ابھی زیادہ دن نہی گزرے جب نون لیگ اس کا سارا سوشل میڈیا مولانا کو شدید ترین گالیاں دے رہے تھے ان کو اقتدار کا لالچی اور ٹرین مس ہو جانے کا کہہ رہے تھے تو آج یہ مولانا کے گھر کیا کرنے گئے تھے ؟
لاہور کور کی کمان نئے ہاتھوں میں
پاک فوج میں اہم تقرری، حال ہی میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والے لیفٹیننٹ جنرل محمد عمر بشیر کو کمانڈر IV کور لاہور تعینات کر دیا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل محمد عمر بشیر 86ویں پی ایم اے لانگ کورس سے تعلق رکھتے ہیں اور نئی ذمہ داری سے قبل جی ایچ کیو میں وائس چیف آف جنرل اسٹاف-براوو (VCGS-B) کے اہم عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
وہ کون ہے جس نے یا جس کے حکم پر مبینہ طور پر پاکستان کے کرکٹ کے کھلاڑیوں کو مسجد جانے سے روکا گیا۔ محمد رضوان روکے جانے کے باوجود نماز پڑھنے گئے تو کیا یہ جرم ہو گیا؟ اس سوال کا جواب معلوم کرنا وزیراعظم @CMShehbaz کی ذمہ داری ہے۔
پاکستان کی یہ حالت کرنے والے کہ وہ اب ایران کی مثالیں دے کر پاکستان کی ترقی کا تعین کر رہے ہیں، خود اس ملک کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔۔۔
جو کمپنی اس جیسے نمونوں کو قوم پر مسلط کرتی آ رہی ہیں، وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرکے یہ غیرجمہوری نمونوں کو مسلط کرنے والا کارخانہ بند کرے، ملک کے مالک نہ بنیں اور اپنے آئینی حدود تک محدود رہے۔۔ پاکستان ان شاء اللہ ایران کے باپ امریکہ کے مقابلے پر آئے گا
رضوان پر بھینس چوری کا ہی الزام لگا دیتے!!
انصار عباسی
آج کا جنگ اخبار ادارتی صفحہ 24 ستمبر ، 2026
ویسے اس سے بہتر تھا کہ کرکٹر محمد رضوان پر بھینس چوری کا مقدمہ قائم کر لیتے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ جوئے کے پیسے ٹھکرانے والے رضوان کو تو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے جبکہ جوئے کی کھلے عام تشہیر کرنیوالے کو شکایات کے باوجود پوچھنا تو درکنار نوازا جا رہا ہے۔ یہ کیسا سسٹم ہے کہ جس کا چہرہ پسند نہیں اُسےتضحیک کا نشانہ بناو اور جو جوئے کی کمپنیوں کی تشہیر کرے اُسے ہیرو بنا کر پیش کرو۔ اگر کوئی نماز کیلئے مسجد جاتا ہے تو اُسے روکو اور اگر کوئی سینما جائے، شاپنگ کرے یا کلب جائے تو اُس پر کوئی اعتراض نہیں۔ پاکستان کرکٹ میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اگر کسی کھلاڑی، عہدیدار، کمپنی، فرنچائز یا تجارتی ادارے نے قانون یا ضابطے کی خلاف ورزی کی ہے تو اسے جواب دینا چاہیے اور قانون کی اصل روح کے مطابق اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو۔ محمد رضوان کے معاملے نے بنیادی سوال اٹھایا ہے۔ اگر تحقیقات پاکستان کرکٹ میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے کے پورے نظام سے متعلق ہیں تو سوال صرف رضوان سے کیوں؟ پورے نظام سے کیوں نہیں؟ رضوان سے پوچھ گچھ ہو، فون کی تلاشی ضروری ہو تو قانون کے مطابق کی جائے، مالی معاملات کی تحقیقات ہوں اور ضابطے کی خلاف ورزی ثابت ہو تو کارروائی کی جائے۔ لیکن پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ الزام کیا ہے۔ گزشتہ دنوں اس کے گرد ڈسپلن، ڈریسنگ روم کی معلومات باہر آنے، بیٹنگ، مالی معاملات اور میچ فکسنگ جیسے مختلف الزامات گردش کر رہے ہیں۔ این سی سی آئی اے کے نوٹس میں بھی پاکستان کرکٹ میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے کی انکوائری کا ذکر ہے۔ ایسے ماحول میں الزام، افواہ اور ثابت شدہ جرم کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جس رضوان سے آج بیٹنگ اور جوئے کے حوالے سے سوالات کیے جا رہے ہیں، اسی نے ماضی میں جوئے سے وابستہ اشتہارات سے فاصلہ اختیار کیا تھا۔ دستیاب معلومات کے مطابق 2023 میں اس نے تقریباً دس کروڑ روپے کی ایک اشتہاری پیشکش مسترد کی۔ اس کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ وہ مذہبی وجوہ کی بنا پر جوئے یا اس کے متبادل ناموں سے چلنے والے برانڈز کی تشہیر نہیں کرتا۔ رضوان کے بیرون ملک معاہدوں میں بھی ایسی شرائط شامل کرانے کی کوشش کی گئی کہ شراب، جوا، بیٹنگ، کیسینو یا ان سے وابستہ کمپنیوں کی تشہیر اس کی کٹ، لباس یا تشہیری مواد پر نہ ہو۔ حتیٰ کہ ایسے اسپانسرز کی رقم اسکے معاوضے کا حصہ نہ بننے کی شرط بھی رکھی گئی۔ یعنی مؤقف صرف یہ نہیں تھا کہ ’’میرا چہرہ استعمال نہ کرو‘‘ بلکہ یہ بھی تھا کہ ’’ایسا پیسہ میرے معاوضے میں شامل نہ ہو‘‘۔ یہ پس منظر موجودہ تحقیقات کو مزید اہم بناتا ہے، مگر ساتھ ہی وسیع تر سوال بھی اٹھاتا ہے۔ اگر کارروائی واقعی جامع ہے تو صرف ایک کھلاڑی کا موبائل فون، مالی معاملات یا ذاتی سرگرمیاں کیوں زیرِ بحث ہیں؟ ان کمپنیوں، فرنچائزز، اسپانسرز اور اداروں سے بھی پوچھا جانا چاہیے جنکے ذریعے ایسے برانڈز کرکٹ کے میدان، شرٹس، نشریات اور اشتہارات تک پہنچے۔ معاہدے کس نے کیے، منظوری کس نے دی اور جانچ کس نے کی؟ پاکستان سپر لیگ اور پاکستان کرکٹ میں بیٹنگ سے منسلک برانڈز اور بعض اسپانسرشپ معاملات پہلے بھی سوالات کا باعث بنتے رہے ہیں۔ کسی کمپنی کو محض تعلق کی بنیاد پر مجرم قرار دینا درست نہیں، لیکن اگر انکوائری کا موضوع ہی بیٹنگ اور جوا ہے تو اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ناگزیر ہے۔ اسی تناظر میں ایک سابق کرکٹر کا معاملہ بھی وضاحت طلب ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق ایک بیٹنگ پلیٹ فارم سے بطور برانڈ ایمبیسیڈر اُس کا نام منسلک ہوا، جسکے بعد 2025 میں لاہور میں این سی سی آئی اے سے شکایت کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ اس شکایت کا کیا نتیجہ نکلا؟ کیا اُس سے پوچھ گچھ ہوئی؟ اگر تحقیقات ہوئیں تو انکے نتائج کیا تھے؟ اور اگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو کیوں؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ بعد ازاں اُسی سابق کھلاڑی کو نوازا گیا۔ اداروں کو اس بظاہر تضاد کی وضاحت کرنی چاہیے۔ رضوان کے موبائل فون کا معاملہ بھی شفاف قانونی طریقۂ کار کا تقاضا کرتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق لارڈز ٹیسٹ کے بعد رات گئے اس سے بیٹنگ اور جوئے سے متعلق سوالات کیے گئے اور ذاتی فون طلب کیا گیا۔ رضوان نے الزام، اختیار اور فون لینے کی قانونی بنیاد کے بارے میں سوالات کیے، مگر تعاون کی یقین دہانی پر فون دے دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ فون این سی سی آئی اے کے پاس پہنچ چکا ہے اور اس کا فرانزک معائنہ بھی کیا گیا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ رضوان کو تحقیقات میں تعاون کرنا چاہیے تھا یا نہیں؛ یقیناً کرنا چاہیے تھا۔ سوال یہ ہے کہ فون قبضے میں لینے کی تحریری بنیاد کیا تھی؟ طلبی کہاں تھی؟ وجہ کیا درج کی گئی؟ رسید کہاں ہے؟ +
محمد رضوان کے حق میں ایک اور گواہی۔ اسلامی سکالر محمد نعیم صاحب کے مطابق اُنہوں نے پہلے ہی محمد رضوان کو تنبیہ کر دی تھی کہ جوئے کے خلاف کھڑا ہونے پر جوا مافیہ تمھارے پیچھے پڑ جائے گا۔
ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر محمد رضوان کو مسجد میں نماز پڑھنے سے روکنے کے گواہ کچھ کرکٹرز موجود تھے جو روکنے پر رک گئے لیکن رضوان نماز پڑھنے کے لیے مسجد چلے گئے۔ اگر یہ سچ ہے تو وزیراعظم اس معاملہ کی انکوائری کروائیں۔ کون ہے جو کھلاڑیوں کو نماز کے لیے مسجد جانے سے بھی روکتا ہے؟؟
"سندھ اسمبلی سیدوں سے بھری ہے، مگر نکاح پر پابندی اور 18 سال کی عمر میں کلمہ پڑھنے پر قدغن! زنا بالجبر نہیں، زنا بالرضا کی اجازت؟
راشد محمود سومرو کا بڑا سوال ؟؟
صوبوں پر پیپلزپارٹی بات تو کرتی ہے مگر سندھ کی حد تک، وفاقی حکومت مسلم لیگ کی ہے مگر وہ خاموش ہے، اتنا بڑا قومی مسئلہ “کاکے” (محسن نقوی)کے حوالے کیا ہے،اس کی حیثیت ذاتی ملازم سے زیادہ نہیں ہے، مولانا فضل الرحمان
ملکی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک کو سیاسی لحاظ سے کمزور کیا گیا جس سے فوج کو مارشل لا لگانے کے مواقع ملے۔
قیام پاکستان کے ٹھیک گیارہ سال بعد سن 1958 میں فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے مارشل لا لگایا اور دس سال تک وہ حکمران رہے،یہ ملک نظریاتی،سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے کمزور ہوا
ہم نے پاکستان کا پانی بیچا، تین دریاؤں کو ہم نے ہندوستان کے حوالے کردیا، اور آج بھی ہم پانی کی مشکل سے نکل نہیں پا رہے ہیں،یہ ڈکٹیٹروں کے فیصلے ہوتے ہیں۔
بظاہر تو کہا جاتا ہے کہ سیاست دان ناکام ہوگئے، یہ تو کرپشن کرتے ہیں، لیکن جب سن 1958 میں مارشل لا لگیا گیا اور ٹھیک مارشل لا کے دو سال بعد پاکستان کے تین دریاؤں کو ہندوستان کو ہاتھ بیچا گیا اور آج بھی عالمی بینک کی ثالثی کے ہوتے ہوئے آپ وہ معاہدہ پڑھیں کہ اس میں پاکستان کے ہاتھ پاؤں باندھے گئے ہیں، ہندوستان کے ہاتھ پاؤں کھول دیے گئے ہیں۔
یہی کچھ سن 1949 کی سلامتی کونسل میں کشمیر کے مسئلے پر ہندوستان کے ہاتھ پاؤں کھول دیے گئے اور ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ لیے گئے۔ یہ بھی ڈکٹیٹر ہی کر سکتا ہے۔
پھر اس کے نتیجے میں ملک ٹوٹ گیا، بنگال ہم سے الگ ہو گیا۔ مغربی پاکستان اور بنگال کے بیچ میں سوائے اسلام کے ہمارے درمیان کوئی قدرِ مشترک نہ تھی۔ ان کی تہذیب مختلف، ہماری تہذیب مختلف، ان کا بودوباش مختلف، ہمارا بودوباش مختلف، ہمارے طور طریقے اور ان کے طور طریقےاور۔
اور اگر کوئی چیز قدرِ مشترک تھی ان کے اور ہمارے درمیان تو اسلام کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی، اور جب اسلام کو راستہ نہیں دیا گیا تو پھر اس ملک کے دو حصوں کو یک جان نہیں رکھا جا سکا۔
تم جتنے مرضی چینلز بنا لو تم جتنے مرضی ان چینلز پہ کرائے کے لوگ بٹھا کر کردار کشی کروالو گالیاں دلوادو دشنام طرازی کروالو تم جتنے مرضی غداری کے فتوے جاری کروالو مولانا فضل الرحمن تمھارا حقیقی آمرانہ، آئین کو پاؤں تلے روندنے والا پارلیمنٹ کو لونڈی بنانے والا کرپٹ سےسیاستدانوں کو تحفظ دینے والا کالا چہرہ عوام کو دکھاتا رھے گا اور اسکا سرفروش کارکن اسکا اسی طرح دفاع کرتے ھوئے تمھارے اور تمھارے کرایہ داروں کے سینے پر مونگ دلتا رھے گا ان شاءاللہ
#حقیقی_رہنماء_مولانا
#ادارہ_یا_پروپیگنڈا_سیل
#کالے_چینلز_فلاپ
#پیڈ_چمچے
#بیوٹی_پالر_برگیڈ
آج افسوس ہو رہا ہے کہ اس ن لیگ کو ووٹ دینے کے لئے مجھ جیسا مزدور 175000 کا ٹکٹ خرید کر پاکستان آیا تھا جس کا نعرہ تھا "ووٹ کو عزت دو" مگر جس بندے کو کشمیر کی عوام نے ریجیکٹ کردیا اُسے وزیر اعظم بنا رہے ہیں۔
نواز شریف صاحب اگر تھوڑی سی بھی شرم ہوئی تو آئندہ ووٹ کی عزت نا مانگنا۔
قرضوں میں ڈوبے بھیک مانگتے ملک کے سپیکر صاحب پودا لگانے پارلیمان سے باہر تشریف لا رہے زرا تیاری چیک کریں
ابھی امریکہ سے دس ارب ڈالر مانگا ہے جو انہیں کاموں پر اڑانا ہے
آپ کو یورپ امریکہ کے سربراہ تک ایسا پروٹوکول لیتے نظر نہی آییں گے