جو ظلم امریکا میں کو کلوکس کلان (Ku Klux Klan) نے سیاہ فاموں پر کیا : گھروں کو جلایا، قتل عام کیا، خاندانوں کو خوف میں جکڑ دیا, آج وہی ظلم اسرائیلی آبادکار فلسطینیوں پر کر رہے ہیں۔ نظریہ وہی ہے: برتری، نفرت، اور یہ گمان کہ زمین اور زندگی پر صرف ایک قوم یا مذہب کا حق ہے۔
کل فلسطینی کسان ایمن ابو علیا پر ترمس عیا میں اسی نسل پرستانہ دہشت نے حملہ کیا۔
وہ اپنے زیتون کے درختوں سے رزق کے لیے فصل کاٹنے گیا مگر تشدد کا شکار بن گیا۔
"مجھے آبادکاروں نے مارا پیٹا، میری گاڑی تباہ کر دی، اور جب میں اپنی زمین تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا تو اسرائیلی فوج نے مجھے ایک گھنٹے سے زیادہ حراست میں رکھا۔"
"فوج نے مجھے پکڑے رکھا، اور اسی دوران آبادکار مجھے مارتے رہے۔ میری انگلی ٹوٹ گئی، گاڑی اور زیتون کی فصل دونوں تباہ ہو گئیں۔"
پچھلے پندرہ برسوں سے وہ اسی زمین سے زیتون کاٹتا آ رہا ہے مگر اب فلسطین میں زیتون توڑنا بھی مزاحمت بن چکا ہے۔
جس طرح کو کلوکس کلان کو کبھی ریاستی خاموشی اور طاقت نے پناہ دی، آج وہی تحفظ اسرائیلی آبادکاروں کو حاصل ہے اسرائیل، امریکہ اور اسکے تمام تر حامیوں کی جانب سے۔
یہ تشدد وقتی نہیں بلکہ یہ ایک منظم نوآبادیاتی منصوبہ ہے، جسے عالمی خاموشی اور مغربی حمایت نے مضبوط بنایا ہے۔
دنیا نے ایک بار کہا تھا: " دوبارہ کبھی نہیں۔"
مگر یہ سب پھر ہو رہا ہے اور اسکے خلاف آواز اٹھاتے رہنا ہمارا دینی اور اخلاقی فرض!
پوسٹ رائٹر: @AyeshaA_Q
🚨 اسرائیلی قابض افواج کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی مزید خلاف ورزی
قابض افواج کا غزہ کے درجنوں رہائشی مقامات پر حملہ، مختلف نیوز زرائع کے مطابق نیتن یاہو نے غزہ جانے والی تمام تر انسانی امداد کا سامان، خوراک کی ترسیل کو مکمل بند کر دیا ہے!
📍 آج دوپہر 2:30 بجے اسلام آباد ایئرپورٹ پر سینیٹر مشتاق احمد خان کا پر زور استقبال کیا جائے گا۔ استقبال کیلئے آنے والی افراد سے درخواست ہے کہ وہ اپنے ساتھ صرف فلسطین اور پاکستان کے جھنڈے لے کر آئیں۔
کہاں جا کر سر پیٹیں!!
@wahaj_ahmadd
آپ بتائیں وزیراعظم کو کہ آپ فلوٹیلا کے ساتھ نہیں گئے تھے۔
@osamariaz77
ڈاکٹر اسامہ آپ بھی بتائیں کہ حکومت کی سپورٹ نہ ہونے سے فلوٹیلا کی کشتیاں خراب حالت میں تھیں، اسی باعث آپ، اسماعیل خان اور مولانا خطیب الرحمن کو واپس آنا پڑا۔
1/2
لاہور پریس کلب کے باہر پاکستانی عوام سینیٹر مشتاق کی رہائی اور فلسطین کے حق میں جھنڈے تھامے سڑکوں پر نکل آئے لاہور میں یہ اپنی ہی نوعیت کا ایک تاریخی احتجاج تھا جس میں ہزاروں لوگ پریس کلب کے باہر اگئے احتجاج کے دوران مظاہرین اسرائیل اور امریکہ کے پرچم کو نذرِ آتش کرنا چاہتے تھے مگر پنجاب پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کسی پرچم کو جلانے کی اجازت نہ دی جائے گی
بارہا رکاوٹیں کھڑی کی گئیں
حتیٰ کہ پولیس کی گاڑیاں ریلی کے درمیان ڈال دی گئیں تاکہ جلوس کو منتشر کیا جا سکے
مگر ان تمام حربوں کے باوجود عوام نے ضبط و صبر کا دامن تھامے رکھا اور کسی اشتعال میں نہ آئے
جہاں اُنہیں روکا گیا وہیں پر اذان دی گئی کلمۂ حق بلند کیا گیا اور اپنے مطالبات واضح الفاظ میں پیش کیے گئے آخرکار پرامن انداز میں اعلان کیا گیا کہ جب تک سینیٹر مشتاق آزاد نہیں ہو جاتے یہ احتجاج پوری قوت اور استقلال کے ساتھ جاری رہے گا
https://t.co/2tJFbG6ay9
In the first clip, Kashmiris are peacefully protesting outside the press club. In the second clip, the police suddenly launched a baton charge. I was there and had no idea where that order came from. Even if we accept for a moment that there’s propaganda in Kashmir, whose agenda was served by today’s actions against people in Islamabad demanding Kashmiri rights? For God’s sake, don’t play with fire.