ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺻﺪﺭ ﻧﮯ ﻭﺍﺋﭧ ﮬﺎﻭﺱ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﻭ ﺭﻭﻏﻦ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮐﮯ ﭨﮭﯿﮑﯿﺪﺍﺭﻭﮞ ﺳﮯﺗﺨﻤﯿﻨﮧ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ
ﭼﯿﻨﯽ ﭨﮭﯿﮑﯿﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﻣﻠﯿﻦ ﮈﺍﻟﺮ ﺗﺨﻤﯿﻨﮧ لگایا
اور ﯾﻮﺭﭘﯽ ﭨﮭﯿﮑﯿﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﺳﺎﺕ ﻣﻠﯿﻦ ﮈﺍﻟﺮ خرچ بتایا
ﺍ��ﺭ پھر ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﭨﮭﯿﮑﯿﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﺩﺱ ﻣﻠﯿﻦ ﮈﺍﻟﺮ ﮐﺎ ﺗﺨﻤﯿﻨﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ
صدر ﻧﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﭨﮭﯿﮑﯿﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯتین ملین ڈالر تخمینہ کیسے لگایا۔۔۔؟
ٹھیکیدار نے جواب دیا کہ ایک ملین کا پینٹ 1ملین لیبر کی مزدوری کے لئے اور ایک ملین پرافٹ کا ۔
صدر نے یورپی ٹھیکدار سے سات ملین کا پوچھا
اس نے جواب دیا تین ملین کا پینٹ دو ملین لیبر کا دو ملین پرافٹ کا
صدر نے پاکستانی سے پوچھا کہ تم نے کس طرح دس ملین کا تخمینہ لگایا
پاکستانی ٹھیکیدار بولا چار ملین تمہارے لیے، تین ملین میرے لیے، باقی تین ملین چائنیز کو دے کر پینٹ کروالیں گے
اور پاکستانی کنٹر��کٹر کو ٹھیکہ مل گیا
بظاہر یہ ایک لطیفہ ہے لیکن در حقیقت یہ پاکستان کی 76 سالہ تاریخ ہے پاکستانی جب جمہوریت میں آتی ہیں تو ایسے ہی ڈیلز کر کے آتے ہیں
ریڈیو پاکستان پشاور کی اس عمارت کو جلے ہوئے 4 ماہ ہوگئے ہیں ۔۔ لیکن اس کی مرمت یا تعمیر نو کا آغاز نہ ہو سکا
بتانا تھا کہ شھباز حکومت نے اپنی اقتدار کے آخری ماہ کے دوران ترقیاتی کا��وں کی لئے 90 اور نگران حکومت نے 126 ارب روپے منظور کرائے۔۔
"The reality is that when a man has over 170 charges levied at him, then it is clear that the real issue has nothing to do with the actual merits of any of these charges, and everything to do instead with preventing people of #Pakistan from voting for him"
عوام کے لئے پندرہ ارب کا ریلیف بھی آئی ایم ایف کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں، لیکن دوسری طرف سولہ ماہ کے دوران ایک وزارت دس ارب روپے صرف اشتہارات پر خرچ کر دیتی ہے۔ ان دونوں خبروں پر غور کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ اس ملک میں عوام کی کتنی اہمیت ،عوام کے پیسوں سے اشتہارات دیے جاسکتے ہیں لیکن ان کو ریلیف دینے کی بات آئے تو آئی ایم ایف سے اجازت کا انتظار کرنا پڑتا ہے!!! اب ذرا سوچیں کہ مسئلہ آئی ایم ایف ہے یا ہمارا نظام چلانے والے۔ یاد رہے سولہ ماہ کے دوران 80 سے زیادہ وزیر اور مشیر تھے!! یہ تو صرف ایک ورزات کی کہانی ہے۔
جب خان صاحب جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوۓ تھے ہم ہمراہ تھے،خان صاحب نے واضح طور پر جے آئی ٹی کو کہا کہ کوئی وڈیو آڈیو کوئی ثبوت لے آئیں کہ جس کے تحت یہ ثابت کر سکیں کہ میں نے کسی کو جلاؤ گھراؤ کا کہا ہو جس پر جے آئی ٹی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ،بلکہ خان صاحب نے کہا کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ انکوائری کرے اور ہر چیز سامنے آۓ،اب اگر جے آئی ٹی نے گناہ کار قرار دیا ہے تو وہ تو دے گی کیونکہ سرکار ہی سارے مقدمے بنانے والی ہے تو وہ تو گناہ گار بناۓ گی،لیکن کیسز کے اندر سزا یا جزا کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے جے آئی ٹی نے نہیں.
چیف جسٹس نے آج فیصلے میں 2 سچ بولے ہیں لیکن 1 سچ چھپا لیا ہے پہلا سچ کہ کہ PDM حکومتی وزرا نے عدالت پر توہین آمیز الزامات لگائے ! دوسرا سچ یہ بولا کہ عدالت کو پریشرائز کرنے کی کوشش کی ! لیکن تیسرا سچ جو نہیں بولا وہ یہ کہ ہم پریشرائز ہوگئے !! کیونکہ جج صاحب اگر آپ پریشرائز نہ ہوتے تو آپ یہ فیصلے حکومت کی موجودگی میں کرتے آپ پریشرائز نہ ہوتے تو الیکشن نہ کروانے پر توہین عدالت لگاتے ، آپ پریشرائز نہ ہوتے تو نیب ترامیم کا فیصلہ فوراً کرتے، پریشرائز نہ ہوتے تو عدالتی فیصلوں کا احترام کرواتے ! لیکن جج صاحب آپ پریشرائز ہو گئے یہ سچ بھی قوم کو بتائیں
آج سیکریٹ ایکٹ کے تحت بنائ گئ خصوصی عدالت میں عمران خان کے سائفر کیس کی سماعت کے موقع پر جج صاحب ایک ہفتے کی چھٹی پر چلے گئے ۔ یاد رہے یہ وہی جج ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ "میں دلاور نہیں دلیر ہوں" دوسرا کوئ جج عمران خان کا کیس سننے کو تیار نہیں تھا ۔ اب ان جج صاحب کی چھٹیوں کی وجہ سے عمران خان کو مزید ایک ہفتہ جیل میں گزارنا پڑے گا ۔ پچھلے ایک مہینے سے عدلیہ انصاف کے ساتھ یہ کھلواڑ کر رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان انصاف کے حوالے سے دنیا میں آخری نمبر پر ہے ۔
جو لوگ یہ افواہیں پھیلاتے ہیں کہ الیکشن میں تاخیر کرنا اور نگران سیٹ اپ کو طویل کرنا اسٹیبلشمنٹ کی خواہش ہے، ایسا نہیں ہے،
الیکشن نومبر سے جنوری فروری تک لے جانا ن ��یگ اور نواز شریف کی خواہش تھی، اسی خواہش کے احترام میں سی سی آئی سے مردم شماری کی منظوری لی گئی، سلیم صافی صاحب کی شہزاد اقبال صاحب کے پروگرام میں گفتگو
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر میاں صاحب کی جماعت کو الیکشن فروری میں بھی سوٹ نہ کیا تو فروری میں بھی الیکشن نہیں ہوگا ؟
25 کروڑ کی ایٹمی ریاست آئین کے مطابق چلے گی یا ایک سزا یافتہ مجرم کی خواہش پر؟؟؟
25 کروڑ عوام کا مفاد دیکھا جائے گا یا ایک اشتہاری کا؟؟؟
ہمارے رسولِ محترم ﷺ جب بھی جہاد کیلئے نکلتے، عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچانے کی سخت ترین ہدایات جاری کی جاتیں۔آج ہمارے اپنے سیکورٹی اہلکار آدھی رات کو گھروں پر دھاوا بولتے، دروازے توڑتے، گھریلو ساز و سامان تباہ و برباد کرتے اور (قیمتی اشیاء) چوری کرکے ساتھ لے جاتے ہیں۔
خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے، انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور اگر مطلوبہ شخص ہاتھ نہ آئے تو اس کے والد حتّٰی کہ گھریلو ملازمین تک کو (بالکل غیرقانونی طریقے سے) اٹھا کر قید کردیا جاتا ہے۔
ایسے ہی ایک حملے کے دوران جب میرا بھانجا ہاتھ نہ لگا تو میری ہمشیرہ کے ڈرائیور اور باورچی رحیم کو اٹھا لیا گیا۔ دونوں کو قید کردیا گیا اور جانوروں (sardines) کیطرح ایک چھوٹے سے ڈربے میں پھینک دیا گیا۔ رحیم کو تو سانس کی تکلیف تھی چنانچہ رہائی کے بعد جب سے وہ واپس لوٹا ہے وینٹیلیٹر پر موت و حیات کی کشمکش میں ہے۔ جو گروہ (ایک جمہوری ملک میں) دہشت کے اس راج کا ذمہ دار ہے وہ بلاشبہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔
ہم مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارت سرکار کے ہاتھوں انسانی حقوق کی ایسی بہیمانہ خلاف وزریوں کی داستانیں تو سُنا کرتے تھے مگر ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وحشت و بربریت کی ایسی تاریخ یہاں (پاکستان میں) بھی رقم کی جائے گی۔
(جبر و وحشت) کی اس پالیسی سے اگرچہ وقتی طور پر عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہو مگر (عوام کے سینوں میں کھَولتا ہوا) نفرت و ناراضگی کا لاوا کسی وقت بھی باہر آجائے گا۔