@PTIofficial@Kasim_Khan_1999 If meeting their father is truly their priority, they can come to Pakistan themselves. Staying abroad and making statements only keeps the controversy alive.
@Al_Muqatil786 Allah is fitna khwaarij ko jar sy khatm kr dy. jo jo bhi mulk k shair inke khelaaf operations kr rhe hn Allah unko har medan me kamiyabi dy
India has long supported militants in Balochistan. Now, amid growing unrest within India, some may see it as a reminder that the consequences of instability can extend beyond borders.
The consequences of regional instability can be far-reaching.
Story of Betrayal‼️‼️
She spent years inside Sandeman Hospital Quetta as police surgeon.
Same mortuary.
Same tables.
Same official forms.
She opened bodies of FC men shot on the highway.
Policemen blown apart while performing duty.
Labourers pulled from buses and shot point blank.
Torn bodies of Women and children brought in after roadside blasts.
She wrote the cause of death.
She signed the report.
She took salary from Government of Pakistan and enjoyed perks.
Her duty demanded her to write a book and shame the barbarous FAH for what all she saw.
But on contrary she walked into Quetta Press Club and called the same FAH terrorists “brave fighters,” “fearless soldiers,” and “our heroes.”
A doctor glorifying the barbarians who keep filling her morgue.
This is not politics.
This is betrayal with a stethoscope.
Her name is Police Surgeon Dr Ayesha Faiz.
Shameless
Heartless
Ungrateful
پاکستان کا انتظامی اور حکومتی نظام چھ تہوں (6 Tiers) پر مشتمل ہے۔
جو وفاق سے شروع ہو کر صوبوں ضلعوں تحصیلوں اور 40 ڈویژنز سے ہوتا ہوا 6,500 سے زائد یونین کونسلوں تک جاتا ہے،
پنجاب، جس کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 77 لاکھ ہے، میں 10 ڈویژنز ہیں، جبکہ بلوچستان، جس کی آبادی صرف تقریباً 1 کروڑ 49 لاکھ ہے، میں 11 ڈویژنز موجود ہیں۔یعنی آبادی کے ایک چھوٹے سے حصے کے لیے زیادہ ڈویژنز ہونے کے باوجود حکومتی رسائی اور انتظامی مؤثریت مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ پاتی
ہم جب پاکستان میں نئے صوبوں کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ جو انتظامی اکائیاں پہلے سے قائم ہیں، وہ کیوں موثر نہیں انھوں نے کیوں ڈلیور نہیں کیا
کیا انہیں واقعی مالی اور انتظامی اختیارات حاصل ہیں،
سچ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اختیارات کا ایک بھیانک ارتکاز پایا جاتا ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد وفاق نے فنڈز صوبوں کو تو منتقل کر دیے، لیکن صوبائی دارالحکومتوں میں بیٹھے حکمران ان فنڈز پر سانپ بن کر بیٹھ گئے۔ جو فنڈز صوبائی فنانس کمیشن (PFC) کے ذریعے40 ڈویژنز 169اضلاع، تحصیلوں اور یونین کونسلوں تک پہنچنے چاہیے تھے، یہ فنڈز صوبائی وزرائے اعلیٰ کے پاس مقید ہو گئے
فنڈز کا بڑا حصہ بلدیاتی اداروں یا ضلعی انتظامیہ کے بجائے صوبائی وزراء اور ارکانِ اسمبلی (MPAs) کو "ترقیاتی فنڈز" کے نام پر دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے فنڈز کا استعمال عوامی ترجیحات کی بجائے سیاسی وفاداریوں پر ہوتا ہے۔
پاکستان کا موجودہ انتظامی نظام انگریز دور کے "نوآبادیاتی ماڈل" (Colonial Model) پر چل رہا ہے، جہاں ڈویژن اور ضلع کا مقصد عوام کی خدمت نہیں بلکہ صوبائی حکومت کا کنٹرول قائم رکھنا ہے۔
اور اس کنٹرول کو بیوروکریسی قائم کرتی ہے
ایک ڈی سی یا کمشنر کسی عوامی الیکشن کے ذریعے نہیں آتا، وہ ایک بیوروکریٹ ہوتا ہے جس کا تبادلہ وزیراعلیٰ کی ایک جنبشِ قلم سے ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ان افسران کی وفاداری مقامی عوام کے ساتھ نہیں بلکہ صوبائی دارالحکومت میں بیٹھے ان کے سیاسی آقاؤں کے ساتھ ہوتی ہے۔چنانچہ یہ بھی خدمت نہیں سیاسی کنٹرول قائم کرتے ہیں
نچلی سطح پر اختیار کا اندازہ یہاں سے لگائیں کہ ایک ضلع کے تعلیمی افسر کو تبادلے کے لیے صوبائی سیکریٹریٹ کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔
جب ایک ڈویژن یا ضلع مالی طور پر کنگال اور انتظامی طور پر لاہور، پشاور، کوئٹہ یا کراچی کا یرغمال ہوگا، تو وہ عوام کو کیا خاک خدمات فراہم کرے گا؟
صوبائی حکومتوں نے مقامی حکومتوں کے اس بلدیاتی نظام کو جان بوجھ کر قتل کر دیا جو عوام کے مسائل کا مقامی حل تھا۔ آئین کا آرٹیکل 140-A چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرو، لیکن ہماری صوبائی حکومتیں بلدیاتی نظام سے ڈرتی ہیں یہ منتخب میئرز اور کونسلرز کو فنڈز دینے کے بجائے متوازی بیوروکریٹک کمپنیاں بنا کر بیٹھ گئ کیونکہ افسر شاہی کو کنٹرول کرنا آسان ہوتا ہے اور عوام کے نمائندوں کو جواب دینا پڑتا ہے۔
لندن کا میئر ہو یا نیویارک کا، ان کے پاس اپنے شہر چلانے کے لیے کھربوں کا بجٹ اور مکمل اختیارات ہوتے ہیں۔ وہ صوبائی یا وفاقی حکومتوں کے محتاج نہیں ہوتے
پاکستان لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت جو اختیارات بلدیاتی اداروں کو ملنے چاہئیں تھے، صوبائی حکومتوں نے وہ اختیارات چھیننے کے لیے متوازی بیوروکریٹک ادارے بنا دیے۔مثلاً شہروں میں کونسلرز کے ہوتےہوئے صفائی کے لیے ویسٹ مینجمنٹ کمپنیاں، پانی کے لیے (WASA)، اور ترقیاتی کاموں کے لیے(LDA)، (KDA) یا (BDA) جیسے ادارے بنا دیے گئے۔ان کمپنیوں کے سربراہان بیوروکریٹس ہوتےہیں جن کا بجٹ اربوں میں ہوتا ہے، جبکہ نچلی سطح پر یونین کونسل کے چیئرمین کے پاس دفتر کے بجلی کا بل دینے کے پیسے بھی نہیں ہوتے۔ جب بنیادی اکائی مالی طور پر کنگال ہوگی، تو وہ خدمات کیا خاک فراہم کرے گی؟
اگر بہاولپور، ملتان یا رحیم یار خان، ہزارہ کو مالی اور انتظامی طور پر خود مختار کر دیا جائے، وہاں ہائی کورٹ کے مستقل بنچ، تمام محکموں کے صوبائی سیکریٹریز کے علاقائی دفاتر قائم ہوں اور مقامی ٹیکس کا 70 فیصد اسی علاقے پر خرچ ہو، تو کسی کو نیا صوبہ بنانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوگی۔چونکہ صوبائی حکومتیں اختیارات کا یہ Centralizationختم نہیں کرنا چاہتیں، اس لیے عوام کے پاس نیا صوبائی دارالحکومت مانگنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا تاکہ وسائل ان کے قریب آ سکیں
پاکستان میں انتظامی تہوں کی تعداد (6) تو ضرور ہے، لیکن تیسری (ڈویژن)، چوتھی (ضلع)، پانچویں (تحصیل) اور چھٹی (یونین کونسل) تہوں کے پاس اپنی کوئی مالیاتی اور قانونی خودمختاری نہیں ہے۔ یہ آخری چاروں تہیں فنڈز اور پالیسیوں کے لیے مکمل طور پر دوسری تہہ (صوبائی دارالحکومت) کی محتاج ہیں، جس کی وجہ سے یہ پورا نظام مفلوج دکھائی دیتا ہے اور نئے صوبوں کا مطالبہ جنم لیتاہے
🇵🇰 Pakistan Needs an Administrative Reset
With a population of 240M+, Pakistan is still governed through just four massive provinces. A structure designed for a country of only 30 million people in 1951.
A proposal to create 32 compact, division-based provinces + ICT aims to bring governance closer to citizens, reduce bureaucratic overheads and strengthen public service delivery.
Administrative boundaries not ethnic or linguistic divisions
Existing divisional infrastructure and institutions
Leaner governance and fewer duplicate bureaucratic layers
Potential savings of PKR 318 billion annually
More resources for education, healthcare, justice and frontline services
Smaller provinces are not about dividing Pakistan they are about strengthening the federation, improving accountability and bringing the state closer to its people.
🇵🇰 𝗣𝗮𝗸𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻 𝗠𝗮𝗻𝘂𝗳𝗮𝗰𝘁𝘂𝗿𝗶𝗻𝗴 𝗠𝗼𝗺𝗲𝗻𝘁𝘂𝗺 𝗦𝘁𝗿𝗲𝗻𝗴𝘁𝗵𝗲𝗻𝘀 — 𝗣𝗠𝗜 𝗛𝗶𝘁𝘀 𝟱-𝗠𝗼𝗻𝘁𝗵 𝗛𝗶𝗴𝗵
Pakistan’s HBL–S&P Global Manufacturing PMI rose to 51.8 in August, its highest since March, as manufacturing expansion continues.
▪️ New orders: fastest growth in 5 months
▪️ Exports: up for 4th straight month
▪️ Production: continues to expand
▪️ Input costs: inflation at 2026 low
▪️ Business confidence: among highest this year
Demand strengthens. Exports grow. Confidence builds. Momentum continues.
چوٹی کے تحقیقاتی صحافی پرویز سندھیلا نے انکشاف کیا ہے کہ بلاول زرداری اور شہزادی گلوریا کی شادی کی خبر بلکل درست تھی بس زرداری صاحب نے بلاول کو کہا کہ جہاں اتنا انتظار کیا وہاں چھ سات مہینے اور رک جاؤ۔
صوبوں والا معاملہ نمٹ لے پھر شادی کر لینا، ابھی وقت کا تقاضہ ہے کہ سندھ کے عوام کو سندھو دیش اور سندھی کلچر کا چورن بیچا جائے۔
یورپی لڑکی لائی تو اس چورن میں کیڑے پڑ جائیں گے۔
تجوری سلامت رہے، شادیاں بہت، گلوریاں بہت