصم منیر سے سوال کرتا ہوں۔۔
کبھی تم صوبے بنا رہے ہو، کبھی صدر بن رہے ہو، کبھی مارشل لا لگا رہے ہو۔ عاصم منیر، تم ہو کون؟ تم نے پاکستان کو سمجھ کیا رکھا ہے؟ تم ایک عام چوکیدار ہو، تمہاری حیثیت عام شہری سے بھی کم ہے۔ تمہاری زمینیں، تمہارے بنگلے، کھربوں کی جائیدادیں کہاں سے آتی ہیں؟ ہم تمہیں امریکہ کے جرنیل کے برابر تنخواہ دینے کو تیار ہیں، لیکن تم جزیروں سے کم تو بات نہیں کرتے۔
صوبے بننے چاہئیں، لیکن عوام کی مرضی سے، تمہاری مرضی سے نہیں۔ میں قائداعظم کا بمبئی کا محل دیکھ رہا تھا، وہ یہاں زیارت میں پڑا تھا۔ قائداعظم نے وہ محل کیوں بنوایا؟ انہوں نے اپنی بیٹی کو نہیں دیا۔ وہ ایک مصروف ترین وکیل تھے۔ قائداعظم نے ہر چیز اپنی قوم کو دی۔
مشرف صاحب کا بیس پچیس ارب کا محل ہے، جس میں وہ ایک رات بھی نہیں رہ سکا۔ عاصم، تمہارا انجام بہت برا ہوگا، پتہ نہیں ہم ہوں گے یا نہیں۔ عوام اب ہر چیز جان چکی ہے۔ سہیل آفریدی کو کون جانتا تھا؟ اس نے اتنی عوام نکالی ہے۔
قوم عمران کو لیڈر مانتی ہے۔ وہ لاوارث نہیں ہے۔ تم کون ہو قوم کے لیڈر کا علاج روکنے والے؟ تم بتاؤ، آج تم ہو کون؟ تمہارے پاس صرف بندوق ہے۔
میں 70 سال سے سیاسی ورکر ہوں۔ تم میرا کیا کر سکتے ہو؟ مجھے 12 سال کی عمر میں آپ کے ایوب خان نے پہلی دفعہ 1964 میں جیل بھیجا۔ میں نے اسمبلی میں ضیاء الحق کو 1985ء میں کہا تھا:
اور یہی تمہیں کہتا ہوں
عاصم منیر، تمہیں بھی کہتا ہوں:
About turn quick march go back to your barracks and never come back again.
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
We will not forget the brutality unleashed on our peaceful Haqiqi Azadi March participants. Even during Gen Musharraf's Martial law I never saw such brutality esp the way families were tear gassed on 25th May and night raids into ppl's homes on the 24th.
I dedicated my whole life to improve health care for the poor & under privileged of Pakistan.
The #InsafSehatCard , a dream of @ImranKhanPTI an amazing milestone to cross.
Imprisoned for 280 years but firmly believe justice will prevail, now or soon, for a better Pakistan
Inaugurated Skardu international airport. InshaAllah, this will take mountain tourism to a level where it will bring in foreign exchange for the country & raise the local community's standard of living. I want to thank the people of Skardu for their generous welcome.
“رجیم چینج کے بعد سے پاکستان میں مہنگائی کا جن بے قابو ہے۔ یہ بات تکلیف دہ ہے کہ اس مرتبہ صاحبِ حیثیت لوگوں کے پاس بھی ایک بکرے کی قربانی کرنے کی سکت تک موجود نہیں تھی، انھوں نے مشکل سے سنت ابراہیمی کی تکمیل کی۔ غریب طبقے کی کمر تو پہلی ہی توڑی جا چکی ہے۔
اب یہ جعلی حکومت بجٹ پیش کرنے لگی ہے جو عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دے گا۔ اس بجٹ میں پھر سے دو طبقات کچل دیئے جائیں گے ایک ملازم پیشہ افراد اور دوسرا کسان۔ اس جعلی حکومت نے زرعی معیشت اور کسان کی کمر توڑ دی ہے۔کسی زرعی ملک میں کسان کے بدحال ہونے کا مطلب یہی ہے کہ وہاں بے روزگاری میں اضافہ اور قوت خرید میں کمی واقع ہو گی۔ انڈسٹری پہلے ہی تباہی کے دہانے پر ہے۔
چھبیسویں ترمیم کے بعد اب ستائیسویں ترمیم لانے کی تیاری ہے تاکہ انصاف مکمل طور پر دفن کر دیا جائے اور عوام مزید مایوس ہو جائیں۔ پہلے دن سے ان کا مقصد ہمیں خوفزدہ کرنا اور عوام کی آواز کو دبانا ہے۔ اسی لیے نو مئی کروایا گیا۔ مجھے کہا جاتا ہے ۹ مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا مطالبہ نہ کروں اور نو مئی کی ذمہ داری قبول کر لوں اور اس 17 سیٹوں والی جعلی فارم 47 کی حکومت کو مان لوں۔ میری ساری جدوجہد کا مقصد ہی قانون اور آئین کی بالادستی ہے۔
ہمارے سارے آئینی و قانونی راستے بند کر دیئے ہیں اس لئے میں نے پارٹی کو ملک گیر تحریک کی تیاری کی ہدایت دے دی ہے۔
مینڈیٹ میرا نہیں آپ کا چھینا گیا ہے، آپ سب کو اس تحریک میں شامل ہونا ہو گا۔ آزادی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی اس کے لیے بحیثیت قوم جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔
پاکستانی عوام نے تحریک انصاف کے منشور اور نظریہ کو دیکھتے ہوئے ہمیں ووٹ دیئے اور خیبر پختونخواہ میں ہماری جو حکومت بنی ہے وہ پورے پاکستان میں پی ٹی آئی کی نمائندگی کرتی ہے۔ میں نے علی امین کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ میری مشاورت کے بغیر خیبر پختونخوا کا بجٹ پیش نہیں ہو گا-“
چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو۔۔۔ ۱۰جون ۲۰۲۵
After this reaffirmation of US regime change conspiracy that was evident from the cipher message sent by our Envoy in Washington conveying State Dept Lu's threat, it is surely duty of CJP to form Commission to hold public hearings on who all were involved here in this conspiracy.
Imran Khan-linked ‘Cyphergate’ Row hits Pakistan: US' role confirmed in his ouster? Secret cipher says 'All will be forgiven in Washington.'
https://t.co/lj1ZWFyrSR