’’YOU TOO BRUTUS‘‘
’’مجھ سے بھول ہو گئی‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سہیل وڑائچ صاحب کی دس پیش گوئیاں، جو وقت کی کسوٹی پر پوری نہ اتر سکیں
سہیل وڑائچ پاکستان کے معروف کالم نگار اور سیاسی تجزیہ نگار ہیں۔ ان کے کالم ملکی سیاست کے منظرنامے کو سمجھنے کے لیے پڑھے جاتے ہیں، لیکن سیاست میں پیش گوئی ایک الگ فن ہے؛ یہاں الفاظ لکھے جاتے ہیں اور پھر وقت ان کا امتحان لیتا ہے۔ وڑائچ صاحب کی گزشتہ چند برسوں کی تحریروں میں ایسی متعدد پیش گوئیاں اور سیاسی اندازے بھی ملتے ہیں جو بعد کے حالات سے مختلف ثابت ہوئے۔ چند نمایاں مثالیں ملاحظہ ہوں:
1۔ ’’کالاباغ ڈیم: سب رکاوٹیں ختم!‘‘ 19 ستمبر 2018ء۔ ہیلو ہیلو ساتھیو مجاہدو !
وڑائچ صاحب نے لکھا کہ کالاباغ ڈیم کی تمام بڑی رکاوٹیں ختم ہوچکی ہیں اور اس کی تعمیر اب کسی بھی وقت شروع ہوسکتی ہے، بلکہ ڈیم ’’ہر صورت بن کر رہے گا‘‘۔
نتیجہ: 2026ء آ گیا، مگر نہ ڈیم بنا، نہ تعمیر شروع ہوئی اور نہ سیاسی اتفاقِ رائے پیدا ہوسکا۔
2۔ ’’الیکشن 2023ء‘‘ 20 فروری 2021ء
اس کالم میں اندازہ تھا کہ عمران خان کی حکومت 2023ء تک چلے گی اور عام انتخابات بھی 2023ء میں ہوں گے۔
نتیجہ: حکومت اپریل 2022ء میں ختم ہوگئی اور عام انتخابات 2023ء کے بجائے 8 فروری 2024ء کو ہوئے۔
3۔ ’’گنتی پوری ہے!‘‘ 15 مارچ 2022ء
وڑائچ صاحب نے اندازہ لگایا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگی، شہباز شریف وزیراعظم بنیں گے اور اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کریں گی۔
نتیجہ: پہلے دو اندازے درست نکلے، مگر صوبائی اسمبلیاں مدت پوری نہ کرسکیں اور اگست 2023ء میں تحلیل ہوگئیں۔
4۔ ’’تحریک انصاف جب تک کمزور نہیں ہوتی الیکشن نہیں ہوں گے‘‘ 9 جولائی 2023ء
جیو کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں یہ سیاسی پیش گوئی سامنے آئی کہ تحریک انصاف کے کمزور ہوئے بغیر انتخابات نہیں ہوں گے۔ (حالانکہ یہ پتھر پہ لکیر تھا، بقول قاضی صاحب !)
نتیجہ: 8 فروری 2024ء کو انتخابات ہوئے، جبکہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار قومی اسمبلی میں ایک بڑا انتخابی گروپ بن کر سامنے آئے۔
5۔ ’’اس کے آنے کے بعد؟‘‘ 24 اکتوبر 2023ء
نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد وڑائچ صاحب نے لکھا کہ ’’اسے اقتدار دینے کی تیاریاں‘‘ کی جاچکی ہیں۔حالانکہ (کہنے والے تو کہتے تھے کہ دلی دوراست)
نتیجہ: نواز شریف واپس تو آئے، مگر وزیراعظم شہباز شریف بنے۔ نواز شریف خود چوتھی بار وزیراعظم نہیں بن سکے۔
6۔ ’’الیکشن 2024ء کا انتخابی اندازہ‘‘ فروری 2024ء
انتخابات سے صرف چند روز قبل ن لیگ کے لیے تقریباً 100 سے 110 نشستوں کا اندازہ پیش کیا گیا۔
نتیجہ: ن لیگ کی جنرل نشستیں تقریباً 75 رہیں، جبکہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے اس سے زیادہ جنرل نشستیں حاصل کیں۔
7۔ ’’بنگلہ دیش ماڈل آ رہا ہے؟‘‘ 7 فروری 2024ء
انتخابات سے ایک دن قبل اندازہ لگایا گیا کہ نواز شریف وزیراعظم ہوں گے، ن لیگ حکومت بنائے گی اور پیپلز پارٹی وفاق میں اپوزیشن میں بیٹھے گی۔
نتیجہ: وزیراعظم نواز شریف نہیں بلکہ شہباز شریف بنے، جبکہ پیپلز پارٹی اپوزیشن کے بجائے حکومت کی اہم اتحادی بن گئی اور آصف علی زرداری صاحب صدر منتخب ہوئے۔
اسی کالم میں پاکستان کے لیے بنگلہ دیش طرز کے ایک مستحکم سیاسی بندوبست کے طویل عرصے تک چلنے کی توقع ظاہر کی گئی۔بلکہ
چند ہی ماہ بعد خود بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کا طویل سیاسی بندوبست ختم ہوگیا، جبکہ پاکستان میں بھی ایسا دس سالہ مستحکم ماڈل وجود میں نہیں آیا۔
YOU TOO BRUTUS . 8
انتخابات کے بعد عمران خان کے لیے ریلیف، مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کے ذریعے ایک نئے جمہوری دور کی امید ظاہر کی گئی۔
نتیجہ: وسیع تر سیاسی مفاہمت کا وہ راستہ اختیار نہ ہوسکا؛ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔
9۔ ’’کھچڑی پکنے لگی ؟‘‘ 13 جولائی 2024ء
اس کالم میں بظاہر مستحکم سیاسی بندوبست کے اندر پیدا ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں اور ’’متبادل انتظام‘‘ کی بحث کی گئی۔
10۔ ’’ونڈر بوائے‘‘
سہیل وڑائچ صاحب نے ’’ونڈر بوائے‘‘ کی آمد کا عندیہ دیا، جسے معروف کالم نگار نصرت جاوید صاحب کے کالم ’’دیدہ ور سے ونڈر بوائے تک‘‘ میں موضوع بنایا اور اس انتظار کو سموئیل بیکٹ کے معروف ڈرامے Waiting for Godot سے تشبیہ دی۔
نتیجہ: ونڈر بوائے آیا نہیں، مگر اس کا انتظار ضرور سیاسی موضوع بن گیا۔
’’ونڈر بوائے‘‘ کا انتظار… کہیں Waiting for Godot تو نہیں؟
نتیجہ: بعد کے حالات نے اس سیاسی نقشے کو سادہ انداز میں آگے بڑھنے نہیں دیا اور متوقع سیاسی تبدیلیاں اس انداز میں سامنے نہیں آئیں۔
مقصد کسی کی دل آزاری نہیں، صرف پیش گوئی اور حقیقت کے فاصلے کو دکھانا ہے۔ تجزیہ غلط ہو سکتا ہے، مگر سیاسی پیش گوئی کا فیصلہ ہمیشہ وقت کی عدالت کرتی ہے۔
(جاری ہے)
کل رات میں اپنی میڈیسن لینے سول ہسپتال کے سامنے کلینکس پر گیا تو ایک آدمی اتنے رش میں خاموشی سے میرے پاس آیا مجھے پرچی دکھائی کہ ماں کا آپریشن ہوا ہے مگر اندر ہسپتال سے دوائی نہیں مل رہی میرے پاس پیسے نہیں ہیں مجھے یہ دوائیاں لے دیں۔ رو رہا تھا وہ۔ ابھی کچھ دن پہلے میں بھی ایسے حالات سے گزرا ہوں۔ اس کو ساری دوائیاں لے دیں جتنی مدد کر سکتا تھا کردی۔
سوال یہ ہے کہ پنجاب میں کہا جاتا ہے کہ سول ہسپتال میں علاج بلکل مفت ہے مگر آپ حقیقت میں وہاں جاکر دیکھیں لوگ مر رہے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔
یا اللہ ہم پر رحم فرمادے۔