یہ قرآن والے یہودی ہیں لیکن ہم قرآن والے مسلمان نہیں ہیں ۔
UN میں شہباز نے کھڑے ہو کر خیرات اور چندے کی آیتیں پڑھیں,یا ہو نے لڑائیوں اور بچے مارنے کی آیتیں پڑھیں ۔اگلی آیت کیوں نہیں پڑھی ؟کیونکہ اسکو جنھوں نے نکال کر پکڑائی وہ بڑے ہوشیار ہیں۔پاکستان کی تین نسلوں کو دین کا مطلب بتایا گیا کہ صوفی ازم کے علاوہ اسلام کچھ نہیں ہے،جہاد کی باتیں کرنے والے ریڈیکل ہیں ۔ہمارا کام سیاست کرنا ان لوگوں کا کام نمازیں پڑھانا،انھوں نے سیاست میں ہر چیز قومی تشخص کے نام پر بتائی نہ اللہ نے سوال کرنا ہے نہ کوئی کامن سنس کی بات ہو گی ۔نواز شریف اورآرمی والوں کو پتہ ہے یہ اسلام کا کوئی معماملہ نہیں ہے کہ پاکستان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔یہ پہلی دفعہ فیشن بن کر خارجی کا لفظ استعمال ہوا ہے ورنہ پاکستان نے کب سے اسلام کے لفظ استعمال کرنے شروع کر دیے۔صہیونیوں نے یورپین کو کہا تھا جب تم اسرائیل کی گلیوں میں داخل ہو تو تمھارے الٹے ہاتھ میں بائبل اور سیدھے ہاتھ میں بندوق ہونی چاہیے کہ ہمیں یہ اللہ نے حکم دیا ہوا ہے ۔اصلی میسج لڑائی کا ہے ہمارے لیے بھی یہی تھا ۔
نوجوان صحافی نے تباہیاں مچادی🔥🔥
عمران خان نے انکو پاگل بنایا ہؤا ہے ✊ ٹچہ عسکری اتنے بیوقوف ہے ایک اوپن لیٹر کو کہہ رہےہیں 😂 ہمیں نہیں ملا🤦🔥
https://t.co/NitwPPI17Z
نا کرو یار ,بھائی ہم پر گولیاں نہ چلاؤ ہم نہتے ہیں آپ کی مہربانی ہو گی، آپ لوگ پیچھے جائیں ہمیں جانے دو ہم واپس چلے جاتے ہیں 💔
26 نومبر کی رات معصوم نہتے شہری ریاستی غنڈوں کی منتیں کرتے رہے کہ ہم پر گولی نہ چلاؤ
برکینگ نیوز 🚨 انٹرنیشنل میڈیا ان فائر 🔥
امریکن چینل Democracy Now نے پوری تفصیل سے ڈی چوک قتلِ عام پر مکمل پروگرام کرلیا ہے🔥🔥✊ اسکو پھیلائیں ✊ قاتلوں کیلیے موت ہے ✊
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا کہ اس نے رفح میں سپلائی کے مسائل اور عدم تحفظ کی وجہ سے خوراک کی تقسیم معطل کر دی ہے۔
غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 35 ہزار 647 افراد شہید اور 79 ہزار 852 زخمی ہوچکے ہیں۔
https://t.co/QGBZw1i4NV
تحریک انصاف بطور پارلیمان کی سب سے بڑی جماعت اور پاکستان کی وفاقی اکائی خیبرپختونخواہ کی حکمران جماعت، ریاست پاکستان کا حصہ ہے جبکہ پاک فوج، PTV اور FIA کی طرح ایک وزارت کا ذیلی تنخواہ دار محکمہ ہے۔
یہ امر افسوس ناک ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹس ایک ذیلی محکمے کو ریاست بتاتے ہیں جبکہ ریاست کے تینوں ستون ، مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کو دھمکیاں بھی لگاتے ہیں اور دھونس بھی کی جاتی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ریاست پاکستان کو شدید اور ناقابل تلافی نقصان ہوگا