یہ ویڈیو پھیلائیں 🚨
اس وقت عالمی میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی ایجینسیاں پی ٹی ائی کے لوگوں پر تشدد کرتی ہیں،ان سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جاتی ہے انکو اغواء کیا جاتا یے،مینڈیٹ چھینا جاتا ہے
My mother, @Aleema_KhanPK Aleema Khan’s 30-day detention period under the colonial-era Maintenance of Public Order (MPO) law has now expired.
Yet, despite the expiry of her 30-day detention period, we have received no further order from the Lahore High Court, nor any official communication from the Punjab Home Department or jail authorities explaining the legal basis for her continued detention or confirming her release.
On what legal grounds is she still being held? Why has she not been released?
Since the day she was abducted and subsequently detained under the MPO, she has been denied access to both her family and legal counsel. One of the strongest voices advocating for her brother, Imran Khan @ImranKhanPTI, has also been silenced.
Thirty days have passed. No family access. No legal access. No justice.
Are the authorities preparing to extend her detention for another 30 days? If so, on what grounds?
We demand her immediate release.
Not another day of silence, obstruction of justice, or denial of her most basic rights is acceptable.
#imrankhan
عاصم منیر سے سوال پوچھو۔ کیوں ظلم کرتے ہو۔ کیوں ملک برباد کرتے ہو۔ کیوں گولی چلاتے ہو۔ کیوں آئین توڑتے ہو۔ وہ کہتا ہے خبردار سوال پوچھا۔ تم غدار ہو Raw کے لئے کام کرتے ہو۔ یا کہتا ہے ملک نازک موڑ سے گزر رہا ہے یہ وقت نہیں سوال کا۔ خاموش ہو جاؤ۔
اور اگر کسی سیاسی بندے سے سوال پوچھ لو۔ اس کا دھڑا /گروپ کہتا ہے۔ او ہو آپ نے غداری کر دی۔ آپ کو نہی پتہ نازک وقت ہے اس وقت پر یہ سوال نہیں پوچھنا۔
سوال پوچھنے پر میرا بھائی ارشد شریف شہید کر دیا گیا۔
سوال پوچھ لو۔ تو سبھی آگے سے عاصم منیر بن جاتے ہیں۔ سوال کا جواب نہیں بلکہ باغی غدار ایجنٹ یہ والے لقب ملتے ہیں۔
جب تک آپ سوال نہیں پوچھیں گے۔ کیا ہوا۔ کیوں ہوا۔ کیسے ہوا۔ یہاں تک کیسے پہنچے۔ کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔
مثال کے طور پر آج جنرلز Kp کی معدنیات لوٹنے کے لئے وہاں ہر ظلم کر رہا ہے۔ کل خدا ناخواستہ Kp بلوچستان بن گیا اور کسی نے سوال پوچھا کہ یہ آپ نے کیا کر دیا۔ تو جنرلز نے جواب نہیں دینا۔ بلکہ سیدھا غدار کہنا ہے۔ جنرلز جو آج کر رہے ہیں اس کا عذاب پوری قوم کو بھگتنا ہے۔
عاصم منیر نے خان اور اس کے سارے خاندان پر ظلم کے پہاڑ توڑ دہیے۔ خان ہمیں بہت کچھ کہتا رہا۔ پچھلے پونے تین سالوں میں ہم نے خان کے بات نہیں مانی۔ الٹ کیا۔ ہم نے جو خان کے ساتھ کیا ہے اس پر سوال پوچھو تو ردعمل وہی جنرلز والا۔ سوال مت پوچھو۔ نازک موڑ ہے۔ غدار ہو۔
آئندہ پوچھ لیا کریں گے بھائی بتا دینا۔ جب نازک موڑ اگر موڑ گیا۔ ختم ہو گیا۔ تو ہم نے سوال پوچھنا ہے۔
بار سکیم سواتی سہیل آفریدی جنید اکبر احسان طور غائب ہیں۔ اغواہ ہیں۔ گرفتار ہیں۔
کدھر ہے ہمارا KP میں ILF وکلا۔ لیبر ونگ۔ کیا ہر روز انکے غائب کئیے جانے پر ایک ایک پریس کانفرنس۔ یا والک نہیں ہو سکتی۔ وکلا بھی غائب۔
ظالمو کوئی چھوٹا موٹا چراغ تو جلاؤ۔
پنجاب کے 100 MPA. کیا ایک پریس کانفرنس؟
ایم این اے۔ سینیٹر۔ ایک والک سپریم کورٹ تک ؟
کوئی رہ تو نہیں گیا۔ ؟
National & Provincial assemblies have been dissolved or Governor’s rule imposed in the past but never ever the speaker was arrested. This time Speaker KP Assembly not only arrested but whereabouts still not known. This is the worse even by extremely low Pakistani standards.
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی حراست اور ان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ ان کے حفاظتی تحویل میں ہونے کی اطلاعات اور بازیابی کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہونے کے بعد حکومت کی ذمہ داری ہے کہ صورتحال پوری طرح واضح کرے۔
کونسل حکومت اور متعلقہ حکام سے سوال کرتی ہے: سہیل آفریدی اس وقت کہاں ہیں، کس ادارے کی تحویل میں ہیں اور انہیں کس قانونی بنیاد پر رکھا گیا ہے؟ اگر وہ زیرِ حراست ہیں تو انہیں عدالت کے سامنے پیش کیوں نہیں کیا جا رہا؟ ان کی سلامتی، اہلخانہ سے رابطے اور وکیل تک رسائی کے بارے میں واضح معلومات کیوں فراہم نہیں کی جا رہیں؟
کسی صوبے کے سابق وزیراعلیٰ کی موجودگی اور قانونی حیثیت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر سنگین تشویش پیدا کر سکتی ہے۔ جب ایک نمایاں عوامی نمائندے کے حوالے سے ایسے سوالات جواب طلب ہوں تو عام شہری اپنے تحفظ کے بارے میں کیا اطمینان رکھے؟
’’حفاظتی تحویل‘‘ کی اصطلاح عدالتی نگرانی، شفافیت اور جواب دہی کی ضرورت ختم نہیں کرتی۔ سیاسی اختلاف کسی بھی شخص کو بنیادی حقوق سے محروم کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ سہیل آفریدی کی موجودگی، صحت اور حراست کی قانونی بنیاد فوری طور پر واضح کی جائے، انہیں بلا تاخیر مجاز عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور اہلخانہ و وکلا سے ملاقات یقینی بنائی جائے۔ اگر ان کی حراست کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں تو انہیں فوری رہا کیا جائے۔
عوام کو خاموشی نہیں، واضح جواب چاہیے۔ ہر شہری کی آزادی، عزت اور سلامتی کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
ترجمان
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan)
#HRCPakistan #SohailAfridi #HumanRights #RuleOfLaw
پنجرے میں بند کیا ہوا تھا ایمان مزاری اور ہادی علی کو، ہمیں دور سے دیکھنے کی اجازت دی گئی، یہ کیا کُت خانہ مچایا ہوا ہے اس ملک میں، یہ کوئی ریاست ہے؟ شیریں مزاری
جو ذمہ داری عائشہ گلالئی کو دیگئی تھی ، وہی ذمہ داری اس بار مریم نواز اور عظمی بخاری کو دیگئی ہے ، لیکن فلم وہی ، اسکرپٹ وہی ، ہدایت کار وہی ، بس کردار اپڈیٹ ہوگئے، نئے فنکاروں اور اداکاروں کو مبارک ہو۔۔
ہم پر قاتلانہ حملے کس نے کیے؟ اسفندیار ولی خان کے گھر میں گھس کر قاتلانہ حملہ کس نے کیا؟ مولانا فضل الرحمٰن پر تین حملے ہوئے، تین حملے! آفتاب شیرپاؤ پر دو حملے ہوئے ؟ کیا یہ سہیل آفریدی تھا؟
آپ کس دہشت گردی کی بات کرتے ہیں؟ آپ دہشتگردوں کی ماں ہے۔
ہمارے صوبے کے منتخب وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان اگر گرفتار ہیں تو حکومت انہیں فوری طور پر عدالتوں میں پیش کرے تاکہ وہ اپنی قانونی جنگ کا آغاز کر سکیں اور اپنے دفاع کا حق استعمال کر سکیں۔ ان کی گرفتاری، مقامِ حراست اور قانونی حیثیت کے بارے میں فوری طور پر واضح معلومات فراہم کی جائیں۔ کسی بھی شہری کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر حراست میں رکھنا اور اسے اپنے دفاع کے حق سے محروم کرنا آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اسی طرح اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی، صوبائی وزراء اور پاکستان تحریک انصاف کے 2,000 سے زائد کارکنان کی گرفتاریوں اور انہیں تاحال عدالتوں میں پیش نہ کیے جانے کی اطلاعات بھی انتہائی تشویش ناک ہیں۔ حکومت تمام گرفتار افراد کو فوری طور پر متعلقہ عدالتوں میں پیش کرے، ان کے اہلِ خانہ کو ان کے بارے میں آگاہ کرے اور اگر ان کے خلاف کوئی الزام ہے تو اس کا فیصلہ شفاف عدالتی کارروائی کے ذریعے کیا جائے۔ افسوس کہ آئین و قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کے بجائے سیاسی اختلاف کو انتقامی کارروائیوں کا جواز بنایا جا رہا ہے۔ منتخب عوامی نمائندوں، صوبائی وزراء اور سیاسی کارکنوں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر کریک ڈاؤن کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر ہو کر گرفتار کرنا یا اسے قانونی حقوق سے محروم رکھنا قابلِ قبول نہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام گرفتار افراد کے بنیادی، آئینی اور قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور انہیں فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے۔
اسحاق ڈار اور محسن نقوی آن ریکارڈ کہ رہےتھے کہ سہیل آفریدی کو ہٹا دو تو KP میں ایمرجنسی نہیں لگائیں گے
اور دو سال مروت اور اس کی بکواس کو سپورٹ کرنےوالے ٹارزن یہ منجن بیچ رہے ہیں کہ
“سہیل آفریدی نے جان بوجھ کر حکومت ختم کروائی”
اس مروتی بریگیڈ کے مطابق ان کےعلاوہ ہر شخص غدار ہے
انہوں نے ہر اہم موقعے پر عاصم منیر اور اس کے ٹولے کی بجائے ظلم سہنے والے لوگوں پر ہی توپیں کھولی ہوتی ہیں
آپ نے عمران خان کے ساتھ جو باتیں کی ہیں، یا جہاں آپ کی بات اٹک گئی ہے، آپ خود اس کا تدارک نہیں کر سکتے۔
سیاسی شخصیات پر بھروسہ کریں۔ آپ نے عمران خان سے کیا گفتگو کی، کیا مطالبات رکھے اور انہوں نے کیا جواب دیا؟
ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم عمران خان سے ملاقات کریں گے، ان کی صحت کا جائزہ لیں گے، اور جہاں آپ کا معاملہ الجھ گیا تھا، اسے حل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
سچ کے علاوہ کسی اور بات سے یہ الجھاؤ پیدا نہیں ہوگا۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ عمران خان سے ملاقات کو صیغہ راز میں رکھیں گے۔
اگر عمران خان کی باتیں غلط ہوئیں، تو ہم سب کے سامنے واشگاف الفاظ میں کہیں گے کہ وہ غلط ہیں۔ اور اگر ان کی باتیں درست ہیں، تو کیا آپ انہیں طاقت کے زور پر دبانا چاہتے ہیں؟ کیا انہیں ختم کرنا مقصود ہے؟
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا قومی اسمبلی سے خطاب جو قومی اسمبلی نے سینسر کر دیا تھا.
The elected Chief Minister of a province being rendered a missing person brings me back to the first missing person of this country, our founding father, Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah.
He demoted a General, for merely having a political opinion, namely Ayub Khan, and posted him to the East Pakistan Rifles, barring him from any further promotion.
On 14 June 1948, the Quaid addressed the Quetta Staff College and said, and I quote, “Do not forget that the armed forces are the servants of the people.” He knew what they were up to and the harm they would do to his country.
It didn’t sit well with the armed forces. A month later, Quaid-e-Azam was abducted and taken to Ziarat against his will.
Ziarat has a 4,000-year-old history, yet in those 4,000 years, it received its first patient. There exists no sanatorium, no hospital, not even a dispensary, to this day. Even today, we cannot easily visit it. It is still kept primitive.
The Quaid was cut off from the world there, just as Imran Khan is today, and so is Sohail Afridi. He, too, was placed in “protective custody.” This nation never saw him again.
All of Pakistan’s problems will vanish the day we recover the first missing person, our Quaid, who was left to die, and the day the Generals accept their fate as servants of the people, bow their heads, and salute the civilian.
اس ملک مییں ہر مشہور بزدل اور ہارماننے والا کمپرومائزڈ شخص عمران خان سے یہی بغض رکھتا ہے کہ وہ ہار کیوں نہیں ماننا۔
خود کھڑے نہ ہو پائے اب خان کو طعنے دیتے ہیں کہ کھڑا ہونا بے وقوفی اور غیر سیاسی ہے۔
ایسے ہی لوگ ہر دور کے یزید کے سہولتکار بن جاتے ہیں
جناب اسپیکر! آج بھی یہاں آپ کے بہت سارے لوگ بیٹھے ہیں، اگر میں ان کے ہاتھ میں قرآن رکھوں تو وہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ آپ نے اسمبلیاں بیچی ہیں , اس حکومت نے اسمبلیاں خریدی ہیں۔ یہ حکومت اپنی مرضی کی ایک دہشت گرد حکومت لائی ہے۔
🚨🚨What a banana republic where family of an elected Chief executive of a province and speaker of a provincial assembly files petition for their recovery🚨🚨
https://t.co/b35TiBm6iJ