#Official Account || Political Analyst's ||Human Rights || Social Workar || Working For Kids || #PTIFamily#PMiK 🇵🇰 ße Kind With Human So Allah Will ße Kinde
۹ مئی سے پہلے بھی بہت ظلم ہو رہا تھا مگر اس وقت ادارے کے اندر شاید کافی لوگ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے تھے۔ اس فالس فلیگ آپریشن کا مقصد ایسا لگتا ہے کہ ادارے کے اندر آوازوں کو خاموش کرنا تھا جھوٹے دلائل سے۔ اور اس کے بعد عدلیہ کو بھی دھمکی دی گئی تھی! #May9th_FalseFlag
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان شیخ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتی ہے۔ یہ محض ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ انسانیت کا قتل اور ایک ناقابلِ تلافی علمی نقصان ہے۔
چیئرمین جمشید حسین کا پیغام واضح ہے:
”اختلاف کا حل گولی نہیں بلکہ مکالمہ ہے“۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سنگین جرم میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کیا جائے۔ علم کا زوال پوری قوم کا نقصان ہے۔ اللہ پاک حضرت کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
#hrcPakistan #humanrights #maulanaidrees #justiceformaulanaidrees #shaikhulhadith
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
DaadShah Baloch was forcibly disappeared for the second time on 21 April 2026. He has now been forcibly disappeared for 12 days. No authority has provided any information about his whereabouts or legal status. This pattern reflects a deliberate denial of due process and places his life at serious risk while his family continues to wait without answers.
Enforced disappearances are crimes against humanity. They remove individuals from the protection of the law and shield perpetrators through impunity. In Balochistan, this practice persists without transparent investigations or accountability. The absence of consequences enables repetition and deepens fear among affected communities.
The case of DaadShah Baloch requires urgent action. His family has the right to truth, justice, and protection without intimidation. Authorities must disclose his whereabouts, ensure his safety, and uphold the law. Ending enforced disappearances demands accountability and sustained pressure.
#ReleaseDaadShahBaloch
میں بلوچستان کے تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ خدیجہ بلوچ کے لیے متحد ہو جائیں۔
ان کے خاندان کو اس مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کی ضرورت ہے۔ چاہے وہ کوئٹہ میں BMC ہوں یا بلوچستان کے سی پیک روڈز پر جہاں بھی ہوں زیادہ سے زیادہ لوگ وہاں جا کر ان کے ساتھ کھڑے ہوں اور اپنی آواز بلند کریں۔
Advocate Imaan Mazari and Hadi Ali have now spent 100 days in prison. They were punished after raising their voices for victims of injustice and enforced disappearances. This case raises a serious question. Is standing with the oppressed a crime. Is speaking for fundamental rights a crime. Their continued detention for speaking the truth and demanding lawful protections reflects a grave injustice.
Both are legal professionals who have consistently defended families of the forcibly disappeared and other vulnerable communities. Their work reflects a clear commitment to justice, accountability, and dignity. Their imprisonment signals a shrinking space for dissent and creates fear among those who pursue justice through lawful means.
Their continued detention conflicts with Pakistan’s obligations under international law. The International Covenant on Civil and Political Rights guarantees freedom of expression, fair trial rights, and protection from arbitrary detention under Articles 9, 14, and 19. The Universal Declaration of Human Rights affirms these protections under Articles 9 and 19. The UN Basic Principles on the Role of Lawyers require that lawyers perform their duties without intimidation or interference. These obligations demand immediate compliance.
Immediate suspension of their sentences is required. Immediate release must follow. Authorities must ensure a fair and transparent judicial review, uphold due process guarantees, and end the misuse of legal provisions against human rights defenders.
@ICJ_Asia@amnestysasia@hrw
#ReleaseImaanAndHadi
خدیجہ بلوچ کے لواحقین بی ایم سی کے سامنے دھرنا دیے بیٹھے ہیں، مگر اب تک کسی قسم کی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی اور ریاستی بے حسی جوں کی توں قائم ہے۔
ہر گزرتا دن انتظار کو مزید اذیت ناک بنا رہا ہے، جبکہ لواحقین کے جائز مطالبات بدستور نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔
ظلم سے بھری دنیا میں سکون مت مانگو
ہمت مانگو ک جب سب جھک جائیں تم
کھڑے رہو جب سب خاموش ہوں تم
بولو جب سب ہار مان لیں تم لڑو
کیونکہ تاریخ باغیوں کو یاد رکھتی ہے
بزدلوں کو نہیں
@MahrangBaloch_#ReleaseMahrangBaloch#ReleaseBYCLeaders
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان، عالمی یومِ آزادیِ صحافت کے موقع پر، اُن تمام بہادر صحافیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے جنہوں نے حق، سچ اور آزادیِ اظہار کی راہ میں اپنی جانیں نثار کیں اور بالخصوص شہیدِ صحافت، جناب ارشد شریف مرحوم کو، جن کی بے باکی، جرأتِ رندانہ اور قلم کی حرمت آج بھی ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے۔
ارشد شریف نے اپنی پوری زندگی سچائی کی شمع روشن رکھنے میں صرف کی۔ اُن کی شہادت نہ صرف پاکستانی صحافت کا ایک المناک باب ہے بلکہ یہ اُس خطرناک ماحول کی بھی گواہی دیتی ہے جس میں آج آزاد آواز اٹھانا جان کا خطرہ بن جاتا ہے۔
ہم اس بات پر یقینِ کامل رکھتے ہیں کہ آزادیِ صحافت محض ایک پیشہ ورانہ حق نہیں بلکہ یہ ایک باشعور، شفاف اور جمہوری معاشرے کی بنیادی شرط ہے۔ جب تک صحافی بلا خوف و خطر سچ نہیں بول سکتے، جمہوریت کا دعویٰ ادھورا رہے گا۔
#hrcPakistan #WorldPressFreedomDay
#ArshadSharif #JusticeForArshadSharif #PressFreedom #HumanRights #Pakistan #FreedomOfSpeech #JournalismIsNotACrime
@javerias
Imaan Mazari-Hazir and Hadi Ali Chattha were sentenced to 17 years under the draconian PECA laws for raising their voices against enforced disappearances. Their crime was supporting victims by offering pro bono legal services and representing them in court.
They have now been in prison for over 100 days.
#ReleaseImaanAndHadi
اگر عمران خان اب تک وزیراعظم ہوتا تو اس وقت عوام کو فری بجلی 50 روپے پر لیٹر پٹرول مل رہا ہوتا جو اپنے ساڑھے تین سالہ اقتدار میں 10 لاکھ کا صحت کارڈ دے سکتا ہے وہ یہ سب بھی دیتا
Human rights lawyers Imaan Mazari and Hadi Ali Chattha have been unjustly imprisoned for 100 days now, serving their 10-year sentence for simply posting on social media.
Their appeals at the Supreme Court and Islamabad High Court have not been heard and face inordinate delays.
Join us in demanding their release.
📝 Take action now: https://t.co/2YdjMCAtGG
#ReleaseImaanandHadi
وہ صرف اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن وہ باہر آکر بولے گا۔ اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ۔ شاہ حسین خان
@ShahussainKha6#pakistan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں