مملکتِ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والے حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا اور امن و امان کو سبوتاژ کرنا کھلی دہشت گردی ہے، جس کی کوئی گنجائش نہیں۔
ہم مملکتِ سعودی عرب، اس کی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں ۔ حرمین شریفین اور سعودی عرب کے امن و سلامتی پر حملہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ تشویش ہے۔
اس بچے محمد ذیشان کا کہنا ہے کہ اقبال آباد سے اسے کوئی اٹھاکر لایا ہے۔ ساتھ میں دو تین مزید بچے بھئ تھے۔
اقبال آباد پنجاب کے دوست اس ویڈیو کو خوب زیادہ شئیر کریں کوئی بھی انکے گھر والوں کو جانتا ہو نیچے دئیے گئے نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
10 oct 2026
#waliullahmaroof
قائد جمعیت سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم حفظہ اللہ، امیر مرکزی جمعیت اہلِ حدیث پاکستان، نے سرگودھا میں اہلِ حدیث کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے اور جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے بھرپور یکجہتی کا پیغام دیا۔
قائد جمعیت نے پاکستان میں امن، استحکام، قومی یکجہتی اور مضبوط ریاستی نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی اور سلامتی کے لیے اتحاد و اتفاق اور ذمہ دارانہ کردار ناگزیر ہے۔
سرگودھا میں اہلِ حدیث کانفرنس کے یہ خوبصورت مناظر دین سے وابستگی، حرمین شریفین سے والہانہ محبت اور پاکستان کے امن و استحکام کے لیے پختہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
مرکزی جمعیت اہلِ حدیث پاکستان — تحفظِ حرمین شریفین، اتحادِ امت اور استحکامِ پاکستان کے لیے پُرعزم۔
#مرکزی_جمعیت_اہل_حدیث_پاکستان #قائد_جمعیت #حافظ_عبدالکریم #تحفظ_حرمین_شریفین #استحکام_پاکستان #اہل_حدیث_کانفرنس
اس امت کے اوّلین لوگ (صحابہ کرام) وہی ہیں جنہوں نےتصدیق، علم،عمل اور تبلیغ کےساتھ دین کو قائم کیا۔چنانچہ ان پر طعن کرنا درحقیقت دین پر طعن کرنا ہے، جو اس شریعت سے منہ موڑنے کا موجب بنتا ہے جسے دے کر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو مبعوث فرمایا۔ اور یہی ان سب سے پہلے لوگوں کا مقصد تھا
چائنہ سے امپورٹ پر پابندی لگائی جائے ۔
ہم چیزیں ناقص اور مہنگی بنائیں گے۔
ٹیکس دیں گے نہیں۔
بند انڈسٹری پر سبسڈی دی جائے۔
ملازمین بھرتی کرتے اور تنخواہیں دیتے ہمیں موت آتی ہے۔
کیونکہ ہم ہاؤسنگ سوسائٹیز کاٹنے میں مصروف
فیصل آباد کے ٹیکسٹائلز ملز مالکان کی چھوٹی چھوٹی ڈیمانڈز
وزیر اعظم، فیلڈ مارشل اور وزیر داخلہ سے استدعا
👇👇👇👇
امید ہے کہ برطانوی نژاد پاکستانی کے کیس میں عین اسی طرز پر انصاف ہوگا جیسا ڈکی بھائی کیس میں ہوا اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے FIA فیصل آباد کے افسران کو مثالی سزا دے کر اوورسیز پاکستانیوں اور مقامی پاکستانیوں کا اداروں پر اعتماد بحال کیا جائے گا۔ یہ کیس 100 فیصد ایسا ہی ہے، ایک اوورسیز پاکستانی 16 سال بعد پاکستان آتا ہے اپنی والدہ کے علاج معالجے اور خدمت کیلئے اور برطانیہ میں اس کے مخالفین یہاں پاکستان میں ایف آئی اے افسران کو بھاری رشوت دے کر اس کے خلاف 1 لاکھ 4ہزار پائونڈ کا ویزا فراڈ کا مقدمہ درج کر لیتے ہیں، پرالسی مدعی بھی ایف آئی اے افسران خود ہی ارینج کرتے ہیں، پراکسی مدعی کی غربت کا یہ عالم ہے کہ اس نے شاید ہی زندگی میں کبھی ایک لاکھ پاکستانی روپے الٹیے دیکھے ہوں لیکن وہ ایک لاکھ پائونڈ کا مقدمہ درج کروا رہا ہے۔ اختیارات کے ناجائز استعمال کی بدترین مثال دیکھیں کہ مقدمہ درج کرنے سے دس پندرہ دن پہلے ایف آئی اے افسران برطانوی پاکستانی شہری کو اسکے بھائی اور دیگر رشتہ داروں سمیت اغوا کرتے ہیں، ایف آئی اے دفتر میں بٹھا کر ان سے دو گاڑیوں کا قبضہ لیتے ہیں، رات گئے ان سے پراکسی مدعی کی بہن کے اکائونٹ میں پیسے ٹرانسفر کراتے ہیں، اشٹام پیپرز پر زبردستی سائن انگوٹھے کرواتے ہیں اور مزہ کی بات ہے کہ زندگی میں پہلی مرتبہ اشٹام پیپر پر لکھا ہوا ہے کہ یہ ایف آئی اے کے حق میں نکلوایا جا رہا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے فیصل آباد سے لے کر ایس ایچ او تک سب نے مل کر اپنے اپنے حصے کی رشوت لے کر یہ حرکت کی ہے۔۔
یہ بہت حوصلہ افزا ہے کہ ایک ہائی پاوور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنا دی گئی ہے جو اس پورے معاملے کی انکوائری کر رہی ہے لیکن اس نوٹس سے معمولی سا شک پیدا ہوا ہے کہ اصل اور طاقتور ملزم ڈائریکٹر کو بچانے کی کوشش شروع ہو چکی ہے۔
وزیر اعظم، فیلڈ مارشل اور وزیر داخلہ سے استدعا ہے کہ مسلسل زرمبادلہ بھیج کر پاکستان کی خدمت کرنے والے اوورسیز خاندان کے ساتھ ظلم میں ملوث افسران کیخلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے تاکہ باقی اوورسیز کا اعتماد بحال ہو سکے۔
@FIA_Agency@CMShehbaz@OfficialDGISPR@MohsinnaqviC42
@AmjadHafeez19 حفیظ صاحب سیزن کے دوران آپ نے کسان کو گندم بیچنے ہی نہیں دی۔ جب بھی گندم سڑک پر آتی تھی، سرکاری غنڈے اس پر قبضہ جما لیتے تھے۔ صرف وہی کسان گندم بچا سکے جو کھاتے پیتے تھے۔ اب وہ مہنگے داموں بیچ رہے ہیں اور آپ ان کی مثالیں دے کر غریب کسانوں کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔
مریم نواز کی ناک کے نیچے ایل ڈی اے میں کیا ہورہا ہے؟ خواتین افسران اور خواتین ملازمین "ایک افسر" کے ہاتھوں غیر محفوظ
اطلاعات کے مطابق لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی LDAمیں کچھ عرصہ قبل ایک نئے افسر تعینات ہوئے ہیں۔ا فسر صاحب نے سب سے پہلے تو اپنے ساتھ 15 سے 20 گارڈ کی ٹیم رکھی جو ہمہ ان کے دفتر کے باہر یا ان کے ساتھ موجود رہتی ہے،اس کام کے بعد افسر صاحب نے ایل ڈی اے کی خواتین افسران کو رات گئے Presentation کے نام پر دفتر میں بلانا شروع کیا،جس پر نکتہ چینی ہوئی مگر یہ معاملہ نہ رک سکا اور نہ ہی اس افسر سے کوئی پوچھنے والا تھا کہ رات کے 10 بجے اکیلی خاتون افسر کو بلا کر کونسی Presentation لی جاتی ہیں؟
اہم موڑ گزشتہ روز آیا جب ایک جونئیر عہدے پر موجود لڑکی جس کے عہدے کا ایل ڈی اے میں کوئی عملی اختیار ہی نہیں اسے 5 بجے چھٹی پر جانے کی بجائے روک لیا گیا کہ رات 10 بجے صاحب سے میٹنگ ہے۔ لڑکی نے گھر بھی میٹنگ کا بتایا ،تاہم گھر والے پریشان تھے کہ یہ کونسی میٹنگ ہے؟رات کے وقت جب یہ میٹنگ جاری تھی تو اس لڑکی کی والدہ اپنے ایک رشتے دار اینکر کے ہمراہ ایل ڈی اے پہنچ گئے جہاں ان کو اندر جانے سےاسی افسر کے گارڈز نے روکا ، تلخ کلامی ہوئی مگر لڑکی کی والدہ اور رشتے دار اینکر اندر چلے گئے جہاں ان کی افسر سے دوبارہ تلخ کلامی ہوئی کہ رات کے اس پہر لڑکی کو کیوں بلایا گیا ہے؟ شدید تلخی اور سخت جملوں کے تبادلوں کے بعد لڑکی اپنی والدہ اور رشتے دار کے ہمراہ گھر چلی گئی۔اس لڑائی جھگڑے کا نتیجہ یہ نکلا کہ موصوف آج پہلی بار 2 دو بجے گھر روانہ ہوگئے۔وزیراعلی کو چاہیے کہ اس صورتحال کا نوٹس لیں اور پوچھیں کہ کس قانون کے تحت صرف خواتین کو رات گئے کیوں بلایا جاتا رہا؟ایل ڈی اے کے سربراہان نے اس افسر کے اس رویے پر کیا ایکشن لیا ہے؟
@MaryamNSharif
میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں
(ہم نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر
میزائیل مارنے کی مذمت کی )
اور بلا شبہہ ہر مسلمان کا دل اسپر
غمگین ہوا
لیکن اس مذمت پر خود کو مسلمان
کہلانے والے بعض لوگ ہمیں گالیاں دیتے ہیں
اسمیں گالیاں دینے والی تو کوئی بات نہیں تھی
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی صوبے میں دہشت گردی سے مکمل لاتعلقی اور مجرمانہ بے حسی جاری ...بس بہت ہوگیا!!!
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نام نہاد ناکام سیاسی لانگ مارچ کے لیے سڑکوں پر گھوم رہی ہے جب کہ ان کے سہولت کاروں نے اِسی دوران KPK کے لوگوں کے خلاف ایک تازہ دہشت گردی کی لہر شروع کر دی ہے۔ 6 اکتوبر کو ڈی آئی خان میں دہشت گردوں نے ایک بار پھر 5 بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ہلاک ہونے والے ان 5 میں سے دو کسٹم اہلکار تھے
اس سنجیدہ معاملے سے مکمل طور پر بے حس، مکمل صوبائی کابینہ، وزیر اعلیٰ سمیت، اپنے سیاسی ناکام لانگ مارچ میں پوری طرح مشغول ہے
ان بے حس اور بے شرم لوگوں نے ہمیشہ کی طرح ڈی آئی خان میں ان پانچ افراد کے بے گناہ قتل کی بھی پہلے کی طرح کوئی مذمت نہیں کی، سوگوار خاندانوں سے کوئی تعزیت نہیں کی، ان کے جنازے نہیں میں پڑھے یا کم از کم دیکھانے کی حد تک ہی صحیح ان کے گھروں تک جا کر افسوس نہیں کیا۔ یہ کسی بھی اعتبار سے نا قابل معافی ہے
بدقسمتی سے، اس کے برعکس، وزیراعلیٰ نے رات گئے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کے پی کے کو اپنی پارٹی کے کہنے پر گورنر کی سیکیورٹی میٹنگ میں شرکت پر آج سرزنش کرنے کے لئے اجلاس بلا رکھا ہے
ایک صوبہ جو دہشت گردی کی زد میں ہے اس کے وزیر اعلیٰ اور اسکی کابینہ نے صوبے کی عوام کو پوری طرح دہشت گردوں کے رحم پر چھوڑ دیا ہے۔ اسی لیے کے پی کے کے عوام مختلف علاقوں میں صوبائی حکومت کے خلاف پر سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں
یہ مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ کے پی کے کے لوگوں کا کافی خون بہایا جا چکا ہے، اس حکومت کی دہشت گردوں سے مکمل ملی بھگت اور اس کے سہولت کار ایکو سسٹم کی کافی مثالیں اور شواہد موجود ہیں۔ جو ہر پاکستانی پچھلے تین سالوں میں اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ چکے ہیں
ماضی میں نواز شریف اور اسکا پورا خاندان اور PMLN کی قیادت pti کے دور میں قید رہی۔وقت نے ثابت کیا کہ الزام بس الزام تھے۔ عمران خان کی فرمائش قید کیا جاتا تھا۔ مگرPMLN نے اپنے پارلیمنٹ اپنے رول کو آئین ذمہ داری سے نبھایا ۔ ملک اور اداروں یرغمال نہ بنایا۔ عدالتوں اور پارلیمنٹ میں قانونی اور آئینی جنگ لڑی۔ طالبان کے اتحادی نہ بنے ۔
اہم فیصلے کرنے کا وقت آ چکا ہے KPK کو مزید نا اہل، بے حس حکمران و طالبان کے اتحادیوں کے رحم او کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا. ۔ ملک کی وحدت کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ ایک پورے صوبے کو یرغمال نہیں جاسکتا۔ enough is enough
اس اخروٹ نے مئی کی جنگ میں کہا تھا، کہ یہ پنجابیوں کی جنگ ہے پنجابی لڑیں، پھر پنجابی نہ روئے نہ بھاگے، بلکہ فوج کے شانہ بشانہ لڑے، اور ڈٹ کے لڑے۔ اور اب جب دشمن ملک افغانستان نے حملہ کیا ہے تو ان کا فرض تو یہی تھا کہ یہ بھی اپی جعلی جھوٹی پانچ ہزار سالہ تاریخ اور انگریز کی کتابوں میں دی گئی نام نہاد بہادری لے کر فوج کے ہمراہ دشمن کے ساتھ لڑتے، لیکن یہ حرام خور محافظوں پر جھپٹ پڑے۔ اپنی جنگ لڑو ناں، تمہارا پنجابیوں سے زیادہ نقصان تو نہیں ہو جو ہمارا سنتالی میں ہوا تھا، ہمارے تب دس لاکھ افراد شہید ہوئے تھے اور تمہارے ڈاکو اباو اجداد ان لٹے ہوئے پنجابیوں کی مزید لوٹ مار کرنے پہاڑوں سے اترے تھے۔ لڑتے موت پڑتی ہے؟؟ دوکمرے کا مکان دو ہزار ڈالر میں القاٰٰعدہ کو کرائے پر دینے اور ان کے ساتھ ہزار ہزار ڈالر میں بیٹیاں بیاہنے والے ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ میں خودکش حملے کے لئے بچے دینے والے اب دوسروں کو اپنے ڈالر پکڑنے کا طعنہ دیں گے تو برا تو لگے گا۔ پٹنے والا پشتون، مرنے والا پشتون، ڈالر پکڑنے والا پشتون، ہم کہاں سے آ گئے تمہارے گند میں؟؟؟؟