مروت کا انگوٹھا چُوسُنے والے مروت زادے تجھے باپوں کی ضرورت پڑتی ہوگی میرے پاس تعلیم بھی ہے نظریہ بھی تیری طرح ڈبل ٹیپ کروا کر کمائی نہیں کرتا میں جتنے پیسے تُو ٹک ٹاک پر پھول مانگ کر کماتا ہے اُس سے تین گُنا زیادہ میں Ai Applications پر لگا دیتا ہوں بڑا ہوجا ڈھونگی فضولیات بکے گا تو تیری ڈھولکی ٹائیٹ ہوتی رہے گی
یہ کسی بھائی نے گرین بس والے عملے سے انٹرویو کرنے کی کوشش کی کہ کس طرح عورتوں کی تذلیل کی جا رہی ہے ۔اگر گاڑی سٹارٹ کھڑی ہے تو عورتوں کو اندر کیوں نہیں بٹھایا جا سکتا ۔
ہمارا 27 ستمبر کا لانگ مارچ ایک پُرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد ہے۔ پاکستان کے ہر شہری کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے بنیادی حقوق کے لیے پُرامن طور پر آواز بلند کرنے اور اجتماع کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہم اسی آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنی آواز عوام اور متعلقہ اداروں تک پہنچائیں گے۔
عوامی مینڈیٹ کو کچل کر ملک پر مسلط ہونے والے وفاقی وزراء کی جانب سے مسلسل دھمکی آمیز بیانات کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ اختلافِ رائے کو دبانے یا شہریوں کو خوفزدہ کرنے کے بجائے فارم 47 حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی مطالبات سنے، آئینی حقوق کا احترام کرے اور سیاسی معاملات کا حل مکالمے، قانون اور جمہوری عمل کے ذریعے تلاش کرے۔
اس وقت پاکستان کا ہر ذی شعور شہری آئین کی اصل حالت میں بحالی اور ناحق قید سیاسی اسیران کی رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے- پاکستان کا نوجوان روزگار اور بہتر مستقبل کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مزدور اپنے معاشی حقوق اور باعزت زندگی کی جدوجہد کر رہا ہے۔ کسان اپنی محنت کا مناسب معاوضہ اور معاشی تحفظ چاہتا ہے۔ اور ہر شہری انصاف، مساوات، آئینی آزادیوں اور باوقار زندگی کا حق مانگ رہا ہے۔ ان آوازوں کو دھمکیوں سے نہیں بلکہ سنجیدہ سیاسی مکالمے اور مؤثر حکمرانی سے جواب دیا جانا چاہیے۔
27 ستمبر کا لانگ مارچ پُرامن رہے گا اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہوگا۔ ہم ریاستی اداروں اور فارم 47 حکومت سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ شہریوں کے آئینی حقوق کا احترام کریں گے، پُرامن سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کرنے کے بجائے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں گے۔
ملک اس وقت بہتر ہوگا جب دھمکیوں کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ دی جائے گی؛ جب عوامی رائے کا احترام ہوگا؛ جب پارلیمنٹ اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر طور پر ادا کرے گی؛ جب عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی یقینی ہوگی؛ آئین بحال ہو گا اور سیاسی اسیران رہا ہوں گے اور جب صحافت کو آزادانہ طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔
ہم کسی تصادم کے خواہاں نہیں۔ ہمارا مطالبہ واضح ہے: آئین کی بحالی، قانون کی حکمرانی، سیاسی اسیران کی رہائی ، بنیادی حقوق کا تحفظ اور عوام کی آواز کا احترام۔
دباؤ، دھمکی یا خوف ہماری پُرامن اور آئینی جدوجہد کا راستہ نہیں روک سکتے۔ ہم قانون کا احترام کرتے ہوئے اپنے جمہوری حق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
ادھر آ ستمگر، ہنر آزمائیں
تُو تیر آزما، ہم جگر آزمائیں۔
اردو ترجمہ 🚨
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اپنے اہلخانہ سے گفتگو (1 جولائی 2025)
نوٹ: یہ 1 جولائی 2025 کی ٹوئٹ کا دوبارہ شائع شدہ متن ہے۔
"ایک جعلی پارلیمنٹ کے ذریعے 27ویں آئینی ترمیم کا ڈرامہ رچانے کے بجائے بہتر ہے کہ ملک میں کھلم کھلا بادشاہت کا اعلان کر دیا جائے۔ کیونکہ اس وقت جو نظام چل رہا ہے وہ بدترین آمریت ہے جو زبردستی ملک پر مسلط کی گئی ہے۔
پاکستان کی بنیاد 'لا الہ الا اللہ' پر رکھی گئی تھی، اور یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کرتا ہے۔ ہمارے ملک نے انگریزوں کی غلامی سے آزادی کے لیے بے شمار قربانیاں دیں تاکہ ایک ایسا وطن بنے جہاں ہر شہری کو ذاتی آزادی ملے۔ لیکن آج صورتحال بالکل الٹ ہے۔ ایک مافیا پوری قوم کو غلام بنا کر رکھنا چاہتا ہے۔ میں اندھیری کوٹھڑی میں تنہائی کی قید برداشت کرنے کو تیار ہوں، لیکن غلامی کبھی قبول نہیں کروں گا۔ اور یہی میرا سب کو پیغام ہے کہ ایسی باطل زندگی سے جیل بہتر ہے۔ اگر باہر رہ کر بھی آزادی نہ ملے تو ایسی آزادی کا کیا فائدہ؟ اقبال کا شاہین اونچی اڑان بھرتا ہے، وہ غلامی کی زندگی نہیں جیتا۔
میں پوری قوم، خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اور حامیوں کو پیغام دیتا ہوں کہ: عاشورہ کے بعد اس ظالمانہ نظام کے خلاف تحریک کا آغاز کریں۔ میرے لیے ایسی غلامانہ زندگی سے موت بہتر ہے۔
میری آواز کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے تاکہ میرا پیغام لوگوں تک نہ پہنچے اور کوئی ظلم کے خلاف کھڑا نہ ہو سکے۔ لیکن میں اخری سانس تک اس ظلم کا مقابلہ کروں گا۔ مجھے اپنے رب پر پورا یقین ہے کہ ناانصافی کا یہ اندھیرا جلد ختم ہوگا۔
کسی بھی جمہوریت کے چار بنیادی ستون ہوتے ہیں: ووٹ کا حق، قانون کی حکمرانی، اخلاقیات، اور آزاد میڈیا۔ لیکن 26ویں آئینی ترمیم نے ان چاروں کو تباہ کر دیا ہے:
ووٹ کا حق: ایک ڈکٹیٹر کو عوامی رائے کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ زور زبردستی سے حکومت کرتا ہے۔ فارم 47 کے ذریعے بننے والی نالائق اسمبلیوں اور مخصوص نشستوں کی غلط تقسیم نے عوام کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی قیمت نہیں ہے۔
قانون کی حکمرانی: عدالتوں کو حکومت کا ایک ذیلی ادارہ بنا دیا گیا ہے۔ من پسند ججوں کو اوپر لایا جا رہا ہے جبکہ آزادانہ فیصلہ کرنے والے ججوں کو خاموش کر دیا گیا ہے۔ یہ جمہوریت نہیں بلکہ مارشل لا کی نشانی ہے۔
اخلاقیات: اس ترمیم نے تمام اخلاقی قدروں کو ختم کر دیا ہے۔ جو لوگ عوام کے سچے نمائندے نہیں ہیں وہ اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔ رکن اسمبلی کی خرید و فروخت کھلم کھلا ہو رہی ہے اور عدالتیں بھی اس مافیا کے نیچے کام کر رہی ہیں۔
آزاد میڈیا: آمریت میں میڈیا کو پابند کر دیا جاتا ہے۔ بولنے کی آزادی مکمل ختم کر دی گئی ہے۔ آزاد صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور باقیوں کو خرید لیا گیا ہے۔
پرامن احتجاج ہمارا جمہوری اور آئینی حق ہے۔ لیکن اس کے باوجود پنجاب اسمبلی میں احتجاج کرنے پر ہمارے 26 رکن صوبائی اسمبلی (MPAs) کو معطل کر دیا گیا۔ میں احمد بھچھر اور پی ٹی آئی کے تمام اراکین کو شاباش دیتا ہوں جنہوں نے ان فرعونوں کے سامنے آواز اٹھائی۔ جب تک ہمارے 26 اراکین کو بحال نہیں کیا جاتا، ہمارے تمام نمائندوں کو اسمبلی کے باہر اپنا اجلاس کرنا چاہیے۔ ویسے بھی فارم 47 کی یہ اسمبلیاں عوام کی نمائندگی نہیں کرتی ہیں۔"
Former Prime Minister Imran Khan in conversation at Adiala Jail - 24 July 2025
Note: This is a repost of the tweet from 24th July 2025
“We have knocked on every door, but no one has listened. I had asked for dialogue only once, and that too was conditional upon commissions to investigate the events of November 26th (2024) and May 9th (2023) being formed. It was Asim Munir who ordered the shooting of unarmed civilians on November 26th. I reiterate there is no longer any room for dialogue because this group has completely hijacked the entire system.
I have instructed Barrister Gohar, Salman Akram Raja, Ali Amin Gandapur, and Junaid Akbar to ensure the protest movement runs with full force. The objective of this movement must be the restoration of justice, the supremacy of law, and the protection of the Constitution. If we fail to raise our voices in the streets, this group of oppressors will gradually finish off our parliamentary party as well. I am standing firm; all of you must also stand firm.
Eighty percent of the people of Pakistan stand with me and we are entitled to fight for our rights. I am aware that 90% of the electoral fraud took place between polling and the compilation of results. I campaigned for the implementation of Electronic Voting Machines (EVMs) for two years. If EVMs had been used on February 8th (2024), the game would have ended there and then. I still say today: if transparent elections are desired, EVMs must be introduced, and rigging will end once and for all.”
Former Prime Minister Imran Khan in Conversation with Members of his Family - Adiala Jail (July 1, 2025)
Note: This is a repost of the tweet from July 1, 2025.
“Instead of going through the formality of introducing a 27th constitutional amendment through a sham parliament, it would be better to openly declare a monarchy, because what exists today is outright dictatorship, forcibly imposed on the country.
The very foundation of Pakistan was laid on La Ilaha Illallah (There is no god except Allah), a declaration that liberates mankind from all forms of slavery. Our country was freed from British rule through immense sacrifices to establish a nation where every citizen would enjoy personal liberties. But the situation is completely the opposite. A mafia seeks to keep the entire nation enslaved. I am willing to endure solitary confinement in a dark prison cell, but I will never accept slavery. And that is my message to everyone: it is better to choose imprisonment than to live in such bondage. What is the value of freedom if, outside these walls, we are not truly free? Iqbal’s Shaheen (eagle) soars high, it does not live in servitude.
I give this call to the entire nation, especially to the workers and supporters of Pakistan Tehreek-e-Insaf: Launch a movement after Ashura against the tyrannical system that has gripped this country. For me, death would be better than accepting a system built on slavery.
Every attempt is being made to suppress my voice so that my message does not reach the people and no one dares to stand up against oppression. But I will resist tyranny until my very last breath. I have complete faith in my Creator that this shadow of injustice will soon be lifted from Pakistan.
There are four pillars integral to any democracy: the right to vote, the rule of law, moral integrity, and a free press. The 26th Constitutional Amendment has effectively dismantled all four:
1. The Right to Vote: A dictator has no need for public mandate; he governs through force. The illegitimate assemblies formed via Forms-47, and the subsequent distribution of reserved seats, have only reinforced the perception among the people that their votes hold no value.
2. The Rule of Law: The judiciary has been reduced to a subordinate department of the government. Courts are packed with handpicked judges, while independent judges have been silenced. This is a hallmark of martial law, not democracy.
3. Moral Fabric of Society: This amendment has buried all ethical values. Individuals who are not true representatives of the people now occupy seats in the assemblies. Horse-trading of assembly members continues with impunity, and even the judiciary operates under the thumb of this mafia.
4. Free Media: Under a dictatorship, the media is bound in chains. Freedom of expression has been entirely curbed. Independent journalists are being targeted, while the rest have been bought off.
Peaceful protest is a fundamental democratic and constitutional right. Yet, 26 of our MPAs were suspended for staging a protest in the Punjab Assembly. I commend Ahmad Bhachar and all PTI MPAs who had the courage to challenge these pharaohs. Until our 26 members are reinstated, our elected representatives should hold their own assembly outside. The Form-47-based assemblies do not represent the people, in any case.”
نئے میجر جرنل :
آج عاصم منیر نے 14 نئے میجر جرنل بنا دیے - تمام عزت دار اور با وقار جرنل جو ریٹائر ہو گئے کئی بار عاصم منیر کو کہ چکے اور لکھ چکے مگر اس میں عقل نہیں ہے وہ ایک تھرڈ کلاس افسر تھا جو دو بار PMA میں فیل ہوا اور سازش کرکے فوج کا چیف بن گیا - اب اس نے اپنی طرح کے نا لائق لوگوں کو ترقی دے کر فوج کو مکمل برباد کرنا ہے - ابھی تین سٹار جرنیلوں کی باری آنی ہے -
کیا پوری فوج یہ پتلی تماشا خاموشی سے دیکھتی رہے گی یا کچھ افسر عاصم منیر سے جا کر کہیں گے "بس سر کھیل ختم ہو گیا " جیسے جرنل یحییٰ سے کہا تھا اور جرنل مشرف کو گھر بھیجا تھا - اگر ایسا نہیں ہوا تو یہ نا لائق پوری فوج اور ملک کو بیچ دے گا پھر بہت دیر ہو چکی ہوگی -
بلوچستان ہاتھ سے نکل چکا ہے لیکن جرنیلوں کا نمائندہ نیہتے لوگوں کو گولیوں کی دھمکیاں دے رہا ہے جبکہ بلوچستان میں انکو جادو کی جپھی اور چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا گیا ہے یہ کمزور کے سامنے شیر اور طاقت ور کے سامنے گیدڑ ہیں!
سیٹ جدہ میں خریدا گیا۔ رائل فیملی نے خریدا۔ انگوٹھی اور جھمکے 2021 میں جبکہ ہار اور بریسلیٹ 2023 میں خریدے گئے۔ برطانیہ والی شاپ 2 سال پہلے کھلی جس میں ابھی تک کوئی بڑا سیٹ نہیں بکا لہذا کمپنی اسے بند کرنے کا سوچ رہی ہے۔سیٹ کی کل قیمت 23.2 ملین ڈالرز جو کے 642 کروڑ روپے ادا کی گئی۔ اب یہ تحفہ پاکستان کیسے آیا؟ کیا اسکا ذکر توشہ خانہ میں ہے؟ کیا اس پر کوئی ٹیکس دیا گیا ہے؟ یہ سوالات میڈیا اور FBR کو ضرور کرنے چاہئیں۔ اور یہیں باقی خبر بھی ملے گی۔ اور ہاں ییلو ڈائمنڈ والے انتہائی بیش قیمت 2 بڑے سیٹ اس کمپنی نے ڈیزائن کیے تھے جن میں سے ایک ڈیزائن یہ ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
کوہاٹ دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے والا حافظ گل بہادر گروپ دس بارہ سال تک “گڈ طالبان “ کے منصب پر فائز رہا۔
یہ جو دہشتگردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے ، وقفہ ۔
سعودی عرب بہت بری طرح پھنس چکا ہے۔ بلکہ پھنسا دیا گیا ہے۔ بچاؤ کا راستہ نہيں ہے۔
سعودی عرب کی مہلک غلطی یمن پر امریکہ کی فالس انٹیلیجنس پر حملہ تھا۔ یہ امریکی اور صیہونی ٹریپ تھا جس میں سعودی عرب پھنس گیا۔
اب سعودی عرب اس دلدل میں دھنستا چلا جائے گا اور کوئی اسے بچا نہيں پائے گا۔
امریکہ سعودی عرب کو دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم بیجھ رہا ہے۔ 5 ارب ڈالرز اس کے لئے لیے ہیں۔ سعودیہ ان ایک ٹن وزنی بموں کو یمن پر گرائے گا۔ معصوم شہری مارے جائیں گے۔ غصہ اور نفرت بڑھے گی۔ اور سعودی عرب کے اندر سے فدائی حملے شروع ہوجائیں گے۔ یمن سے سعودی انفراسٹرکچر پر حملے تیز ہوجائیں گے۔ ایکسپورٹس زیرو ہو جائیں گی۔ 800 ارب ڈالرز امریکہ واپس نہيں کرے گا۔ سعودیہ کے پاس پیسے ختم ہو چکے ہیں۔ اس لئے دفاعی معاہدے والے بھی تسلی دیں گے آگے نہیں آئیں گے۔ آ بھی نہيں سکتے۔ غلطی ہوگی۔
اس دوران جو سب سے زیادہ خطرناک بات ہوسکتی ہے وہ اسرائیل کا مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں فالس فلیگ آپریشن ہوسکتا ہے۔ اس کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ اس سے فتنہ پوری اسلامی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
یہ ہے انتہائی خطرناک صورتحال جس میں سعودی عرب کو ٹریپ کر لیا گیا۔ سعودی عرب سے محبت کرنے والے اب سوشل میڈیا پر ہذیان بک کر اسے نجات نہيں دلوا سکتے۔
واضح ہو گیا ہے کہ ہمارے جرنیل یا اسٹیبلشمنٹ، انڈیا سے بڑھ کر ہمارے دشمن ہیں۔ کوہاٹ کے دھماکے کے بعد محسن نقوی آ کر کہہ رہے ہیں کہ جماعتِ اسلامی یا تحریکِ انصاف اپنے دھرنے ختم کرو۔
تم نے پہلے بھی اپنا مفاد حاصل کرنے کے لیے بے قصور لوگوں کو قتل کیا ہے۔ تم جو اتنی مہنگائی کر رہے ہو، عوام کو لوٹ رہے ہو، تو عوام اسلام آباد کیوں نہ آئے؟ پیٹرول پر لیوی کس چیز کی ہے؟ کیا آئی پی پیز تمہارے نہیں ہیں؟ غریب عوام کہاں جائیں؟ کوئی بات ہو جائے تو آئی ایم ایف کو سامنے کر دیتے ہو۔
تمہیں آئی ایم ایف گیارہ، گیارہ ارب کے جہاز لینے دیتا ہے، لیکن عوام کو ریلیف نہیں دینے دیتا۔ ان کے پاس اس جہاز کی کوئی جسٹیفکیشن نہیں ہے۔
مریم نواز نے برطانیہ جانے کا اڑھائی کروڑ روپے کرایہ دیا ہے۔ اگر یہ جہاز نہ ہوتا تو بھی آپ اڑھائی کروڑ میں سفر کرتیں۔ کل وہ ملتان میں اپنے UK کے سفر کی رسیدیں پیش کر رہی تھیں۔
کل مریم نواز ملتان میں کہہ رہی تھیں کہ کارڈیالوجی میرے والد نے بنایا۔ جس مینارِ ہسپتال میں وہ کھڑی تھیں، اس کا آغاز کس نے کیا؟
کارڈیالوجی کا منصوبہ میں نے بنایا، جب میں ہیلتھ منسٹر تھا۔ اس کے فنڈز بھی میں نے مختص کیے۔ مینار کینسر ہسپتال پہلے سے موجود تھا، لیکن میں نے اسے بھی اپ گریڈ کیا اور جدید مشینری فراہم کی۔
میرے علاوہ ملتان کے کسی اور ممبر نے نشتر کالج، ایئرپورٹ اور باقی بڑے بڑے منصوبوں کا مطالبہ ہی نہیں کیا۔ صرف میں تھا جو اس خطے کے لیے آواز اٹھاتا رہا۔
نواز شریف ایئرپورٹ کا کریڈٹ یوسف رضا کو دیں گے، کارڈیالوجی کا کریڈٹ پرویز الٰہی کو دیں گے، اس کا فنڈ فنانس ڈویژن سے بھی میں نے منظور کروایا، لیکن جاوید ہاشمی کا نام وہ کبھی نہیں لیں گے۔ حالانکہ کبھی یوسف رضا اور پرویز الٰہی نے کبھی کلیم بھی نہیں کیا۔
اس وقت میاں نواز شریف خود کہتے تھے کہ جاوید ہاشمی بازو مروڑ کر کام لے لیتا ہے۔
میرے بھائی کا فارم اب گرایا گیا ہے۔ کیا میں نے مریم نواز کا نام لیا؟ میں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے گرایا۔ ان کی اتنی ہمت بھی نہیں۔
میرا کنٹرول شیڈ عمران خان کی حکومت میں گرایا گیا۔ مجھے پتا تھا کہ گرانے والی اسٹیبلشمنٹ ہے۔
میں اگر ان کی کرپشن کا حصہ دار بنتا تو اپنے علاقے میں کوئی ترقیاتی کام نہ کروا سکتا۔ اگر میں نواز شریف کی شوگر مل کی پیشکش مان لیتا، پلاٹ لے لیتا، تو آج بات کرنے کے قابل نہ ہوتا۔ مجھے اپنے موقف کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔
سہیل آفریدی مضبوطی سے کھڑا ہے، اسے salute کرتا ہوں۔
آج پاکستان کا جرنیل بزدل اور ڈرپوک ہے، ورنہ اسی مٹی نے دنیا کے بہادر ترین جرنیل پیدا کیے ہیں۔ تم نے ان کا نام مٹی میں ملا دیا۔
مجھے یہ کیوں نہیں پکڑتے؟ پہلے ایک عمران خان ان سے نہیں سنبھل رہا۔
میرا پیغام چودہ کروڑ لوگوں تک پہنچا ہے، مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر، جیسے ٹوئٹر، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک وغیرہ۔
The Defence Minister is right. It’s why I have never been considered Jewish by the Jewish community. My mother was a Church of England Protestant. And by this logic, my father was not Jewish either. His mother was a French Catholic. As ever, in attempting to undermine my sons, Pakistan’s Defence Minister has scored an embarrassing own goal.
ہماری آئی ایس آئی میرے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ میں نے اپنے شہر اور اپنے ملک کے لئے اپنا خون پسینہ دیا ہے۔
میں نے نواز شریف کا بازو مروڑ کر 1999ء میں ملتان میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنوایا، بعد میں مشرف نے بھی 7 ارب روپے دیے۔ مخدوم رشید، جہانیاں اور بستی ملوک میں ڈگری کالج بنوائے، اپنے علاقوں میں لاتعداد اسکول بنوائے۔
ملتان میں لڑکیوں کا ایک ڈگری کالج تھا، میں نے سات کالج بنوائے، یونیورسٹیاں بنوائیں۔ ملتان کے لوگ مجھے محسنِ ملتان کہتے ہیں۔
پاکستان کی بات کرتے ہو؟ ہم نے پاکستان بھی بنایا ہے۔ میرے باپ اور دادا مسلم لیگی تھے۔
اس ملک کے غدار تم ہو۔ تم نے ہمیشہ اسے توڑا ہے، آج بھی لوٹ رہے ہو۔ اب مجھ سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ مانگنے کی کوشش نہ کرو۔
🔥 اینکر: حامد رضاسنی اتحاد کےتھے ان کا9 مئی سے کیا لینا دینا ان کو کس چکر میں 10 سال کی سزا ہوئی💪🏻
وزیر مملکت: انہوں نے PTI جوائن کرلی تھی
پٹوارن کے منہ سے سچ نکل گیا🫡