PIMS hospital nursery burned 15 babies lost their lives silence from the Health Minister Is this your healthcare????
@kamalMQM#MustafaKamal#PIMS#پمزواقعہ
سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزا کا فیصلہ پوری قوم کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔جب فیصلے عدل و انصاف کی بجائے پسند و ناپسند کی بنیاد پر ہونے لگیں تو معاشرے میں آئین اور قانون اپنی حیثیت کھو بیٹھتے ہیں،اور لاقانونیت راج کرتی ہے۔
#عمران_خان_پر_ظلم_نامنظور
قاضی اعلیٰ کی حلال قانونی خلاف ورزیاں!!
خبر یہ ہے کہ کاشف اور اسماعیل نامی ملزم ، عمران نامی شخص کے گھر سے کلاشنکوف چوری کے مقدمے میں گرفتار ہیں، سپریم کورٹ نے ملزمان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
#ECP#Elections2024
میں شہر بانو حلفا یہ وعدہ کرتی ہوں کہ الیکشن کے دن می��ا خاندان پی ٹی آئی کو ووٹ دے گا ۔۔پی ٹی آئی کے کسی نمائندے کو میرے گھر آ کر منتیں کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔یہ میرا فرض ہے کہ میں اپنےارد گرد کے لوگوں کو پولنگ سٹیشن پہنچا ؤں
#جان_رب_کی_ووٹ_خان_کا
#WrongNumberMirza
ریکارڈ درست کر لیں
عمران خان کوئی ریلیف ڈیمانڈ نہیں کر رہے
تحریک انصاف اور عمران خان صرف اور صرف انصاف کی ڈیمانڈ کرتے ہیں
عمران خان جس قسم کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں قوم کو سب معلوم ہے کہ کیوں خفیہ کیس چلانا پڑ رہا ہے
ایک ثابت شدہ کرپٹ شخص موازنہ کرنا ہی بددیانتی ہے
حضرت امام حسین علیہ السلام کی قربانی ہم کو یہ جانتے ہوئے بھی دشمن بڑا ہے ہماری جان بھی جا سکتی حق کی خاطر ڈٹ جانے کا نہ جھکنے کا درس دیتی ہے
#عمران_نہیں_جھکے_گا
۱۴ مئ ۲۰۲۳-
عمران خان کی حکومت کے خاتمے سے قبل مارچ ۲۰۲۲ میں ہم نے پبلک موبلائزیشن شروع کی۔ جیسے کسی بھی جمہوری معاشرے میں ہوتا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں عوام اکھٹے ہوئے۔ جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ ایک پتہ نہ ٹوٹا۔
عدم اعتما�� ہوا، ۱۰ اپریل کی شام بغیر لیڈرشپ کے ملک بھر میں عوام نکلے۔ قومی ترانے کی اجتماعی گونج کراچی سے خیبر تک اٹھی۔ ایک پتھر نہ برسا۔
۲۵ مئی ۲۰۲۲ کو لانگ مارچ کی اناؤنسمنٹ ہوئی۔ لوگوں کے گھروں پر بغیر وارنٹ پولیس دروازے توڑ کر داخل ہوئی۔ بزرگوں کو زدوکوب کیا، باپ نہ ملا تو بچوں کو اٹھا کر لے گئے۔ چادر و چاردیواری کی پامالی ہوئی۔ ہمارے کارکنان کو شہید کیا گیا۔ عمران خان نے کارکنان کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا۔ کارکن تلملائے۔ لیکن سب سہہ کر بھی پیچھے ہٹ گئے۔ تمہارا بھرم نہ توڑا۔
۱۷ جولائ آیا۔ پنجاب میں جو ظلم و ستم کا بازار گرم ہوا سب نے دیکھا۔ کارکنوں نے جانفشانی سے نظر مقصد پر رکھی۔ لاٹھی سہی، گولی کھائ۔ جواب دیا تو ایک؛ اپنا ووٹ۔
عوام نے تمہاری ساری سازشوں کو شکست فاش کی، مگر نہ کوئ طعنہ، نہ دشنام، زباں کا قفل نہ توڑا۔ اس کے بعد بھی روز روز کا تماشہ جاری رہا۔ نہ تمہارا جبر کم ہوا نہ ہمارا صبر ٹوٹا۔
ارشد شریف کو قتل کیا۔ سات لاکھ لوگ شریک ہوئے اس کے جنازے میں۔ انقلاب کا نعرہ لگا۔ لیکن لوگوں نے اپنے شہید کی حرمت رکھی۔ اس کا نام نہ داغدار ہونے دیا حالانکہ گھٹیا ترین بیانیہ گڑ کر قوم کے جذبات کو بہت بھڑکایا گیا۔ خون کے گھونٹ پیے صبر کیا۔
پھر ۴ نومبر آیا۔ عمران خان پر گولیاں چلیں۔ تم نے تو اپنی طرف سے مار ڈالا تھا نا؟ قوم سڑکوں پر آئ۔ دنوں تک احتجاج کیا۔ آسماں سے شکوہ کیا تمہارا پردہ رکھا کیونکہ اسی عمران خان نے سکھایا تھا کہ یہ ملک ہمارا ہے! اس کے املاک ہمارے ہیں۔ ہم اس کے والی وارث ہیں۔ اور وارث اپنے اثاثوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
قصہ مختصر کیا ہو ظلم کی طویل داستان ہے۔ جس کا مقابلہ حسین (رضی اللہ) کی قربانی سے سبق سیکھ کر ثابت قدمی سے کیا۔ حق پر ڈٹے رہے مگر صبر کا دامن نہ چھوڑا۔
تم نے عمران خان کے گھر پر حملہ کیا۔ ۳۶ گھنٹے اپنے شہریوں پر گولی، شیلنگ، کیمیکل بھرے واٹر کینن کیا کیا نا کیا۔ قوم کا بھرم ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ کسی نے پلٹ کر نہیں کہا “اینٹ سے اینٹ” بجا دینگے۔ تربیت ہی نہیں ہوئ ایسی۔
لیکن تم پھر آئے۔ تم نے پھر اس پر حملہ کیا۔ تم نے پھر اس کو جان سے مارنے کی کوشش کی۔ لاکھوں لوگوں کی ہمراہی تھی اس دن جو سر پر کفن باندھے ہوئے تھے۔ چاہتے تو نہ خود رہتے نہ تمہارا نشاں رہنے دیتے۔ مگر تم دشمن تھوڑی تھے۔ نالی سینے پر رکھی تھی مگر گھوڑا دبانے والا ہاتھ اپنا تھا۔ چاہتے بھی تو گوارا نہ تھا کہ توڑ دیتے۔ “ملک بھی میرا، لوگ بھی میرے”۔ لیکن تم نے تو کچھ نہ دیکھا۔ اکیلی نہتی عورت کے گھر ہوتے حملہ کردیا؟ بچوں کی نشانیوں کو قدموں تلے روند دیا۔ منگول بن کر گھس آئے۔۔ ہم نے کیا کیا جواباً؟ وہی جو ہمیں سکھایا گیا۔ صبر اور استقامت۔ صبر اور استقامت۔ صبر اور استقامت۔
پھر تم آئے سارے پردے چاک کرکے۔ رہے سہے بھرم خاک کرکے۔ تم نے اس گریباں پر ہاتھ ڈالا جس نے تمہارے زخم اپنے سینے پر کھائے۔ تم نے اس سر پر ڈنڈے برسائے جس نے دنیا میں تمہارا سر فخر سے بلند کیا۔ تم نے اس شخص کو ذلیل کرنے کی غرض سے گھسیٹا جس نے تمہاری خوداری کے لیے دنیا سے دشمنی مول لی۔
میں قصور وار ہوں اگر اس کی قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا؟
میں قصوروار ہوں اگر تم نے اس ملک سے چادر اور چاردیواری کی حرمت کی ریت مٹا ڈالی؟
میں قصوروار ہوں اگر تم ان لوگوں کو اس حد تک لے آئے کہ وہ ماتھے پر گولی کھانے کوتیار ہ��ں لیکن اس کلنک کو جھومر بنانے کو نہیں جن کو تم نے ان کے اجتماعی شعور کی توہین کرتے ہوئے ان کا مختار بنا ڈالا؟
گواہیاں بہت ہیں۔ شہادتیں بہت ہیں۔ سب جانتے ہیں کس کا کیا کردار رہا۔ مگر میں تمہیں کس بات کی صفائ دوں؟
میرے قاتل میرے دلدار! میں تمہیں کس بھرم کی بنیاد پر اپنی حب الوطنی کی گواہی دوں؟
مسجدِ نبوی میں واقعہ ہوا کوسوں دور توہینِ مذہب کا مقدمہ مجھ پر ہوا۔
عمران خان کا ساتھ دیا، بغاوت کا مقدمہ مجھ پر ہوا۔
ارشد شریف کے قاتلوں کیطرف رہنمائی کی، غداری کا مقدمہ مجھ پر ہوا۔
امن کی بات کی دہشتگردی کا مقدمہ مجھ پر ہوا۔
عمران خان کو تم نے غیر قانونی اغوا کیا، شرپسندوں سے تم نے سرکاری تنصیبات جلوائیں، آرمی ایکٹ مجھ پر لگانا ہے؟
صاف کہو یہ سر چاہئیے، بہانے کیوں ڈھونڈتے ہو؟ تم ہی تم قادرِمطلق ہو، جو چاہے کرو!
ٹرائبیون کی رپورٹ کے مطابق اسحاق ڈار بیرونی ادائیگیوں کے حساب کتاب میں 4.5 ارب ڈالر کی اور اندرونی ادائیگیوں کے لئے ایک کھرب روپے کی دو نمبری کر گئے ہیں جو کہ پکڑے جانے سے پہلا ریویو ہی مشکل میں پڑ سکتا ہے
ماضی میں بھی IMF نے انکی ہیرا پھیری پکڑ لی تھی جسے ٹائپو ایرر کہہ کر جان چھڑائی گئی تھی
یہ وہ عظیم معاشی ماہر تھا جس کو اشتہاری ہونے کے باوجود سرکاری پروٹوکول میں ملک لایا گیا تھا
اور بہت سے صحافیوں دس ارب خور میڈیا نے زمین آسمان کے قلابے ملائے تھے